لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے،سپریم کورٹ کے زیرزمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس میں ریمارکس

لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے،سپریم کورٹ کے زیرزمین ...
لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے،سپریم کورٹ کے زیرزمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس میں ریمارکس

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس میں جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہری پانی کی کم قیمت وصول ہونے کی وجہ حکومتیں ہیں جو سورہی ہیں،لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں زیرزمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے پانی کی قیمت سے متعلق سفارشات دیناتھیں، صوبوں کی جانب سے سفارشات موصول نہیں ہوئیں۔

وکیل سندھ حکومت نے کہا کہ پانی کی قیمتوں سے متعلق سندھ کے قانون کا مسودہ اٹارنی جنرل کو بھجواچکے ہیں،وکیل سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ حکومت کے مسائل فی الحال اٹارنی جنرل آفس سے حل نہیں ہوسکیں گے،کراچی میں پانی کی قیمت وصول کی جارہی ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ سندھ میں پانی کے حوالے سے پہلے ہی قانون موجود ہے،سندھ حکومت نے 4 مختلف سفارشات دی ہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب کابینہ واٹرایکٹ کی منظوری دے چکی ہے،فیصل چودھری نے کہا کہ واٹرایکٹ منظوری کیلئے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نہری پانی کی کم قیمت وصول ہونے کی وجہ حکومتیں ہیں جو سورہی ہیں،سرکاری وکیل نے کہاکہ واٹرکمپنیاں جہاں سے پانی نکالتی ہیں وہاں100 فٹ تک ہوا بھی نہیں ملتی،جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے۔وکیل کے پی حکومت نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں متعلقہ سٹیک ہولڈرزسے مشاورت جاری ہے،پانی کی قیمت کے حوالے سے عوامی رائے آنا بھی باقی ہے،صنعتوں کا مفاد بھی دیکھنا ہے عدالت سے سختی نہ کرنے کی استدعا ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...