حضرت علی ہجویریؒکی اسلام کیلئے بے مثال خدمات ہیں،مولاناعزیزالرحمن

   حضرت علی ہجویریؒکی اسلام کیلئے بے مثال خدمات ہیں،مولاناعزیزالرحمن

  

لاہور(سٹی رپورٹر)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مرکزی رہنمامولانا عزیز الرحمن، ثانی، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، پیررضوان نفیس، مولانا علیم الدین شاکر، خطیب ختم نبوت مولانا محبوب الحسن طاہر نے حضرت سید علی ہجویریؒ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں عقائد اسلام کی شجر کاری اور گلشن اسلام کی آبیاری میں حضرت علی ہجویریؒ کا کلیدی اور نمایاں کردار ہے۔ اولیائے پاک و ہند میں آپ کا شمار رئیس الاولیاء و الصّوفیاء میں ہوتا ہے آپ اسلام کے عظیم مبلغ مشہورصوفی بزرگ ہیں۔ آپ کااسمِ گرامی علی، ابوالحسن کنیت اور”گنج بخش“ لقب ہے۔ آپ کو علی ہجویری یا جلابی کہا جاتاہے، حسنی سیّد ہیں۔ سلسلہ نسب نو واسطوں سے دامادِ مصطفیؐ، شیرِ خدا، سیّدنا علیِ مرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ سے جاملتا ہے۔آپ کا خاندان علم و تقویٰ سے متّصف تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں علوم و معارف اور حکمت و دانائی کے خزینے خلقِ خدا میں تقسیم فرمائے۔’

’کشف المحجوب“ جیسا بے مثل خزینہ جسے بجا طور پر تصوف کا دستور العمل کہا جاسکتا ہے۔اس سے آج اہل علم فیض پا رہے ہیں۔ آپ کی زندگی ایک ایسے دَور میں بسر ہوئی،جب کہ کرّہ ارض کے کم و بیش ایک تہائی حصّے پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ آپ کے وعظ کی تاثیر کا یہ عالم تھاکہ وعظ کے اختتام پرکثرت سے لوگ دولتِ اسلام سے مشرّف ہوتے حضرت سیّد علی ہجویریؒ معروف قول کے مطابق 431ھ مطابق1039ء میں ہندوستان تشریف لائے۔آپؒ حجۃ الاسلام امام غزالیؒ کے ہم عصر تھے۔ قرونِ وسطیٰ کی صُوفیانہ فکر میں حضرت ہجویریؒ نے بنیادی طور پر امام غزالیؒ سے مِلتا جُلتا کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی تبلیغ و تعلیم کے ذریعے قلیل ترین مدّت میں ہزاروں لوگ عالم بن گئے۔ وہ لوگ جو فسق و فجور اور اَخلاقی فسادکی زنجیروں میں عرصہ دراز سے جکڑے ہوئے تھے، اس مسیحا نفس کی چارہ گری سے رذائلِ اَخلاق سے آزاد ہونے لگے۔تصوّف کی کتابوں میں ایسی گراں مایہ کتاب اس کے علاوہ فارسی میں نہیں لکھی گئی۔“”کشف المحجوب“کو حضرت سیّد علی ہجویریؒ کی تعلیمات کا واحد اور قابلِ اعتماد ماخذ تصوّرکیا جاتا ہے۔ ہماری صُوفیانہ اور فِکری روایت میں اس کتاب کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔آپ نے اپنی تعلیمات اور علمی فیضان سے اُس دَور میں فکری،اصلاحی اور اَخلاقی انقلاب برپا کیا، جب تصوّف میں بعض نئی غیر اسلامی بدعات جڑ پکڑ رہی تھیں،آپ شروع ہی سے دینی اصولوں پر شدّت سے عامل رہے۔ آپ نے اُن فرقوں کو جنہوں نے تصوّف میں بے راہ روی اختیار کی تھی، مُلحد اور لعنتی کہا ہے۔ آپ نے”کشف المحجوب“ میں لکھا: ”جو شخص توحید کے خلاف عقیدہ رکھتا ہو،اُس کا دینِ اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے۔ چوں کہ دین اصل ہے۔ آپ کا مزارِ پُر انوارزیارت گاہِ خاص وعام اور مرجعِ خلائق ہے۔قافلہ تصوّف،علم و حکمت اورطریقت ومعرفت کے سرخیل،مرکزِ تجلیات،منبع فیوض و برکات الشیخ السیّد علی بن عثمان الہجویری المعروف بہ حضرت داتا گنج بخشؒ کا وجودِ سعید لاہوراور اہلِ لاہور کے لیے مرکزِ مہر و وفا اور سرچشمہ تمنّا ودعا ہے۔ عصرِ حاضر کے ایک صوفی بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت عثمان بن علی ہجویری ؒ کی محبتیں اور عنایتیں اہلِ لاہور پر ہمیشہ سایہ فگن رہتی ہیں۔ آپ کے وجودِسعید کے سبب سرزمین پنجاب یعنی اس پورے خطے کو نئی زندگی عطا ہوئی اور آپ ہی کے آفتابِ وجود سے ہماری ملّت کے اُفق روشن ہوئے بلاشبہ تبلیغ دین اور اشاعتِ اسلام کی ان مربوط اور منظم کوششوں کا سہرا حضرت علی ہجویریؒ کے سر ہے کہ جن کے دم قدم سے دینِ اسلام کی ترویج کا وہ نظام قائم ہوا جو بنیادی طور پر آپؒ کے علم وعرفان اور ایمان و ایقان کا مرہونِ منّت تھا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -