مزید کیا کہا جا سکتا ہے

مزید کیا کہا جا سکتا ہے
 مزید کیا کہا جا سکتا ہے

  

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے جی دوستوں ہم بھی یقینا اچھے ہی ہیں۔لیکن خبریں کچھ اچھی سننے کو نہیں مل رہیں جی دوستوں سب یہ بات جانتے ہیں کہ جناب نواز شریف لیگی رہنماؤں سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروا دیا گیا اور حیرانگی تو اس بات پہ ہوئی کہ جناب وزیراعظم پاکستان نے بغاوت کے مقدمے سے لاتعلقی ظاہر کر دی اور تو اور حکومتی جماعت کی طرف سے تو مقدمہ درج کروانے والے کارکن سے ہی لاتعلقی کا اظہار کر دیا گیا اورحیرانی تو اس بات پہ بھی ہوئی کہ کہ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ ایک منتخب وزیراعظم جو کہ آزاد ریاست کشمیر کے لاکھوں عوام کا نمائندہ انکے ووٹ سے منتخب وزیراعظم کے خلاف مقدمہ یقینا انوکھا اور منفرد ترین واقعہ ہے اور یہ بات سمجھ نہیں آئی بہت سے دوستوں کو کہ آخر حکومت پاکستان کو ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی کہ ایک آزاد ریاست کے وزیراعظم پہ ہی بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا ایک طرف تو ہم کشمیری بھائی بھائی کا نعرہ مارتے کشمیر بنے گا پاکستان کے دعوے بھی زور شور سے کرتے ہیں اور انہی نعروں اور دعوں کی گونج میں کشمیری وزیراعظم پہ مقدمہ بھی درج کروا دیتے ہیں یہ کیسا تضاد ہے ویسے ایک بات تو ہے کہ جناب وزیراعظم آزاد کشمیر بھی کمال گفتگو کرتے ہیں سادہ طبیعت کے حامل جناب راجہ فاروق حیدر سے ایک دفعہ لاہور میں ہی ملاقات ہوئی انتہائی نفیس انسان اور سب سے بڑھ کر ہر جگہ ہر پلیٹ فارم پہ کشمیریوں کی آواز بلند کرنے ان کے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن افسوس اس دن رات ریاضت و محنت و مشقت کا نتیجہ انھیں بغاوت کے مقدمے کی صورت میں ملا اور اگر دیکھا جائے تو حکومت پاکستان کے اس عمل سے کشمیری بھائیوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔

حکومت پاکستان کے خلاف بھی کشمیری برادری سراپاء احتجا ج ہے اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ بھی زور شور سے کررہی ہے جبکہ اس مقدمہ خارج کر دینا چاہیے اسی میں حکومت کی سیاسی بقاء ہے بہر حال دوسری طرف جناب نواز شریف کے خلاف بھی بغاوت کا مقدمہ درج ہو گیا اور العزیز یہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو تیس دن کے اندر پیش ہونے کیلئے کہا گیا عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ اگر میاں نواز۔ تیس دن کے اندر پیش نہ ہوئے تو انھیں اشتہاری قرار دیا جائیگا اور اشتہارات کا خرچہ وفاقی حکومت برداشت کریگی۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ جناب نواز شریف وہ بیرون ملک علاج کی غرض سے موجود ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جناب نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے اور انھیں ڈاکٹرز نے سفر سے منع کیا ہوا ہے اور عالمی قوانین کے تحت بھی کسی کو زبردستی واپس نہیں پا سکتی ویسے اگر دیکھا جائے تو جناب مشرف  بھی بیرون ملک ہیں اوربھی وطن واپس لانے کی بیشمار باتیں کی گئیں بلند و بانگ دعوے کئے گئے لیکن وہ سب کے سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور جناب مشرف تاحال بیرون ملک ہی قیام پزیر ہیں اسی طرح جناب الطاف بھائی بھی لندن میں موجود ہیں انکو بھی تاحال وطن واپس نہیں لایا جا سکااور اب باتیں ہو رہی ہیں جناب نواز شریف کی وطن واپسی کی تو دیکھتے ہیں کہ آیا حکومت جناب نواز شریف کو وطن واپس لانے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں یا پھر میاں نواز شریف بیرون ملک علاج کی غرض سے مزید قیام پذیر رہ سکیں گے اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا تو فی الحال اجازت دوستوں ملتے ہیں جلد آپ سے ایک ننی منی سی چھوٹی سی بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ حافظ اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائے -کالم -