میرا نکاح حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی نے پڑھایا   عربی میں ایجاب و قبول بھی کروایا 

میرا نکاح حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی نے پڑھایا   عربی میں ایجاب و قبول بھی ...

  

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی یادداشتیں ”یادیں“ کے زیر عنوان لکھ رہے ہیں جو ماہنامہ البلاغ میں قسط وار شائع ہو رہی ہے حال ہی میں انہوں نے اپنی شادی کا تذکرہ کیا، جس کی دلچسپ تفصیل نذر قارئین ہے۔

میرے والدین میرے نکاح کے لئے کسی موزوں رشتے کی تلاش میں تھے اور آخر کار ان کی نظر انتخاب جناب شرافت حسین صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی پر ٹھہری۔ جناب شرافت حسین صاحبؒ بنیادی طور پر ایک تاجر تھے لیکن حضرت والد صاحبؒ اور شہر کے تمام بزرگوں سے ایسا نیاز مندانہ تعلق رکھتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ ان کے ساتھ ان کا تعلق زیادہ ہے۔ الہ آباد کے رہنے والے تھے اور وہاں بھی حضرت حکیم الامۃ کے خلیفہ حضرت مولانا وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بھی ان کا خصوصی تعلق تھا۔ میری والدہ اس وقت بہت علیل تھیں اس لئے نکاح کا پیغام میری بڑی بہنوں کے ذریعے دلوایا۔ حضرت بابا نجم احسن صاحب حکیم الامہ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہما کے درویش منش اور صاحب کشف خلیفہ تھے اور میرے بچپن کے دوست جناب کلیم صاحب (جن کا تذکرہ میں اپنے بچپن کے حالات میں کر چکا ہوں) کے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے اور وہیں سے ان کے فیض کا سلسلہ جاری رہتا تھا مجھے بھی کثرت سے ان کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوتی رہتی تھی اور وہ مجھ پر نہایت شفقت فرماتے تھے،  میری غلطیوں پر مجھے باپ کی سی ڈانٹ سے متنبہ بھی فرما دیتے تھے۔ ان کو جب علم ہوا کہ میرا پیغام جناب شرافت صاحب کے گھر میں گیا ہے، بلکہ شاید میری ہونے والی خوشدامن صاحبہ نے ان سے مشورہ بھی کیا تو انہوں نے میرے علم میں لائے بغیر ان کے نام ایک خط تحریر فرمایا جو عرصہ دراز کے بعد میری خوشدامن صاحبہ نے مجھے دیا جسے میں نے اپنے لئے فال نیک سمجھ کر اپنی مبشرات کی فائل میں رکھا ہوا ہے۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:

”السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں، الحمد للہ پوری دیانت اور سچائی کے ساتھ۔ میرے لئے کوئی ایسے اسباب نہیں ہیں کہ غرض مندی کے سبب میں اپنے کو یا کسی کو دھوکا دوں۔ مجھے اتنا پسند آ گیا ہے کہ یہ تمنا ہوتی ہے کہ کاش میرے ایسی لائق اور سعید اور ہونہار اولاد ہوتی۔ میں سچ کہتا ہوں میں نے عالم رویا میں بھی دیکھا ہے کہ غیب سے کوئی کہہ رہا ہے کہ ”اللہ کو اس لڑکے سے کام لینا ہے۔“ اس بشارت کے بعد مجھے کوئی شبہ نہیں رہا۔ ظاہری صورت میں یہ ہے کہ مادہ رو نہیں ہے، داڑھی مونچھ نہیں منڈاتا، اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل ہے۔ صحت بہت ہی اچھی ہے، بفضلہ تعالیٰ خوش پوشاک اور جامہ زیب بھی ہے بہت ہی ہنس مکھ اور خوش مزاج زبان اور قلم کا دھنی عربی اردو تو گویا مادری زبان ہے۔ انگریزی میں گریجوایٹ اور ایل ایل بی فائنل کا امتحان بھی دیا ہے۔ آجکل کے لڑکے عموماً عورتوں کی سی شکل بنائے ہوئے ویسی ہی ہمت ویسی ہی کمزور ذہنیت اور صحت رکھتے ہیں مرد کے لئے اللہ نے حسن کی شان ہی اور رکھی ہے پھر آجکل یہ بھی ہے کہ شادی کے آٹھویں دسویں دن ہی جوتی پیزار شروع ہو جاتی ہے۔ یہ اس لئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ رعایت نہیں کرتے مرد عورت کو لونڈی سمجھتا ہے اسی سے تنازع ہوتا ہے عورت لونڈی نہیں رفیقہ حیات ہوتی ہے ویسے ہی برتاؤ ہونا چاہئے۔

ہمارا نوجوان اچھا خاصا کما لینے والا بھی ہے ہاں بے ایمانی سے نہیں کماتا اور پھر ان شاء اللہ، اللہ فضل ہی کرے گا۔ اچھے سے اچھے برتاؤ اور اچھی سے اچھی قدر دانی کی توقع ہے۔ میں ہر قسم کے نوجوانوں سے واقف ہوں۔ اس کے بعد سوچ سمجھ کے یہ رائے قائم کی ہے۔ محض چکنی چپڑی صورت کس کام کی؟ اگر آدمی میں انسانیت، محبت، اہلیت نہ ہو، اور اسے عاقبت کی فکر نہ ہو اور اس کی ذہنیت صحیح طور پر اسلامی نہ ہو۔ ہرگز خطرہ نہ کرنا چاہئے کسی برے برتاؤ یا سختی یا تنگی کا والسلام۔

بہر حال اس طرح 17 ذوالحجہ 1388 مطابق 5 مارچ 1969ء کو مسجد باب الاسلام آرام باغ میں میرا نکاح ہوا۔ یہ وہی مسجد ہے جس کے قریب میرے بچپن کے پانچ سال گزرے اور جس کا تذکرہ میں پہلے کر چکا ہوں۔ حضرت والد صاحبؒ نے نکاح پڑھانے کے لئے حضرت علامہ ظفر احمد صاحب عثمانی رحمتہ اللہ علیہ سے درخواست کی تھی۔ حضرتؒ نے یہ کرم فرمائی کی کہ اپنے ضعف کے باوجود ٹنڈووالہ یار سے تشریف لائے، اور نکاح پڑھاتے ہوئے مجھ سے عربی میں ایجاب و قبول کروایا۔ نکاح کی مجلس میں اس وقت کے اکابر علماء و صلحاء تشریف فرما تھے جن میں میرے تمام اساتذہ کے علاوہ میرے شیخ حضرت عارفی،ؒ حضرت علامہ محمد یوسف صاحب بنوریؒ حضرت باباب نجم احسن صاحبؒ وغیرہ شامل ہیں۔ حضرت والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے نکاح کے اگلے دن ایک ولیمہ دارالعلوم کورنگی میں کیا جس میں زیادہ تر دارالعلوم کے اساتذہ اور طلبہ اور بعض قریبی رشتہ دار شریک ہوئے اور شہر کے احباب اور دور کے عزیزوں کے لئے چونکہ دارلعلوم آنا مشکل تھا اس لئے دوسرا ولیمہ شہر میں ہمارے مکان اشرف منزل میں جہاں فرشی نشست پر کھانا کھلایا گیا۔ اس وقت دہلی مسلم ہوٹل دہلوی کھانے میں اختصاص رکھتا تھا اور اس کے مالکان نے جو میرے خسر صاحب کے پڑوسی تھے بڑی محبت سے کھانے تیار کئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگوں کی دعاؤں سے اس رشتے میں برکت عطا فرمائی اور بفصلہ تعالیٰ میری اہلیہ آج تک رفاقت کا بہترین حق ادا کر رہی ہیں۔ جزاھا اللہ تعالی خیر الجزاء۔ البتہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت بابا صاحب قدس سرہ نے میرے بارے میں جن توقعات کا اظہار فرمایا تھا میں ان پر پورا اتر سکا یا نہیں۔

نکاح کے اگلے سال عاشورہ 1390ھ مطابق 23 ماچ 1970 کو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے بیٹے سے نوازا جن کا نام حضرت والد صاحبؒ نے محمد عمران اشرف تجویز فرمایا اور حضرت بابا نجم احسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کا تاریخی نام فرخ تقی رکھا۔ (جاری  ہے)

(بشکریہ:ماہنامہ البلاغ کراچی)

مزید :

ایڈیشن 1 -