وزیراعظم کا دورۂ چین

وزیراعظم کا دورۂ چین
وزیراعظم کا دورۂ چین

  


عمران خان دو روزہ دورے پر کل سے چین میں ہیں اور آج شام (شائد) واپس آ جائیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وہ جن امور و معاملات پر چینی قیادت سے بات چیت کے لئے گئے ہیں ان میں دو نکات سرفہرست ہیں …… ایک تو مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں چین کو بعض سٹرٹیجک موضوعات کے پس منظر میں پاکستانی موقف کی تفصیلی آگہی دینا ہے۔ ویسے تو وزیراعظم پاکستان نے 5اگست کے بعد سے لے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب تک، پوری دنیا میں اس مسئلے کی نزاکت اور اہمیت واضح کر دی ہے لیکن شائد بعض اہم باتیں اس تقریر میں نہیں کہی جا سکی ہوں گی۔

پاکستان اور بھارت دونوں نے 1998ء میں جوہری دھماکے کر دیئے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دنیا یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ جنوبی ایشیا کے ان دوازلی حریفوں نے بیک وقت آخر یہ اقدام کیوں کیا ہے اور بالخصوص پاکستان کو اس حد تک جانے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ تو پہلے ہی 1971ء میں انڈیا کے ہاتھوں دو نیم ہو چکا تھا، انڈیا سے چھ سات گنا چھوٹا تھا (اور ہے) اور اس کے اقتصادی وسائل ہر گز ایسے نہ تھے کہ وہ جوہری اور میزائلی ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں کود کر اپنے محدود مالی وسائل ضائع کرتا جو اس کے عوام کی خوشحالی کے لئے ضروری تھے۔ لیکن دنیا(مراد ترقی یافتہ دنیا سے ہے) نے اس حقیقت کا ادراک نہ کیا۔ پھر ان دھماکوں کے صرف ایک سال بعد کارگل کی لڑائی میں بھی دنیا کی ’مدہوشی‘ جوں کی توں برقرار رہی۔ اس وقت کے وزیراعظم کی بھاگم بھاگ امریکہ یاترا ابھی تک متنازعہ چلی آ رہی ہے۔ چنانچہ اس مسئلے میں جولائی 1999ء کے بعد ایک قسم کا تعطل (Stalemate) پیدا ہو گیا جسے انڈیا نے 20برس بعد خود توڑا، خود پنگا لیا اور اپنے آئین سے آرٹیکل 370کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔

خوش قسمتی سے یہ دور پاکستان میں گزشتہ دو روائتی وراثتی خاندانوں کی حکومت کا دور نہیں تھا۔ اگر ان میں سے کوئی خاندان برسراقتدار ہوتا تو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370کی منسوخی کا کوئی خاص نوٹس نہ لیا جاتا۔ لیکن عمران خان کی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو اس طرح اجاگر کیا کہ اگلی پچھلی ساری کسر نکال دی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے سات ماہ پہلے انڈیا نے (نجانے کس کے بہکانے پر) کوشش کی کہ پاکستان کو اس کے جوہری اور میزائلی اثاثوں کے باوصف نیچا دکھائے۔ جس طرح نصف صدی پہلے نومبر 1971ء میں اس نے اس وقت کے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا تھا، اسی طرح فروری 2019ء میں بالاکوٹ پر بھی حملہ کر دیا۔ لیکن یہ حملہ انڈیا کے لئے ایک منحوس شگون ثابت ہوا اور شائد آنے والے پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک واٹر شیڈ بھی ثابت ہو……وہ دن اور آج کا دن مودی حکومت کو ایک سے ایک بڑی ہزیمت کا سامنا ہے جس کا ادراک و شعور البتہ ابھی تک بھارتی قیادت کو نہیں ہو رہا۔

وہ شائد سمجھتی ہے کہ 80لاکھ کشمیری مسلمانوں کو مقیّد و محبوس کرکے 27فروری 2019ء کی ہزیمت کے تاثر سے باہر نکل جائے گی لیکن وہ اب تک تو ایسا نہیں کر سکی۔ عمران خان ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں کہ انڈیاکی ہٹ دھرمی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ ساری دنیا کو ناقابلِ بیان جوہری خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ ان کا یہ پیغام پاکستان اور انڈیا کی باہمی خودکشی کا پیام نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی خودکشی کے امکانات کا حامل پیام ہے…… وزیراعظم شائد اپنے اسی موقف کی مزید تشریح و توضیح کے لئے چین گئے ہیں کہ چین اس مسئلہ کشمیر کا خود ایک فعال سٹیک ہولڈر ہے۔ لداخ، انڈیا کا حصہ نہیں لیکن انڈیا اور چین کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے اور 5اگست کو جب انڈیا نے آرٹیکل 370منسوخ کیا تو چین کی طرف سے جو واضح بیان آیا اس میں کہا گیا کہ انڈیا کا یہ اقدام چین کے لئے ناقابلِ قبول (Un-acceptable) ہے۔ اس زاویہء نگاہ سے دیکھا جائے تو چین اور پاکستان کا درد مشترک ہے اور اسی ’درد‘ پر گفتگو، وزیراعظم پاکستان کے اس دورے کے ایجنڈے پر سرفہرست معلوم ہوتی ہے۔

دوسرا موضوع جو اس دورے کے ایجنڈے پر ہے وہ CPEC کی وہ رفتارِ ترقی ہے جو ایک عرصے سے سست رو ہو چکی ہے۔ لیکن اس تاثر کو جناب خسرو بختیار نے اپنی تین روز پہلے کی نیوز کانفرنس میں مسترد کر دیا تھا۔ چین کی روائت تو یہ ہے کہ وہ حیران کن برق رفتاری سے اپنے منصوبوں کی تکمیل کرتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو CPEC کے بعض منصوبوں کی رفتار واقعی سست ہے۔ مثال کے طور پر خصوصی اقتصادی زونوں کا قیام، کراچی کی سرکلر ریلوے اور مین لائن۔ ون (ML-1) کے پراجیکٹ کچھ پاکستان کی طرف سے گومگو کی پالیسی کے سبب اور کچھ چین کی طرف سے سست روی یا تغافل کا شکار ہو گئے ہیں اور یہ تاثر ’پاک چین سٹرٹیجک تعلقات‘ تک کو متاثر کر رہا ہے۔

ان میں ایم ایل۔ ون کا منصوبہ بالخصوص قابلِ ذکر ہے۔…… یہ منصوبہ اگر وقت پر شروع ہو جاتا تو آج قریب الاختتام ہوتا۔ پانچ برس کی تاخیر نے اسے بُری طرح مجروح کر دیا ہے۔ امید ہے آج اس کی تیز تر تکمیل کے MOU یا معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے اور یہ گاڑی آگے چلنا شروع ہو جائے گی۔ یہ چینی قرضہ 8ارب ڈالر سے زیادہ رقم کا ہے جو پاکستان نے اقساط میں ادا کرنا ہے۔ لیکن اگر یہ ٹریک (از پشاور تا کراچی) مکمل بھی ہو گیا تو اس کے لئے نئے ریلوے انجنوں اور نئی بوگیوں کی ضرورت ہوگی۔ ریلوے پہلے ہی پرانی بوگیوں کی وجہ سے متعدد حادثات کا شکارہو چکا ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نئے انجنوں اور بوگیوں کی خرید کا اہتمام بھی ساتھ ہی کیا جائے۔ اس پر جو اضافی اخراجات آئیں گے ان کو اگر ٹریک بچھانے کی رقم میں جمع کیا جائے تو یہ تخمینہ 12،13ارب ڈالر تک جا پہنچے گا…… پاکستان کو یہ پہلو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ……لیکن میرا خیال ہے کہ جب یہ ٹریک مکمل ہو گیا اور اس پر سٹیشنوں کی تعمیر اور انجنوں اور بوگیوں کی خرید بھی تکمیل پا گئی تو اس سے جو سالانہ آمدن ہو گی وہ چینی قرضوں کی واپسی میں معاون ہوگی۔

پاکستان نے بونجی (گلگت بلتستان) میں 7000میگاواٹ ہائیڈل پاور کا جو منصوبہ (دریائے سندھ پر) ترتیب دے رکھا ہے، اگر اس کی تکمیل ہو گئی تو چین کے ”بیلٹ اینڈ روڈ“ منصوبے میں خصوصی اقتصادی زونوں کو برقانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس دورے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ہمارے آرمی چیف ایک روز پہلے چین چلے گئے تھے۔ آج وہ صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم کی ملاقاتوں میں پاکستانی وفد کے ساتھ شریک ہوں گے۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف، چین کی فوجی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان میں پیپلزلبریشن آرمی (PLA) کے کمانڈر، چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین اور کمانڈر، سادرن تھیٹر کمانڈ بھی شامل ہیں۔ دونوں ملکوں کے ٹاپ عسکری کمانڈروں کی یہ ملاقات اگر مسئلہ کشمیر کے تناظر میں دیکھی جائے تو ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر لائن آف کنٹرول پر کل کلاں، انڈیا زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے اور پاکستان کو اس کا جواب دینا پڑتا ہے تو چین کی سٹرٹیجی کیا ہوگی، یہ آئٹم بھی ان مشترک عسکری ملاقاتوں میں شامل ہو گی۔

علاوہ ازیں پاکستان اور چین کے عسکری تعاون میں جدید اسلحہ جات کی فراہمی اور ان کی پاکستانی میں تیاری کا موضوع بھی شائد زیر بحث آئے اور اس ضرورت پر بھی بحث ہوکہ پاکستان اور چین کی بری افواج میں دو طرفہ فوجی مشقوں کے حجم اور ان کے انعقاد کی زمانی فریکوئنسی میں اضافہ کیا جائے۔ آج تک جو جنگی مشقیں ہوتی رہی ہیں ان کا حجم اور سکوپ، مسئلہ کشمیر کی تازہ صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے کافی نہیں کہا جا سکتا…… ان کا ٹائم بھی بڑھانا ہو گا اور ان کا حجم بھی۔

آرمی چیف کی موجودگی اپنے وزیراعظم کے ساتھ اس لئے بھی ضروری سمجھی گئی ہو گی کہ جب CPEC کے اولین ایام تھے تو جنرل باوجوہ ہی نے خود چینی قیادت سے ملاقات کرکے پاکستان میں کام کرنے والی چینی افرادی قوت کے تحفظ کی ضمانت دی تھی اور اس کے لئے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی تھی جس کا حجم ایک ڈویژن پلس تھا۔ جب ریلوے کا ایم ایل۔ ون منصوبہ شروع ہو گا تو اس پر چین کی طرف سے جو افرادی قوت کام کرنے آئے گی اس کی سیکیورٹی کی ضمانت دینے کی ضرورت کے پیش نظر شائد آرمی چیف کی موجودگی ضروری سمجھی گئی ہو گی۔

قارئین گرامی! میں یہ باتیں صرف اپنے قیاس کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ بیجنگ کی اس موجودہ دو روزہ وزٹ میں پاکستان کی سویلین اور آرمی کی ٹاپ لیڈرشپ کے یکجا ہونے کی ضرورت کیا تھی۔ ویسے تو آرمی چیف سعودی عرب اور دوسرے ملکوں میں بھی اپنے وزیراعظم کے ساتھ جاتے رہے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں ……اور ہاں برسبیل تذکرہ نئی بات اگر کوئی ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن کے لئے ہے۔ ان کا وہ آزادی مارچ، جس کا 27اکتوبر کو لانچ کرنا ٹھہر چکا ہے۔اس کا انجام بھی اس دورے کے فال آؤٹ کا شائد کوئی حصہ بن جائے۔ مولانا کو احساس تو ہو گاکہ آج کل پاکستان کی آرمی اور سویلین قیادتیں کس طرح سٹرٹیجک معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ ”منسلک اور ملحق“ ہیں۔ ایسے میں اگر مولانا، اسلام آباد پر چڑھ دوڑنے کی کوئی کال دیتے ہیں تو اس کا انجام وہ نوشتہ ء دیوار ہے جس کا اندازہ عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس مشترکہ چائنا وزٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ جنابِ مولانا کو اپنا آزادی مارچ شروع کرنے سے پہلے اس کے مابعدی مضمرات کا ادراک بھی کر لینا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم


loading...