30کمیونسٹ چین کے قیام کی 70 ویں سالگرہ

30کمیونسٹ چین کے قیام کی 70 ویں سالگرہ
30کمیونسٹ چین کے قیام کی 70 ویں سالگرہ

  


ستمبر 2019ء کو چین میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قائم کردہ حکومت کو 70 سال پورے ہو گئے چینی صدر شی چن پنگ نے بیجنگ کے تیانامن سکوائر میں ایک عظیم الشان ملٹری پریڈ سے خطاب کیا یہ تقریب کمیونسٹ چین کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے منعقد کی گئی تھی اس تقریب میں چینی صدر نے فوجی پریڈ کا بھی معائنہ کیا اسمیں 15 ہزار سے زائد فوجیوں نے حصہ لیا یہاں منتخب کردہ آلات حرب و ضرب بھی رکھے گئے تھے 160 کے قریب جنگی طیارے اور 580 دیگر آلات نمائش کے لئے رکھے گئے تھے چینی صدر نے معائنے کے آخر میں ڈنیگ فینگ 41 نامی ایٹمی میزائل کی نقاب کشائی بھی کی جس کے بارے میں فوجی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ 30 منٹ میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے نمائش میں جدید میزائل اور ڈرون بھی رکھے گئے تھے۔

یہ تقریب بالکل اس جگہ منعقد کی گئی تھی جہاں آج سے 70 برس پہلے آج ہی کے دن (30 ستمبر 1949) کا مریڈ ماوزے تنگ نے پیپلز ری پبلک آف چائنا کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ چینی صدر نے 10 منٹ تک خطاب کیا اس تقریر کے ایک ایک حرف کے پس پردہ چینی عوام اور قوم کی انتھک محنت اور کامیابی کی کہانیاں ہیں چینی صدر نے اپنی تقریر میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ چینی قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کمیونسٹ پارٹی آف چائناکے پرچم تلے متحد ہونے / رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اتحاد لوھا اور سٹیل ہے اور طاقت کی بنیاد ہے۔

نہوں نے اپنے خطاب میں چینی قوم کو ان کے ماضی اور حال سے ہی نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ چین سو سال تک جہالت اور سازشوں کا شکار رہا اسے تعمیر و ترقی سے روکا گیا، حتیٰ کہ 70 سال قبل کا مریڈ ماؤزے تنگ کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا کمیونسٹ پارٹی آف چائناکی حکومت نے چینی عوام اور چینی قوم کو تعمیر و ترقی کی حیرت انگیز بلندیوں اور وسعتوں سے ہمکنار کر دیا ہے۔ اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں عظیم سے عظیم تر بننے سے روک نہیں سکتی ہے۔ چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی کے پہلے 30 سالوں کا تجزیہ اور محاسبہ بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسی دور میں ناکام ثقافتی انقلاب بھی برپا کیا گیا۔ اس کے باوجود ان 30 سالوں میں چین نے تعمیر و ترقی کے کئی مدارج طے کئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعمیر و ترقی کے جھنڈے گاڑے گئے صنعتی وسعت اور انسانی سرمائے کو فروغ دیا گیا۔ کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی کے 30 سالوں کے دوران معاشی اعشاریوں میں خاطرخواہ بڑہوتی ہوئی۔

انہی بنیادوں پر ڈینگ زیاؤپنگ نے ”اصلاحات اور کھلے پن“ کے پروگرام کو اپنایا، جس کے ذریعے چین نے گزرے 40 سالوں میں معاشی ترقی کی حیران کن مثالیں قائم کیں۔

ویسے تو ”چین میں کرنے کی فہرست“ تو بہت طویل ہے، لیکن چینی قیادت معاشی ناہمواریوں کو کم کرنے، ماحولیاتی نقصانات کو واپس کرنے اور معیشت کی ری سٹرکچرنگ کرنے کے پروگراموں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ چین کی معاشی تعمیرو ترقی حیران کن ہے۔ اس کا حجم لا محدود لگتا ہے،لیکن اس معاشی ترقی کے ثمرات کو تقسیم دولت نے منصفانہ سسٹم کے ذریعے معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانا ایک مشکل کام ہے۔ چینی قیادت اس طرف توجہ دے رہی ہے۔ دوسری طرف صنعتی ترقی کے باعث بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل پر قابو پانا بھی چینی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ظاہر ہے جب کارخانے چلیں گے۔ فیکٹریاں دن رات کام کریں گی تو فضا آلودہ تو ہو گی پھر صنعتی فضلے کے باعث زمین بھی آلودہ ہو گی پانی میں بھی آلودگی جائے گی۔ دریا اور سمندر بھی آلودگی کا شکار ہوں گے۔

چینی معیشت کی نمو کی شرح کم ہو رہی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ چینی معیشت عالمی میدان میں قائدانہ کردار ادا کرنے چلی ہے۔اس کا دیو قامت حجم اور متنوع مصنوعات عالمی منڈی پر چھائی ہوئی ہیں۔ چین نے کبھی کسی ”عالمی کھلاڑی“ کو نہ للکارا ہے اور نہ ہی اسے غصہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ چین معاشی، معاشرتی اور عسکری طور پر کسی بھی قوم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن عملاًوہ ”عالمی چودھری“ کی چودھراہٹ کو چیلنج کر رہا ہے۔

ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا میدان ہو یا برآمدات کا حجم صنعتی پیداوار ہو یا عسکری آلات کی فروخت ہر شعبے میں چین نہ صرف مدمقابل ہے،بلکہ آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ کے بین البراعظمی منصوبے نے تو امریکہ کی رات کی نیندیں اور دن کا چین حرام کر رکھا ہے۔ چین پر کبھی تجارتی پابندیاں لگائی جاتی ہیں کبھی ہانگ کانگ میں مسائل پیدا کئے جاتے ہیں اور کبھی تائیوان کا مسئلہ کھڑا کر کے چین کو انگیخت کیا جا رہا ہے،لیکن چینی قیادت بڑی سبک خرامی کے ساتھ اپنے طے کردہ اہداف کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔

چینی صدر نے تقریب سے اپنے خطاب میں بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا ہے کہ وہ چین کی پر امن ترقی کے سفر کو جاری رکھیں گے۔دنیا کی کوئی طاقت انکی راہ کھوٹی نہیں کر سکتی ویسے انہوں نے ڈینگ فِنگ 41 نامی ایٹمی میزائل کی نقاب کشائی کی ہے۔ گویا چینی قیادت نے بتا دیا ہے کہ اب امریکہ بھی چینی میزائلوں کی رینج میں آگیا ہے۔ چین صرف معاشی عالمی طاقت نہیں ہے، بلکہ وہ عسکری طور پر بھی کسی بھی عالمی طاقت سے پنجہ آزمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین نے تائیوان کے مسئلے پر اپنے اس عزم صمیم کا عملی مظاہرہ کر کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ھانگ کانگ میں "پیلی شرٹ " تحریک کے بارے میں چینی حکام کا خیال ہے کہ اسے کچھ مغربی ممالک کی آشیرباد حاصل ہے۔ چینی حکومت اس تحریک کے ساتھ بھی آھنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے پر عزم دکھائی دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے چینی اثرات کو کمزور کرنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کی تھی چینی مصنوعات پر مختلف قسم کے ٹیکس عائد کر کے ان کی راہ کھوٹی کرنے کی سعی کی تھی، لیکن چین کے ترکی بہ ترکی جواب نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے قدم روک دئیے ہیں، کیونکہ چین کے جوابی اقدامات کے باعث امریکی تجارت بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی تھی۔

ھواوے کے ساتھ امریکہ کی چھیڑ چھاڑ نے بھی چین کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ امریکہ نے چین کی 5-G ٹیکنالوجی کو پوری مارکیٹ میں آنے سے روکنے کی جو کاوشیں کی ہیں۔ ان کے مطلوبہ اثرات ظاہر نہیں ہوئے، بلکہ چین نے اپنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے کئی ایسی مصنوعات بھی تیار کر لی ہیں، جو وہ پہلے امریکہ سے لیتا تھا۔گویا امریکی مصنوعات پر چین کا انحصار اور بھی کم ہو گیا ہے۔ چین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی امریکہ سے آگے نکلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ 5-G کی کمرشل لانچ اس کا عملی ثبوت ہے۔ یورپی مارکیٹ میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ امریکہ اپنے تئیں کاوشیں کر رہا ہے کہ چین کی یہ پراڈکٹ کامیاب نہ ہو لیکن، کیونکہ یہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہے اور اس کے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس لئے اسے روکنا یا اس کی راہ کھوٹی کرنا ممکن نہیں ہے۔ چینی تعمیر و ترقی کا سفر جاری ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...