اخلاص کی حقیقت واہمیت  ریاکاری کی نحوست

اخلاص کی حقیقت واہمیت  ریاکاری کی نحوست

  

مولاناحافظ زبیر حسن 

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا اور لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔“ (رواہ مسلم)

اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ ہر اچھا کام یا کسی کے ساتھ اچھا سلوک صرف اس لیے اور اس نیت سے کیاجائے کہ ہمارا خالق وپروردگار ہم سے راضی ہو، ہم پر رحمت فرمائے اور اس کی ناراضگی اور غضب سے ہم محفوظ رہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام اچھے اعمال واخلاق کی روح یہی اخلاص نیت ہے اگر اچھے سے اچھے اعمال واخلاق اخلاص سے خالی ہوں اور ان کا مقصد رضاء الٰہی نہ ہو بلکہ نام ونمود ریا اور دکھلاوا  اور کوئی ایسا ہی جذبہ ان کا محرک اور باعث ہوتو اللہ کے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں اور ثواب بھی نہیں ملتا لہٰذا یہ کہاجاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کا ثواب، جو اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا اصل صلہ اور نتیجہ ہے وہ صرف اعمال واخلاق پر نہیں ملتا بلکہ یہ جب ملتا ہے جبکہ ان اعمال واخلاق میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اُخروی ثواب کا ارادہ بھی کیا گیا ہو۔ اپنے معاملات میں خود ہمارا بھی یہی اصول ہے فرض کیجئے کوئی شخص آپ کی بڑی خدمت کرتا ہے‘ آپ کو ہر طرح آرام پہنچانے اور خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پھر کسی ذریعہ سے آپ کو معلوم ہوجائے کہ اسے آپ کے ساتھ کوئی خلوص نہیں بلکہ اس نے یہ سب کچھ اپنی ذاتی غر ض کے لیے کیا ہے یا آپ کے کسی دوست یا رشتہ دار سے اپنا کوئی کام نکلوانا چاہتا ہے تو پھر آپ کے دل میں اس شخص کی اور اس کے برتاؤ کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی۔

بس یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کا ہے‘ فرق اتنا ہے کہ ہم دوسروں کے دلوں کا حال نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ سب کے دلوں اور ان کی نیتوں کا حال جانتا ہے پس اس کے جن بندوں کا یہ حال ہے کہ وہ اس کی خوشنودی اور رحمت کی طلب میں اچھے کام کرتے ہیں وہ ان کے اعمال کو قبول کرکے ان سے راضی ہوتا ہے اور ان پر رحمتیں نازل کرتا ہے اور دارالجزاء یعنی آخرت میں اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔

اخلاص کی ضد ریاء اور دکھلاوا ہے‘ اس کے بارے میں ارشاد نبوی ہے”جس نے دکھلاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس نے دکھلاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے صدقہ وخیرات دکھاوے کے لیے کیا اس نے شر ک کیا۔“

حقیقی شرک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات یا اس کے افعال یا اس کے خاص حقوق میں کسی دوسرے کو شریک کیاجائے یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی بھی عبادت کی جائے‘ اسے شرک حقیقی، شرک جلی اور شرک اکبر کہتے ہیں ایسے شرک کرنے والوں کی ہرگز بخشش نہیں ہوگی لیکن بعض اعمال واخلاق ایسے بھی ہیں جو شرک حقیقی میں شامل نہیں لیکن ان میں شرک کا تھوڑا بہت شائبہ ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص عبادت یا کوئی اور نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لیے کرے تاکہ لوگ اسے عبادت گزار نیکو کار سمجھیں اسی کو ریاء کہاجاتا ہے۔

سنن ابن ماجہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرۂ مبارک سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیزبتادوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے عرض کیا بتائیے! آپ نے فرمایا وہ شرک خفی ہے اور وہ یہ کہ آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوپھر اپنی نماز کو اس لیے لمبا کردے کہ کوئی آدمی اس کو نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔“

مسنداحمد میں محمود بن لبیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ”شرک اصغر“ کا ہے، صحابہؓ نے عرض کیا شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا ریا“۔ 

صحیح بخاری ومسلم میں حضرت جندبؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص کوئی عمل سنانے اور شہرت کے لیے کرے گا اللہ تعالیٰ اسے شہرت دے گا اور جو کوئی عمل دکھادے کے لیے کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دکھا دے گا۔“

بسا اوقات بعض دیندار بھی دین کے نام پر دنیا کماکرریا کاروں میں شامل ہوجاتے ہیں جیسا کہ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری زمانہ میں کچھ ایسے مکار لوگ پیدا ہوں گے جو دین کی آڑ میں دنیا کا شکار کریں گے وہ لوگ اپنی درویشی اور مسکینی ظاہر کرنے اور ان کو متاثر کرنے کے لیے بھیڑوں کی کھال کا لباس پہنیں گے ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی مگر ان کے سینوں میں بھیڑیوں کے سے دل ہوں گے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ میرے ڈھیل دینے سے دھوکہ کھارہے ہیں یا مجھ سے نڈر ہوکر میرے مقابلہ میں جرات کررہے ہیں پس مجھے اپنی قسم ہے کہ میں ان مکاروں پر انہی میں سے ایسا فتنہ کھڑا کروں گا جو ان کے عقلمندوں اور داناؤں کو بھی حیران کردے گا۔“

 ترمذی میں حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ”جُبُّ الْحَزْنِ“(غم کے کنوایں) سے پناہ مانگو۔ بعض صحابہ نے عرض کیا جُبُّ الْحَزْنَکیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے(اس کا حال اتنا برا ہے کہ) خود جہنم ہر دن میں چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتی ہے۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کون لوگ جائیں گے؟ آپ نے فرمایاوہ بڑے عبادت گزار اور زیادہ قرآن پڑھنے والے جو دوسروں کو دکھانے کے لیے اچھے اعمال کرتے ہیں۔“

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی طویل روایت ہے جس میں ریا ء کار عالم، ریاء کار مجاہد اور ریاء کار سخی کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کے اعمال کو ضائع قراردے کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اس روایت کو بیان کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہؓ کبھی کبھی بے ہوش ہوجاتے تھے اور حضرت معاویہؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی گئی تو وہ بہت روئے اور روتے روتے بے حال ہوگئے۔

لیکن ایک بات یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ بہت دفعہ لوگ کسی شخص کے اعمال کو دیکھ کر اس سے محبت کرتے ہیں اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح اس شخص کی شہرت ہوجاتی ہے تو یہ بات اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے‘ بشرطیکہ خود اس کے اندر ریا ء کاری موجود نہ ہو۔

صحیح مسلم میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ایسے شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو کوئی اچھا عمل کرتا ہے اس کی وجہ سے لوگ اس کی تعریف کرتے ہوں ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی اچھا عمل کرتا ہو اور اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرتے ہوں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تو مومن بندے کے لیے نقد بشارت ہے۔

دراصل صحابہ کرامؓ کے ذہن میں ریا ء کا اتنا خوف تھا کہ ان میں سے بعض کوشبہ ہونے لگا کہ لوگ ان کے نیک اعمال کی تعریف کرنے لگے تو کہیں یہ ریا ء میں داخل نہ ہوجائے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمل کرنے والے کے ارادہ اور کوشش کے بغیراگر دوسرے لوگوں کو اس کے اعمال کا علم ہوجائے پھر ان کو اس سے خوشی اور محبت ہوجائے تو یہ اخلاص کے منافی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کی حقیقت نصیب فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -