سیاسی تاریخ کا سبق، مخالف کو کمزور نہ جانو!

سیاسی تاریخ کا سبق، مخالف کو کمزور نہ جانو!
سیاسی تاریخ کا سبق، مخالف کو کمزور نہ جانو!

  

پاکستان کی سیاسی تاریخ اتحادوں سے بھری ہوئی اور یہ بھی کہ یہاں آئے روز حکمران تبدیل اور وزیراعظم بدلتے رہے، آئی آئی چندریگر (ابراہیم اسماعیل چندریگر) کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ سب سے کم مدت والے وزیراعظم تھے، جبکہ قیام پاکستان کے ابتدائی دور کے آخری وزیراعظم فیروز خان نون تھے، ان کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی اور کمانڈرانچیف بری افواج ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا اور1953ء کے مختصر اور محدود مارشل لاء کے بعد ملک بھر میں پہلا مارشل لاء لگا دیا، انہوں نے صدر سکندر مرزا کو بھی چلتا کیا تھا، جن سے حکومت برطرف کرائی گئی تھی، جس میں ایوب خان کمانڈرانچیف کے ساتھ وزیر دفاع بھی تھے۔ یوں ملک ایک نئے دور اور تناظر میں داخل ہو گیا تھا، پھر انہی ایوب خان نے خود کو فیلڈ مارشل بنا لیا اور  قریباً گیارہ سال حکومت بھی کی،انہوں نے بنیادی جمہوریت کا نظام رائج کر کے1962ء میں ایک صدارتی آئین بھی دیا تھا، اس کے تحت حکومت کی معطلی یا تبدیلی کی صورت میں اقتدار سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد ہونا تھا، لیکن انہوں نے یہ یحییٰ خان کے حوالے کیا (بعض روایات کے مطابق، خان نے خان سے چھین لیا) بہرحال اسی مارشل لاء کے دور میں مخالف سیاسی اتحاد بنے اور 1965ء کے صدارتی انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق رائے سے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار نامزد کیا۔

یہ انتخاب بنیادی جمہوریت والے نظام کے تحت ہوا، تھانیداروں نے کمال دکھایا، بنیادی جمہوریت والے اراکین کو تھانوں میں اکٹھا کر کے اپنی نگرانی میں ووٹ ڈلوائے،اتنی بڑی دھاندلی کے باوجود مادرِ ملت جیت رہی تھیں،لیکن تب مشرقی پاکستان(اب بنگلہ دیش) سے بھی حمایت حاصل کر لی گئی، تب بھی زور اور زر کا کمال تھا۔ مادرِ ملت کو ہرا تو دیا گیا،لیکن ایک گرہ بیٹھ گئی، اگرچہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں حزبِ اختلاف نے کسی تحفظ کے بغیر خود جا کر صدر ایوب کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دِلا دیا،لیکن یہ سب دفاع وطن کے لئے تھا،جب پاک بھارت جنگ ختم  پھر تاشقند میں مذاکرات، تو بساط بھی نئی بچھ گئی۔ کابینہ میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اختلاف کیا اور کابینہ چھوڑ دی، بعد کی یہ تاریخ ہے کہ انہوں نے خود اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی بنائی اور ایوب مخالف تحریک کا حصہ بن گئے،جو سابق اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جنگ بندی کے بعد سے جاری تھی اور اتحاد بن چکا تھا۔

یہ1967ء سے68ء کا دور تھا، جب ایوب حکومت نے دس سالہ جشن شروع کیا۔ذوالفقار علی بھٹو 1967ء میں پارٹی بنا لینے کے بعد خود مختار انداز میں حکومت کی مخالفت کر رہے تھے۔یہ کوشش، محنت یا تحریک ثمر آور ثابت ہوئی اور ایوب خان نے اقتدار چھوڑ دیا، لیکن سپرد کمانڈرانچیف یحییٰ خان کے کیا،جن کے دور میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ یہ بھی ایک پوری تاریخ ہے اور الزام در الزام سے بھری پڑی ہے، ابھی تک اس حوالے سے جو کچھ بھی لکھا گیا وہ سب اپنے اپنے انداز فکر کا ہے، حقائق میں ذاتی بچت کے حوالے سے در اندازی کی گئی، ضرورت اب بھی ہے کہ انتہائی غیر جانبداری سے حقائق کی چھان بین کی جائے اور جس کا جتنا گناہ، اس کے ذمہ ہو، یہ ضروری ہے کہ قوموں کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہو جاتا ہے،ان تک حقائق اور سچ پہنچانا ضروری ہے۔

گذشتہ روز اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایک وفد کے ساتھ جاتی امراء گئے اور سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ(ن) کی موجودہ قیادت سے ملاقات اور مشاورت کی، مریم نواز نے استقبال کیا، ان کے ساتھ شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال،ایاز صادق، رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق اور دوسرے بھی تھے۔مولانا کے ساتھ امجد خان اور مولانا اویس نورانی(مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے) بھی تھے، یہاں تحریک اور جلسوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا اور مولانا فضل الرحمن نے پھر دبنگ انداز میں گفتگو کی اور بتایا کہ تحریک رک نہیں سکتی اور مرحلہ وار تیز کی جائے گی۔ تمہید طولانی ہو گئی، عرض یہ کرنا تھا کہ یہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ ہے کہ کل کے حریف، آج کے حلیف بن جاتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ1977ء میں عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزام کے تحت تحریک بھی ایک نو جماعتی اتحاد پی این اے کے بینر تلے شروع ہوئی تھی۔ یہ اتحاد عام انتخابات کے اعلان کے بعد یکایک بن گیا (بنا بنایا تھا اعلان اچانک ہوا) یہ سوئے اتفاق ہی ہے کہ تب بھی ہم رپورٹر حضرات ڈھونڈھ اور مشقت کر کے منفی خبریں لاتے تھے حتیٰ کہ جس رات شادباغ میں رفیق احمد باجوہ کے گھر پر اتحاد کا اعلان ہوا، اس رات جرنلسٹ بھی چیدہ چیدہ تھے، ہم بہرحال ان میں شامل تھے، قارئین کی اطلاع کے لئے تب اتحاد کی تیاریوں کے دوران جرنلسٹ حضرات پیر علی مردان شاہ پگارو کی صدارت کے قائل تھے اور حمایت بھی کرتے تھے، پھر ہم ہی نے یہ خبر بھی دی کہ پیر صاحب اجلاس چھوڑ کر ریس کورس چلے گئے،لیکن بات مختلف تھی۔

پیر علی مردان شاہ پیر پگارو نے ہمیں خود بتایا تھا کہ وہ اتحاد کی سربراہی کے امیدوار ہی نہیں تھے، چنانچہ مفتی محمود مرحوم کے لئے وہ بھی متفق تھے۔ مفتی محمود جو موجودہ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی رہے، پی این اے کے متفقہ صدر تھے،جو نوجماعتیں اس اتحاد میں تھیں، زیادہ تر دائیں بازو کے نظریات کی حامل تھیں۔ البتہ اے این پی بھٹو مخالفت میں پیش پیش اور شامل ہوئی  تھی،  یہ سوئے اتفاق ہے کہ اب تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جو گیارہ جماعتی اتحاد بنا،اس کے سربراہ مفتی محمود کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن ہیں اور اس میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ پیپلزپارٹی بھی شامل ہے اور یہ اتحاد دائیں بائیں اور درمیانی نظریات کی حامل جماعتوں کا ملغوبہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن پی این اے کے دور سے  ایک نوجوان کی حیثیت سے والد ِ محترم کے ساتھ سیاسی عمل میں شریک رہے اور اب وہ بہت تجربہ کار ہیں اور یہ انہوں نے منوا بھی لیا ہے اور اب 43سال بعد وہ والد کی طرح ایک بڑے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ ہیں۔

ہمارا مولانا سے بہت اچھا تعلق رہا اور ان کی بعض باتیں ہمارے پاس امانت بھی ہیں۔ یہ درست کہ مولانا کے پاس افرادی قوت موجود ہے، جو عقیدت والی ہے، اب ان کے ساتھ اہم جماعتوں کی بھی حمایت ہے، تاہم ہم عرض کر دیں کہ مولانا کو ڈیزل کہہ کر ان کا مذاق نہ اڑائیں،بلکہ سنجیدگی سے غور کریں کہ ان کی جڑیں اس سرزمین میں ہیں تو باغبانوں سے بھی تعلق رہتا ہے، جو حضرات اس اتحاد کو پھونکوں سے اڑا رہے ہیں وہ جان لیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اب بھی وقت ہے کہ مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے اور قومی امور کے حوالے سے مشاورت کر کے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔دوسری صورت میں جو ہو گا اس سے خوف آتا ہے۔ ہم یہ کہہ کر بات ختم کرتے ہیں کہ اگر تحریک ناکام بھی ہوتی ہے تو بھی ملک میں چین نہیں ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -