افواہیں پھیلانا شرعاً، اخلاقاً و قانوناً جُرم ہے

افواہیں پھیلانا شرعاً، اخلاقاً و قانوناً جُرم ہے

  

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بلا تحقیق) بیان کر دے۔“  (رواہ مسلم)

آج کل معاشرہ میں بے چینی اور بے سکونی کا بہت بڑا سبب افواہیں ہیں۔ عربی زبان میں ”افواہ“ فوہ کی جمع ہے یعنی ”کئی منہ“ چنانچہ افواہ میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں اس لیے اردو میں بے بنیاد بات کو افواہ کہتے ہیں اور عربی زبان میں افواہ کو ”شاءِعۃٌ“ کہتے ہیں۔

اسلام نے ایک مومن کی شان یہ بیان کی کہ ”مسلمان نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ دھوکہ کھاتا ہے“ لہٰذا ایمان والے کی شان یہ ہے کہ وہ غلط بات کہہ کر دوسرے کو دھوکہ نہیں دیتا یہ اس کی شرافت کی علامت ہے اور کسی سے دھوکہ نہیں کھاتا یہ اس کے سمجھدار اور ہوشیار ہونے کی نشانی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار کا ایک شاعر ابو عزہ مسلمانوں کے خلاف اشعار کہہ کر کفار کو جنگ میں بھڑکاتا تھا جنگ بدر میں یہ شاعر گرفتار ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وعدہ کیا کہ اگر اس مرتبہ چھوڑ دیا جائے تو وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف اشعار نہیں کہے گا آپ نے اسے چھوڑ دیا لیکن اس نے رہائی کے بعد دوبارہ مسلمانوں کے خلاف کفار کو اکسانا شروع کر دیا۔ غزوہئ احد میں دوبارہ گرفتار ہوا پھر معافی مانگنے لگا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم جاری فرما دیا اور ساتھ یہ فرمایا ”کہ مومن کو ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جا سکتا۔“ اور یہ بات ایمان والے کی ہوشیاری اور سمجھداری کی دلیل ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیس الخبر کالمعاینۃ“ سنی ہوئی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی سورہئ حجرات کی آیت ۶ میں ارشاد فرمایا:

”اے ایمان والو، اگر تمہارے پاس کوئی گنہگار خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لو، کہیں تم کسی قوم پر نادانی میں نہ جا پڑو پھر تم بعد میں اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو“ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی  ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اکثر لڑائی جھگڑوں کی ابتداء جھوٹی خبروں سے ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اختلاف کے اسی سرچشمہ کو بند کرنے کی تعلیم دی اور یہ ہدایت کی کہ بلا تحقیق کسی خبر کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔

لہٰذا جب تک کسی بُری خبر کی تصدیق نہ ہو جائے یا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے دوسرے کو وہ نہیں بتانی چاہیے یہ بات درست ہے کہ سورہ ئ بقرہ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے متقین کی یہ صفت بیان فرمائی ہے ”کہ وہ اَنْ دیکھی بات یعنی غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔“ ظاہر ہے کہ مسلمان کو ہر ان دیکھی بات پر یقین کرنے کا حکم نہیں اگر وہ خبر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے تو بے چون و چرا اس پر ایمان لانے کا حکم ہے لیکن اس کے علاوہ خبر کے جو عام ذرائع ہیں ان میں جھوٹ کا احتمال موجود ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔“لہٰذا افواہیں پھیلانے میں ایک تو جھوٹ بولنے کا گناہ ہوا اور پھر اگر خود جھوٹ بول رہا ہے دوسرا اسے سچا سمجھ رہا ہے تو یہ ایک اور بددیانتی ہے۔ ابوداؤد میں حضرت سفیان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے سچا سمجھ رہا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔“

اب سوال یہ ہے کہ آخر افواہیں پھیلانے والوں کو ملتا کیا ہے؟ جب ماہرین نفسیات نے اس بارے میں انسانی ذہنوں اور طبیعتوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ انسانی طبیعت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دوسرے کے دکھ کو بیان کر کے لذت و سرور محسوس کرتا ہے لیکن یہ جب ہی ہوتا ہے کہ جب ان دونوں کے درمیان محبت کے بجائے دشمنی‘ بغض اور نفرت موجود ہو۔ اگر دونوں کے درمیان محبت موجود ہو تو کبھی اس کے دکھ کو بیان کر کے لذت محسوس نہیں کرے گا۔

اسلامی تعلیمات میں مسلمانوں کو خصوصی طور پر یہ سبق دیا گیا ہے کہ اپنے بھائی کو مصیبت اور تکلیف میں دیکھ کر کبھی خوش نہ ہونا ور نہ اس کا انجام بہت بُرا ہے  اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے بھائی کو کسی مصیبت میں مبتلا دیکھ کر خوشی ظاہر نہ کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت زدہ پر رحم کرے گا اورتجھے اس مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔“

ماہرین نفسیات کے تجزیہ کے مطابق افواہیں پھیلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو خوف میں مبتلا کیا جائے کیونکہ یہ چیز بھی انسانی طبیعت میں ہے کہ دوسرے کو ڈرا کر خوف زدہ کر کے لذت محسوس ہوتی ہے یا دوسرے کو خوف زدہ کر کے اپنا مقصد پورا کر لیا جاتا ہے اسلام نے اس چیز کا بھی خاتمہ کیا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر میں تھے ایک شخص سو رہا تھا‘ ایک صاحب اٹھے اور سونے والے کے قریب جا کر اس کے پاس پڑی ہوئی رسی اٹھالی، سونے والا اس سے ڈر گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے“ اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افواہیں پھیلانے کا سبب شیطان بھی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول منقول ہے فرماتے ہیں کہ بسا اوقات شیطان کسی آدمی کی صورت اختیار کر کے ایک جماعت کے پاس آتا ہے اور اس سے جھوٹی باتیں کہتا ہے پھر یہ جماعت منتشر ہو جاتی ہے۔

اور ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے میں نے ایک شخص کو یہ بات بتاتے ہوئے سنا، میں اسے چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن میں اس کا نام نہیں جانتا۔

اس لیے ایک مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بغیر تحقیق اور اعتماد کے بیان نہ کرے۔ بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ایک یہ بھی ارشاد نبوی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔“

اور اگر کوئی بُری بات سنے تو دوسرے لوگوں کو نہ بتائے۔ بُرائی کو ڈھانپ دینا ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اگر دوسرا شخص افواہیں پھیلاتے ہوئے کوئی بات کہے تو اسے منع کر دیا جائے کہ بغیر تحقیق کے بات نہ کرو، اگر وہ اپنی بات پر پختگی ظاہرکرے، اپنی معلومات کو یقینی ظاہر کرے تو پھر اس کے سامنے ان مصیبت زدہ اور پریشانی میں مبتلا لوگوں کے لیے دعائے خیر کر دے‘ اپنے آپ کو افواہوں کی لذت میں مبتلا ہونے سے ہر صورت بچائے اور اگر افواہیں سنا کر کوئی خوف پھیلانا چاہتا ہے تو ایمان کو پختہ رکھ کر کہنے والے کے سامنے ظاہر کر دے کہ انسان کو صرف اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے‘ مخلوق سے ڈرنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور جو لوگ افواہوں کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہوں انہیں بھی صبر و تحمل کرنا چاہیے۔ خوف الٰہی سے آشنا کیا جائے اور دلوں کو ذکر الٰہی میں مصروف کر لیا جائے اسی سے دلوں میں اطمینان و سکون آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے افواہیں پھیلانے والوں کو ہدایت نصیب فرمائے اور اہل معاشرہ کو خوف و ہراس سے نجات دے کر قلبی سکون نصیب فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -