مسافر ریل گاڑیاں مسلسل تاخیر کا شکار!

مسافر ریل گاڑیاں مسلسل تاخیر کا شکار!

کئی ماہ ہوئے کہ حادثے کی وجہ سے ریل گاڑیوں کے نظام اوقات متاثر ہوئے تھے، یہ اب تک بحال نہیں ہو سکے اور مسافر گاڑیاں مسلسل 5سے 6گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہیں، اب تو یہ بھی شکائت عام ہے کہ ایکسپریس گاڑیوں میں اونچے درجہ کی بوگیاں ابتر حالت میں ہیں، کھڑکیاں اور نشستیں خراب ہو چکیں، باتھ روم بھی قابل استعمال نہیں ہوتے، مسافر زیادہ رقم خرچ کرکے سہولت کی جگہ پریشانی اٹھاتے ہیں۔معاصر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز بھی کراچی اور کوئٹہ سے لاہور آنے والی تمام ٹرینیں تاخیر کا شکار رہیں، جبکہ بزنس کلاسوں میں سہولتوں کا فقدان ہے، رپورٹ کے مطابق کراچی ایکسپریس 5گھنٹے 40منٹ، پاک بزنس 2گھنٹے 55منٹ، شاہ حسین 3گھنٹے 30منٹ، فرید ایکسپریس 4گھنٹے 50، منٹ، قراقرم ایکسپریس 5گھنٹے 30 منٹ، اکبر ایکسپریس 4گھنٹے 20منٹ، گرین لائن 3گھنٹے 30منٹ، تیز گام 3گھنٹے 10منٹ، علامہ اقبال 2گھنٹے 50منٹ، جعفر ایکسپریس 3گھنٹے 35منٹ اور شالیمار ایکسپریس 3گھنٹے 30منٹ تک تاخیر کا شکار ہوئیں۔یہ حالات اس ریلوے کے ہیں، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اسے بہتر کارکردگی سے نقصان کی بجائے منافع بخش اور شہریوں کے لئے آرام دہ بنائیں گے لیکن یہاں تاخیر پر ہی قابو نہیں پایا جا سکا اور ایک وفاقی وزیر حماد اظہر نے الزام نہ صرف سابقین پر بلکہ اس سے بھی پہلے گزرے حضرات پر لگا دیا وہ کہتے ہیں کہ ریلوے کا نظام 70سال سے فرسودہ ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے قریباً ہر ہفتے لاہور آتے اور یہاں سیاسی بیان داغتے ہیں اپنے ان کے محکمے کا جو حال ہے وہ ٹرینوں کی تاخیر اور مسافروں کی شکایات سے ظاہر ہے، ریلوے کے حالات سے واقف حضرات کے مطابق وزیر ریلوے کریڈٹ کے لئے نئی ٹرینیں چلاتے اور بند ٹرینیں بحال کرتے چلے آئے لیکن نئی بوگیاں (کوچز) نہ لگا سکے اور پرانی کی لیپاپوتی کرکے کام چلایا گیا نتیجہ خرابی کی صورت میں موجود ہے۔ وزیرریلوے کو ذرا سیاست سے وقت نکال کر محکمہ کی طرف بھی توجہ دینا چاہیے کہ واقعی یہ سواری عام آدمی کے لئے ہے اگر بزنس کلاس کی کوچز کا حال مندا ہے تو اکانومی کلاس کا جو حال ہو گا وہ ظاہر ہے کہ پوری دیگ میں سے چند دانے ہی دیکھے جاتے ہیں، محترم شیخ رشید ریلوے کو بہتر بنانے کے دعوؤں کو سچ کرنے کے لئے توجہ بھی مبذول فرمائیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...