موٹرویز کی دفاعی اہمیت

موٹرویز کی دفاعی اہمیت

  

پاکستان ائر فورس کے لڑاکا طیاروں نے لاہور اسلام آباد موٹروے پر لینڈنگ کی مشق کی، پاک فضائیہ کے لڑاکا اور تربیتی طیاروں نے مشق میں حصہ لیا،جس کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر مراد سعید تھے، پاک فضائیہ باقاعدگی سے موٹروے پر لینڈنگ کی مشقوں کا انعقاد کرتی رہتی ہے اور اِس کا مقصد پاک فضائیہ کے ہوا بازوں کو سڑکوں کو بطور رن وے استعمال کرنے کی تربیت دینا ہے،ائر وائس مارشل ظفر اسلم نے بہت سے سول اور ملٹری ڈیپارٹمنٹس خاص طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی، ایف ڈبلیو او اور موٹروے پولیس کے تعاون کو  سراہا، جن کی وجہ سے ان مشقوں کے انعقاد میں مدد ملی،پاک فضائیہ کے مطابق اِس ایکسر سائز کا مقصد شاہراہوں کے وسیع نیٹ ورک کو جنگ جیسی صورتِ حال میں طیاروں کی لینڈنگ کے لئے استعمال کرنا ہے۔

لاہور اسلام آباد موٹروے پر پاک فضائیہ کے طیاروں کی لینڈنگ(اور بعد میں ٹیک آف) کا سلسلہ گزشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ اِس موٹروے پر سات کے لگ بھگ ایسے مقامات ہیں،جو بڑے طیاروں کی لینڈنگ کے لئے باقاعدہ استعمال ہو سکتے ہیں،دوسرے الفاظ میں یہ سات مقامات سات ہوائی اڈے ہیں، جہاں بڑے ہوائی جہاز آسانی سے لینڈ کر سکتے اور فیول حاصل کرنے کے بعد ٹیک آف کر سکتے ہیں،باقاعدہ ہوائی اڈوں کے ساتھ ساتھ یہ موٹرویز اور شاہراہیں بھی اگر طیاروں کی لینڈنگ کے لئے استعمال ہوں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ ان شاہراؤں کی دفاعی اہمیت بھی ہے،جو ان کی ایک اضافی افادیت ہے،کیونکہ موٹرویز اور شاہراہیں بنیادی طور پر تو سفر اور آمدورفت ہی کے لئے استعمال کی جاتی ہیں،لیکن اگر انہیں جنگ جیسی صورتِ حال یا کسی باقاعدہ جنگ میں دفاعی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے تو ان کی افادیت دو چند ہو جاتی ہے،اِس لحاظ سے لاہور اسلام آباد موٹروے ہمارا ایک بڑا دفاعی اثاثہ بھی ہے جسے اس نقطہ نظر سے بہت کم دیکھا گیا ہے۔

یہ پہلی موٹروے ہے، جو پاکستان میں تعمیر ہوئی اور جس نے سفر کے تصور کو بالکل ہی نیا رُخ دے دیا،اس سے پہلے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ چھ سات یا اس سے بھی زیادہ گھنٹوں میں طے ہوتا تھا،جی ٹی روڈ پر پرائیویٹ گاڑیوں کے سفر میں کم از کم چھ سات گھنٹے لگ جاتے تھے، پبلک ٹرانسپورٹ میں تو اِس سے بھی زیادہ عرصہ لگتا تھا۔ بسیں بھی اتنی آرام دہ نہیں تھیں، اس ”پہلوٹھی“ موٹروے کی تعمیر کے بعد ایک غیر ملکی کمپنی نے جدید بسیں چلائیں تو لاہور سے اسلام آباد کا سفر چار، سوا چار گھنٹے میں طے ہونے لگا، پرائیویٹ موٹر کاروں میں تو یہ سفر تین ساڑھے تین گھنٹے میں بھی ممکن ہو گیا،اس کے بعد اسلام آباد پشاور موٹروے بنی تو لاہور سے پشاور تک جو سفر دس گھنٹوں میں طے ہوتا تھا وہ اب جدید بسوں کی وجہ سے پانچ سے چھ گھنٹوں میں بھی ہو جاتا ہے، اسی طرح لاہور فیصل آباد، لاہور ملتان موٹروے نے بھی فاصلے حیران کن حد تک کم کر دیئے ہیں،اب ان سڑکوں کے ذریعے لاہور سے کراچی تک16گھنٹوں میں بھی پہنچنا ممکن ہو گیا ہے۔ ایک نجی بس کمپنی اپنے مسافروں کو سولہ ساڑھے سولہ گھنٹوں میں لاہور سے کراچی پہنچا دیتی ہے،اس کے مقابلے میں ٹرین کا سفر زیادہ وقت لے لیتا ہے اور اگر راستے میں انجن خراب ہو جائے جو اکثر ہو جاتا ہے تو لاہور اور کراچی کا سفر چوبیس گھنٹے سے بھی زیادہ لے لیتا ہے۔

موٹروے کا تصور جب پاکستان میں متعارف کرایا گیا تو اس پر بہت زیادہ نکتہ چینی کی گئی، کہا گیا کہ پاکستان جیسے غریب مُلک میں ایسی موٹرویز کی تعمیر عیاشی کے مترادف ہے،ان پر بڑی رقم خرچ اس لئے کی جا رہی ہے کہ خرچ کرنے والے اِن میگا پراجیکٹس سے کمشن کھانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ  نئی موٹروے بنانے کی بجائے پرانی سڑکوں ہی کو کم اخراجات سے ٹھیک کیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا،سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ان موٹرویز کے تعمیراتی کام میں خاصی تاخیر بھی روا رکھی گئی، جب اسلام آباد پشاور موٹروے تعمیر کی جا رہی تھی تو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی اس کی تعمیر رکوا دی اور طویل غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ چھ رویہ موٹروے کو چار رویہ کر دیا جائے، جب تعمیراتی کمپنی کو یہ نادر شاہی حکم ملا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم نے تو معاہدے کے مطابق راستے میں آنے والے تمام پُل چھ رویہ بنا دیئے ہیں،اب اگر سڑک چار  رویہ بھی بنائی جائے تو خرچہ کم نہیں ہو گا،اس  ردو کد میں بہت سا وقت ضائع کیا گیا اور تعمیر رُکی رہی، سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی نے معاملہ عدالت میں لے جانے کا اعلان بھی کیا،جس پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی اور یوں بعد از خرابی بسیار یہ موٹروے تعمیر ہوئی تو مسافروں نے محسوس کیا کہ لاہور سے پشاور تک کے سفر کا دورانیہ تو نصف رہ گیا ہے اور وقت کی محیر العقول بچت ہوتی ہے، مسافروں نے آمدورفت میں وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ آسانی بھی محسوس کی اور یوں سفر میں ایک انقلاب آ گیا۔

یہ موٹرویز دفاعی اہمیت کی حامل بھی ہو سکتی ہیں یہ پہلو تو عوام الناس کی نظروں سے بالکل ہی اوجھل تھا،لیکن کوئی دس سال پہلے جب پہلی مرتبہ پاک فضائیہ کے طیارے اِس موٹروے پر اُترے تو انکشاف ہوا کہ یہ موٹروے صرف آمدورفت ہی کے لئے نہیں،بلکہ دفاع وطن میں بھی اپنا ایک انقلابی کردار رکھتی ہے،کیونکہ اس کے کم از کم سات(یا کم و بیش) مقامات ایسے ہیں،جہاں بڑے طیارے بھی آسانی سے لینڈ کر سکتے ہیں۔یوں اب ہر سال فضائیہ کے ہوا بازوں کو اِس موٹروے پر طیارے لینڈ کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے، یہاں یہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ دورانِ جنگ دشمن ہوائی اڈوں کو ناقابل ِ استعمال بنانے پر خصوصی توجہ دیتا ہے،اِس لئے ہنگامی حالات میں ایسی موٹرویز پر طیارے اُتارے اور اُڑائے جا سکتے ہیں اِس لحاظ سے ہمارے لئے ایسی موٹرویز کی اہمیت دوچند ہے۔ کوئی پچیس سال قبل جن وژنری  دماغوں نے اِس موٹروے کا تصور دیا، اب اُن کی بصیرت کی داد دینا پڑتی ہے، جو لوگ اِس جدید دور میں بھی سڑکوں پر سرمایہ کاری کو پیسے کا ضیاع تصور کرتے ہیں اُنہیں شاہراؤں اور موٹرویز کی اِس اضافی دفاعی اہمیت پر غور کرنا چاہئے اور شاہراؤں پر سرمایہ کاری کو پیسے کا ضیاع قرار دینے کے دقیانوسی تصور پر نظرثانی کرنی چاہئے،کیونکہ ہماری یہ شاہراہیں ہماری فضائیہ کے جانبازوں کو ہوائی اڈوں کے متبادل رن وے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہیں، جو ہمارے جیسے ممالک کے لئے ایک نعمت ِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -