ہاتھ پر ایک سے زیادہ شادی کی لکیروں کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ایسی حیران کن بات کہ جان کرآپ کے دل میں لڈو پھوٹنے لگیں گے

ہاتھ پر ایک سے زیادہ شادی کی لکیروں کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ایسی حیران کن بات کہ ...
ہاتھ پر ایک سے زیادہ شادی کی لکیروں کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ایسی حیران کن بات کہ جان کرآپ کے دل میں لڈو پھوٹنے لگیں گے

  

لاہور(نظام الدولہ)عام طور نوجوان اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ بتائیں ان کے ہاتھ پر شادی کی کتنی لکیریں ہیں ۔دراصل وہ یہ پوچھنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ انکی کتنی شادیاں ہوں گی ۔میں ایسے نوجوانوں کو جب یہ بات بتاتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ پر اگر ایسی چار لکیریں بھی ہوں تب بھی آپ دوسری شادی نہیں کرپائیں گے تو حیران ہوتے ہیں کہ پھر اتنی لکیروں کیا فائدہ ؟ ۔

ہمارے ہاں برسوں سے دست شناسوں نے لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہوئے اس غلط فہمی میں ڈال رکھا ہے کہ ہاتھ پر شادی کی جتنی لکیریں ہوں گی ،انکی اتنی ہی شادیاں بھی ہوں گی ۔آج سے پچاس سال پہلے تک تو اس کا امکان موجود تھا لیکن زمانہ بدلنے سے لوگوں کا رہن سہن بدل گیا ہے اور مخلوط تعلیم اور رجحانات کی وجہ سے ہاتھوں کی لکیروں کے مطالب بھی بدل گئے ہیں ۔سماجی زندگی ہاتھوں پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے اور یہی وجہ ہاتھ میں شادی کی لکیروں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے ۔

چھوٹی انگلی کے پہلو میں نیچے عطارد کے ابھارپر ہتھیلی کی جانب پھوٹ کر آنے والی لکیروں کو شادی کی لکیریں کہا جاتا ہے ۔ان میں سے کچھ بڑی اور کچھ چھوٹی لکیریں ہوتی ہیں ،جو لکیر بڑی ہوگی وہ شادی کی نمائندگی کرے گی ،تاہم اس سکیل میں اور بھی لکیریں ہوں تو ان کا مطلب دوسری تیسری شادی نہیں۔دراصل اس مقام پر ایک سے زائد لکیریں ہونے کا مطلب ہے کہ ایسا انسان صنف مخالف سے تعلقات رکھنے کا قائل ہے اور اسکے حلقہ احباب میں صنف مخالف موجود رہتی ہیں ۔انکے مزاج میں آزادی اور رنگینی پائی جاتی ہے ۔مردو عورت دونوں میں یہ خسوصیت پائی جاتی ہے۔اسکے برعکس ایسے لوگ جن کے ہاتھ میں صرف ایک ایسی لکیر ہوتی ہے ،انہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق خشک طبع کہا جاتا ہے ۔وہ صنف مخالف سے تعلق رکھنے سے گریزاں ہوتا ہے ۔ میں نے کئی لوگ ایسے دیکھے ہیں جن کی دو تین تین شادیاں ہوتی ہیں مگر ان کے ہاتھ میں شادی کی لکیر ایک ہوتی ہے اور وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں زیادہ ایسی لکیریں ہوں انہیں ایک ہی بیوی پر اکتفا کرتے دیکھا ہے ۔

دست شناسی کی رو سے شادی کی ان لکیروں کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس فرد کے جنسی میلانات کیا ہوسکتے ہیں۔اس کا انحصار زہرہ کے ابھار،دل و دماغ کی لکیر و دیگر ابھاروں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے ۔جنسی طور پر متشدد اور زنابدکاری کرنے والے لوگوں کے ہاتھوں میں بھی ایک لکیر دیکھی جاسکتی ہے ۔البتہ نفسیاتی طور پر الجھ کر جنسی پراگندگی میں مبتلا ہونے والوں کے اس مقام پر کئی لکیریں ہوسکتی ہیں اور انکی انگلیاں اور ہتھیلی بھی لمبی ہوسکتی ہے ۔ 

مزید : لائف سٹائل /مخفی علوم