کورٹ مارشل کی طرزپر پولیس میں بھی سزاجزاء کا نظام متعارف کروایا جائے 

کورٹ مارشل کی طرزپر پولیس میں بھی سزاجزاء کا نظام متعارف کروایا جائے 

  

لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر)پولیس سسٹم میں اصلاحات، میرٹوکریسی کو یقینی بنانے، سخت احتساب اور شہریوں کیلئے بہترین سروس ڈلیوری اور حقیقی معنوں میں عوام کا خادم بنانے کیلئے سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، سی سی پی او لاہور نے پالیسنگ آف پولیس کیلئے پولیس میں کورٹ مارشل کیلئے آئی جی پنجاب کو لیٹر لکھ دیا، خط کے متن کے مطابق آرمڈ فورسز میں کورٹ مارشل کی طرز پر پولیس میں بھی سزا جزاء کا نظام متعارف کروایا جائے، خط کے متن کے مطابق پولیس میں بہترین ڈسپلن اور موثر سروس ڈلیوری کیلئے سخت سے سخت قوانین بنانا ہونگے، پچھلے پانچوں سالوں کے ریکارڈ کے مطابق 25 سے 30 فیصد سے زائد نفری کو سزائیں دی گئیں، پولیس میں یونیفارم پرسنز کو ای اینڈ ڈی رولز 1975 جبکہ منسٹریل(کلریکل سٹاف) کو سول سرونٹس رولز 1999 کے مطابق سزائیں دی جارہی ہیں، خط کے مطابق سال 2019 میں 61 ہزار سے زائد، سال 2018 میں 82 ہزار سے زائد اور سال 2017 میں 92 ہزار سے زائد اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں، پولیس میں سزاؤں کے باوجود جوڈیشری، میڈیا،  این جی اوز اور عوام الناس پولیس کے رویوں کی شکایات کرتے دیکھائی دیتے ہیں،  خط کا متن کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت سزائیں دینے سے کوئی بہتری نہیں آرہی، موجودہ قوانین کے تحت سخت سے سخت سزاؤں کے باوجود اہلکار و افسر محکمے کا حصہ ہیں،  سربراہ لاہور پولیس محمد عمر شیخ کا کہنا تھا کہ پولیس کورٹ مارشل متعارف کروانے کا مقصد غفلت اور کوتاہی پر کوئی اہلکار و افسر دوبارہ نوکری پر کوئی بحال نہ ہو سکے انصاف کی فراہمی اور سسٹم میں شفافیت کیلئے موجودہ قوانین میں کورٹ مارشل طرز کی ترامیم وقت کی اہم ضرورت ہے، ان کامزید کہنا تھا کہ پالیسنگ آف پولیس کیلئے کڑے احتساب کی ضرورت ہے۔

، جب تک سخت سے سخت سزائیں دیتے ہوئے کرپٹ، بد اخلاق اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں و افسروں کو گھروں میں نہیں بھیجا جا سکتا تب تک پولیس کو حقیقی معنوں میں عوام و الناس کی تابع نہیں کیا جا سکتا،

 یاد رہے سی سی ہی او لاہور کی طرف سے اختیارات سے تجاوز کرنے، ناقص تفتیش اور حقائق/ شواہد مسخ کرنے پر اب تک 12 اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔

مزید :

علاقائی -