ٹیپ اور ہوپ کی قیادت اب کچھ نیا کرے!

ٹیپ اور ہوپ کی قیادت اب کچھ نیا کرے!
 ٹیپ اور ہوپ کی قیادت اب کچھ نیا کرے!

  

ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ٹیپ) اور حج آرگنائزر ایسوسی ایشن آف پاکستان (ہوپ) ٹریول، عمرہ اور حج ٹریڈ کی نمائندہ تنظیمیں ہیں،دونوں ڈی جی ٹی او میں رجسٹرڈ ہیں، ٹریڈ یونین کے قواعد کے مطابق ہر سال ان کے الیکشن ہونا طے ہیں، ایگزیکٹو ممبران کو پہلے مرحلے میں دو سال کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز منتخب کرتے ہیں، دوسرے مرحلے میں منتخب ایگزیکٹو ممبران مرکزی چیئرمین سینئر وائس چیئرمین اور زونلز چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہوپ کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا (فاٹا اس کے زون میں) شامل ہیں، چار صوبوں اور اسلام آباد پانچ زون پر مشتمل حلقہ انتخاب ہے۔ ٹیپ کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے، ٹیپ کے حلقہ انتخاب کو دو حصوں نارتھ زون اور ساؤتھ زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ساؤتھ زون میں پنجاب اسلام آباد، پشاور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ کے ووٹرز پر مشتمل ہے۔ ٹیپ کا ہیڈ آفس اسلام آباد کی بجائے کراچی میں ہے۔ہوپ اس لحاظ سے انفرادیت کی حامل ہے، قیام سے اب تک تسلسل سے اس کے انتخابات ہو رہے ہیں، اختلافات دھڑے بندی کبھی الیکشن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنی، مرکزی چیئرمین سمیت زونلز چیئرمین کا انتخاب وقت پر اور تاخیر سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ٹیپ اس لحاظ سے انفرادیت کی حامل نہیں رہی، اس کی دھڑے بندی اور اختلافات ہمیشہ آڑے آتے رہے۔

یہی وجہ ہے ٹیپ کے انتخابات پانچ سال تک عدالتوں میں طویل خواری کے بعد ستمبر2020ء میں ہوئے ہیں، مجھے صحافی کارکن ہونے کی وجہ سے ہوپ اور ٹیپ کے انتخابی عمل کو قریب سے مانیٹر کرنے اور کور کرنے کا موقع ملا ہے اس لئے اخلاص نیت سے ہوپ اور ٹیپ کی نو منتخب باڈی کو مبارکباد دیتا ہوں اور پوری ایمانداری سے تلخ حقائق سامنے لاؤں گا تاکہ نئی قیادت گزشتہ سالوں کی طرح بھیڑ چال کا شکار ہونے کی بجائے ٹریڈ کے مفاد میں کچھ کر سکتے۔ہوپ اور ٹیپ کی تنظیم اور اس کے خدوخال بڑے وسیع ہیں ایک کالم میں سمیٹنا بظاہر مشکل ہے، کوشش کروں گا،مثبت انداز میں تجاویز اور قابل ِ عمل باتیں قارئین کے سامنے لاؤں۔

ہمارا من حیثیت القوم المیہ یہ ہے کہ ہم غلطی تسلیم نہیں کرتے، جھوٹ اگر کسی وقت بول لیا تو پھر ڈھٹائی سے اس پر ڈٹ جانے کو ہی بہادری اور جرأت قرار دیتے ہوئے خود بھی ایکسپوز ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ جڑے ہوئے افراد کو بھی خوار کراتے رہتے ہیں۔

ٹیپ اور ہوپ کی سیاست بھی ٹریڈ یونین کے حقیقی مقاصد سے بالاتر، ذاتی اور گروہی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔مفادات کے فقرے سے ٹیپ اور ہوپ کے بہت سے احباب ناراض ہوں گے۔ ضیوف الرحمن کی خدمت کرنے والے حج آرگنائزر نے ہوپ کے اخراجات کو ایسا ”ہوا“ بنا رکھا ہے جہاں بھی بات ہوتی ہے، فرماتے ہیں ہم نے کہاں خرچ کئے ہیں بتا نہیں سکتے۔ ٹریڈ خطرے میں پڑھ جائے گی؟ کوٹہ ختم ہو سکتا ہے؟میری ان دوستوں سے درخواست ہے ایک طرف آپ کا موقف ہے ہم 22کروڑ کی آبادی میں ہم وہ خوش قسمت ہیں جن کو اللہ نے اپنے مہمانوں کی خدمت کے لئے منتخب کیا ہے۔اس موقف کو اگر لیا جائے تو غلط نہیں ہے، کیا اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والے دو عملی کر سکتے ہیں؟رشوت دے سکتے ہیں، ایسے اخراجات کر سکتے ہیں جن کا حساب نہیں رکھا جا سکتا، میرا موقف ہے اگر آپ کا توکل ہے اللہ نے آپ کو منتخب کیا ہے تو سارا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے عمرہ اور حاجیوں کی خدمت کرتے جائیں۔ 

ہوپ کے ذمہ داران کا المیہ یہ بھی رہا ہے وہ بہت سے غلط کاموں کو غلط نہیں کہتے، بات ہو جائے تو حدیث اپنے مطلب کی نکال لائیں گے، دلائل دیں گے۔دوسری طرف اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے کہیں گے آپ نے غلط کیا ہے۔2019ء میں سروس سٹیکر کا سکینڈل سامنے آیا ہر بندہ منہ چھپا رہا تھا، جو بات پورے پاکستان کو پتہ تھی، ہوپ کے ذمہ داران تسلیم کرنے کی بجائے ایگزیکٹو ممبران کے دفاتر کے دو دو تین تین افراد سٹیکر پر  گئے، یقینا وہ ڈیوٹی دیتے رہے ہوں گے، یہ ڈیوٹی ایگزیکٹو ممبران کے حصے میں ہی کیوں آئی؟ اس غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے ذمہ داران کہتے رہے آپ لوگوں کو پتہ نہیں فلاں سابق ایگزیکٹو ممبر سٹیکر پر گیا، پکڑا گیا الزام ایک دوسرے پر لگا کر بری ہو گئے، دھڑے بندی، گروپ بندی کا شکار ممبر شخصیات کی محبت میں اندھے ہو جاتے ہیں، ایمان رہے نہ رہ گروپ رہنا چاہئے۔

اگر کسی کا کوٹہ بڑھا ہے تو بتایا جائے کسی کو انفرادی مشکل آئی ہے اس کی ہوپ نے بطور ٹریڈ یونین مدد کی ہے تو بتایا جائے50 والے دس سال سے رو رہے ہیں،110والے82 کا رونا رو رہے ہیں۔300 والے220 کا رونا رو رہے ہیں۔ میرا موقف ہے اگر یہ کوٹہ اللہ نے دیا ہے تو پھر  کروڑوں کی ادائیگی کس کے لئے ہے، 

 بظاہر سب کرتے ہیں عملاً ایسا نہیں ہو رہا۔اب ہوپ کچھ نیا کرے،بلا تفریق اپنے اور اپنے گروپ کے مفاد کو ہمیشہ کے لئے بالاتر رکھتے ہوئے ٹریڈ کی مضبوطی حج آرگنائزر کے مفاد کو ترجیح بناتے ہوئے حسابات کو بھی دو طرح کا رکھنے کی بجائے اندر اور باہر سے ایک ہوا جائے تو مجھے یقین ہے کوٹہ بھی قائم رہے گا۔ ٹریڈ بھی مضبوط ہو گی، اتنا یقین ضروری ہے، اللہ نے جو رزق ہمارے لئے لکھ دیا ہے وہ کم زیادہ نہیں ہو سکتا۔ نیتوں اور عمل سے اللہ بہتر  واقف ہے۔

ٹیپ کی صورتِ حال بھی ایسی ہی ہے، پانچ سال بعد الیکشن ہوئے ہیں سب خوش تھے، شادیانے بجا رہے تھے،حلف اٹھانے کے لئے کراچی پہنچے تو پتہ چلا خوشیاں ادھوری ہیں، عدالتی سیاست ختم نہیں ہوئی۔عین وقت پر نارتھ زون کے دو  نو منتخب اگزیکٹو ممبران کو حلف اٹھانے سے روک دیا گیا، بظاہر کچھ نہیں ہوا عملاً جگ ہنسائی ہوئی۔

نارتھ زون کا ساؤتھ زون سے مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ جائز ہے، نارتھ زون کا مرکزی دفتر اسلام آباد منتقل کرنے کا مطالبہ بھی جائز ہے، حسابات مانگنا غلط نہیں، ذمہ داران کو خود سالانہ حسابات پیش کرنے کی روایت قائم کرنا چاہئے، ٹیپ کی دھڑے بندی مخصوص لابی کی اجارہ داری کی وجہ سے ٹیپ کے ساتھ بُری طرح مجروح ہو چکی ہے،ایئر لائنز چارہ نہیں ڈال رہیں، ایئر لائنز والے ٹیپ کی کارکردگی سے واقف ہیں۔ ساکھ کی بحالی کے لئے اختلافات ختم کرنا ہوں گے۔

نئی قیادت کو کچھ نیا کرنا ہو گا، اپنے منشور پر  عمل درآمد کرنے کے لئے ٹیپ کی ڈوبتی ناؤ کو منزل دِلانے کے لئے حسابات کے معاملات شفاف بنانے کے لئے ایاٹا ایجنٹوں اور ٹیپ ممبران کو ان کا حقیقی مقام دِلانے کے لئے اب وقت آ گیا ہے ہوپ اور ٹیپ کی نئی باڈی کچھ نیا کرے۔

مزید :

رائے -کالم -