سوشل میڈیا کے خطرات؟

سوشل میڈیا کے خطرات؟
سوشل میڈیا کے خطرات؟

  


تحریک انصاف کے راہنما نعیم الحق نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کابینہ کی فہرست کی تردید کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔ نعیم الحق کا کہنا ہے کہ ہمارے مخالفین پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کے لئے خصوصی خبریں پھیلاتے ہیں لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ سوشل میڈیا سے نعیم الحق کو ہی شکایت نہیں ہے، بلکہ پوری دُنیا کے سیاسی راہنما پریشان ہیں کہ اس نئی ایجاد یا مصیبت کا تدارک کیسے ہو؟ سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر،بلکہ افواہ چند منٹوں میں وائرل ہو جاتی ہے اور اکثر اس کے خالق کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لوگوں کی نیندیں حرام کرنے میں سوشل میڈیا نے غیر معمولی کمال حاصل کیا ہے۔

کسی دور میں جنگ صرف میدان جنگ میں لڑی جاتی تھی۔ پھر جنگ کے لئے پرنٹ میڈیا کا استعمال شروع ہوا۔ اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے پراپیگنڈے کے طوفان اٹھانے شروع کر دیئے اور مختلف قوموں اور نظریات کے درمیان ہونے والی جنگ میں زوردار کردار ادا کرنے لگا۔ اب سوشل میڈیا ہمہ وقت جنگ میں مصروف رہتا ہے۔ 1940ء کے عشرے میں امریکی پریس کمیشن نے کہا تھا کہ آزاد صحافت کو ذمہ دار ہونا چاہئے،کیونکہ صحافت صرف اسی صورت میں آزاد رہ سکتی ہے جب وہ ذمہ دار ہو۔ پرنٹ میڈیا کے پاس خبروں کی تصدیق اور ہر پارٹی کا موقف لینے کے لئے وافر وقت ہوتا تھا کیونکہ اخبار چوبیس گھنٹے کے بعد شائع ہوتا تھا۔ مارشل ملکوہان نے کہا تھا کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ نئی تہذیب بھی لے کر آتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا چوبیس گھنٹے خبریں دیتا ہے۔ مزید براں اسے بریکنگ نیوز کے کلچر کا بھی سامنا ہے۔ اکثر رپورٹر کے پاس تصدیق کے لئے وقت نہیں ہوتا۔یوں الیکٹرونک میڈیا کی ذمہ داری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے انسانی معاشرے کو نئے چیلنجوں سے متعارف کرایا ہے۔ سوشل میڈیا اکثر غیرذمہ داری کے شاہکار تخلیق کرتا ہے اور یہ وائرل ہو کر بہت سے افراد اور خاندانوں کے لئے خاصے بڑے مسائل کا سبب بن جاتا ہے۔ سائبر کرائم کے قوانین کے تحت غیرذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، مگر عدالتوں کا نظام خاصا پیچیدہ ہے۔حال ہی میں آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ منظرعام پر آئی ہے۔ اس کے محققین کا کہنا ہے کہ سرکاری ایجنسیوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے کم از کم 70 ممالک میں سوشل میڈیا اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران اس طرح کی کوششیں دوگنا ہو چکی ہیں۔ برطانوی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر فلپ ہاورڈ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر عوامی رائے کو گمراہ کرنا جمہوریت کے لئے شدید خطرہ ہے۔ بریڈشا کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا بھی جمہوریت اور آزادی کے لئے ایک قوت کی علامت تھا، مگر بڑے پیمانے پر غلط معلومات کے پھیلانے، تشدد پر اکسانے کی بنا پر اس کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کس طرح معاشرے کو تبدیل کر رہا ہے؟ اس پر خاصی تحقیق ہو رہی ہے اور ہر تحقیق سے تقریباً یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا موجودہ دور میں رائے عامہ کو متاثر یا گمراہ کرنے والا سب سے بڑا ہتھیار بن گیا ہے۔ سی آئی اے، کے جی بی، موساد اور را جیسی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے سوشل میڈیا کے بڑے بڑے سیٹ اَپ ہیں، جو ان کے فراہم کردہ مواد کو اپنے تخلیقی جوہر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور دنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس سے سیاسی حکومتوں کے لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج میں بڑی تیزی کے ساتھ اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ عوام میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والا ایک امریکی سروے بھی یہی بتا رہا ہے کہ امریکیوں کو سوشل میڈیا پر بے قابو اطلاعات و معلومات اور خبروں سے پریشانی لاحق ہو گئی ہے۔ انہیں یکطرفہ، جانبدارانہ، غلط معلومات اور غیر معیاری خبروں پر شدید تشویش ہے۔ سوشل میڈیا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ سوشل میڈیا بہت برے طریقے سے ان کی خبر لے رہا ہے۔

اسلامی ممالک کے خلاف تو ایک بڑے پیمانے پر منظم مہم جاری ہے جس میں مختلف حوالوں سے اسلام کا غلط تصور پیش کیاجاتا ہے۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب سوشل میڈیا اس پراپیگنڈا میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔سوشل میڈیا معاشروں میں جتنی تیزی سے بے یقینی کے جراثیم پھیلا رہا ہے اس کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا انسانی تہذیب کو کسی بڑے خطرے سے دوچار کر دے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...