صدارتی آرڈیننس کی شقوں کو پڑھنے سے ڈکٹیٹرشب کا گمان ہوتا ہے،سندھ حکومت نے وفاق کو کرارا جواب دے دیا

صدارتی آرڈیننس کی شقوں کو پڑھنے سے ڈکٹیٹرشب کا گمان ہوتا ہے،سندھ حکومت نے ...
صدارتی آرڈیننس کی شقوں کو پڑھنے سے ڈکٹیٹرشب کا گمان ہوتا ہے،سندھ حکومت نے وفاق کو کرارا جواب دے دیا

  

 کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور  صوبائی اطلاعات سندھ سید ناصرحسین شاہ نے وفاقی حکومت کے وزراء کے الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کی شقوں کو پڑھنے سے ڈکٹیٹرشب کا گمان ہوتا ہے،اس طرح کا صدارتی آرڈیننس کبھی کسی ڈکٹیٹر نے بھی جاری نہیں کیا،وفاقی حکومت کے خط کا مثبت جواب اس لئے دیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں ملک، صوبے اور شہر کی ترقی ہے اور ہم نے کہا کہ آئیے مل کر کام کرتے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ سندھ کے جزیروں کے حوالے سے صوبائی حکومت سے بات کرنے کی بجائے  وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کردیا،اس طرح کا صدارتی آرڈیننس کبھی کسی ڈکٹیٹر نے بھی نہیں جاری کیا،اس جمہوری دور میں صدارتی آرڈیننس کی شقوں کو پڑھنے سے ڈکٹیٹرشب کا گمان ہوتا ہے،اس صدارتی آرڈیننس میں سندھ کی زمین کو اپنی ملکیت ظاہر کیا گیا،صدارتی آرڈیننس میں کہا گیا کہ جو اس میں رکاوٹ بنے گا ان کو سخت سزائیں دی جائیں گی،صدارتی آرڈیننس کے تحت کسی بھی جگہ کو مسمار کیا جا سکتا، عجیب و غریب صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کےبجائےملک، صوبہ اور شہر کی ترقی کے کے مشترکہ بات چیت کی جا سکتی تھی، پییلز پارٹی نے ہمیشہ ملک، صوبہ اور شہر کی ترقی میں ہمیشہ فراغ دلی کا مظاہرہ کیا،اس مرتبہ ہم نے نیک نیتی کے ساتھ ان کے خط کا جواب دیا۔

صوبائی وزیر  اطلاعات  سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی  بحث کیلئے پیش نہیں کیاگیاجس سے ان کی بد نیتی ظاہر ہوتی ہے،وفاقی حکومت الٹا الزام ہم پر لگا رہے ہیں کہ ہم ترقی کے خلاف ہیں، اگر آپ نے ملک میں کوِئی بہتری لانی ہوتی تو آپ سے امید کی جاسکتی تھی لیکن آپ نے تو ملک کی معاشی حالات بگاڑ دیئے،ملک میں معاشی صورتحال،ان کے سکینڈلز اوران کے کام سب کے سامنے ہیں،آٹا اور چینی تک امپورٹ کرنے پڑ رہے ہیں۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ریکیوری کتنے فیصد وصول کی ہے اور دوسری طرف سندھ حکومت کے ریونیو ڈپارٹمنٹ کی ریکیوری چیک کرلیں کہ سندھ حکومت نے کتنے بہتر طریقہ سے ریکیوری کی ہے،وفاقی حکومت کی نااہلی ہے اوروہ اپنی نااہلی چھپانے کے لئے سندھ حکومت پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ علی زیدی اور عمران اسماعیل، اگر آپ سندھ کے بیٹے ہیں تو سندھ سے غداری کیوں کررہے ہیں؟اگر علی زیدی اور عمران اسماعیل خود کو سندھ کا بیٹا سمجھتے تو جزائر کے صدارتی آرڈیننس کی حمایت نہ کرتے،سندھ حکومت نے ماہی گیروں کے مفاد میں وفاقی حکومت کو تعمیرات کی اجازت دے کر فراخ دلی کا ایک مظاہرہ کیا تھا،وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کی مثبت پیش رفت کا خیر مقدم کرنے کے بجائے الٹا آرڈیننس جاری کردیا،یہ اعتراض کتنا افسوس ناک ہے ،پی پی کیا یہ جزیرے اسلام آباد لے کر جائیگی؟کیا اسلام آباد ہمارا نہیں ؟ پیپلزپارٹی کے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے، ملک، صوبے اور شہر کی ترقی ہے۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ ملکی معاشی حالت تباہ کرنے والی پی ٹی آئی کس منہ سے کہہ رہی ہے کہ وہ جزائر کو ڈویلپ کرکے دیگی،گندم پیدا کرنے والا ملک آج پی ٹی آئی کی نااہلی کی وجہ سے دوسرے ممالک سے گندم خرید رہا ہے، پی ٹی آئی کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ ملکی مفاد کے ہر معاملے کو متنازع بنادے، جزائر کے معاملے کو احسن طریقے سے حل کیا جاسکتا تھا مگر آرڈیننس کے اجرا سے پی ٹی آئی نے معاملہ متنازع کردیا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -