جزائر کی ملکیت پر تنازعہ!

جزائر کی ملکیت پر تنازعہ!

  

ملکی ترقی کے لئے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون لازم ہے، پاکستان میں اِس وقت تین صوبوں پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تحریک انصاف(کلّی یا جزوی طور پر) برسر اقتدار ہے، تاہم سندھ میں پیپلزپارٹی کا اقتدار ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان اب تک تعاون کی کوئی صورت نہیں بن پائی،جس کی وجہ سے خصوصی طور پر کراچی کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔گذشتہ دِنوں کراچی سرکلر ریلوے اور بعض دوسرے امور کے لئے ایک معاون کمیٹی بن گئی تھی، سرکلر ریلوے پر کام شروع ہو چکا ہے، تاہم کسی نہ کسی نکتے پر نیا تنازعہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اب صدرِ مملکت کی طرف سے ایک آرڈیننس وجہ نزاع بن گیا، جسے آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا نام دیا گیا۔اس کے تحت پورٹ قاسم سے ملحق دو جزیرے بنڈل اور بڈو، وفاقی تحویل میں لئے گئے ہیں۔ دو ستمبر کو نوٹیفائی ہونے والا آرڈیننس اب منظر عام پر آیا تو سندھ حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے یہ جزائر سندھ کی ملکیت ہیں۔ ان کی ترقی کے لئے پہلے تو صوبے کی طرف سے وفاق کو لکھے گئے ایک خط میں چار شرائط دی گئی تھیں،ان میں پہلی وضاحت یہی تھی کہ یہ جزیرے عوام کی ملکیت اور سندھ کے ہیں۔صوبائی کابینہ نے اب یہ خط بھی واپس لے لیا اور آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیا، اس کے لئے18ویں ترمیم کا بھی ذکر کیا گیا۔اس سے ہر شخص اتفاق کرے گا کہ اگر یہ جزائر ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتے اور  بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ترغیب کا باعث بن سکتے ہیں،تو پھر کل کا کام آج شروع ہو جانا چاہئے،لیکن یہ سب کچھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے ہونا چاہئے، موجودہ حالات میں وفاق اور سندھ میں ایسا کوئی رابطہ نہیں،پنجابی محاورے کے مطابق گرے ہوئے بیروں کا اب بھی کچھ نہیں گیا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہم مل بیٹھ کر تعاون کا راستہ کشادہ کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -