مدینے کا یتیم بچہ۔۔۔! (2)

مدینے کا یتیم بچہ۔۔۔! (2)
مدینے کا یتیم بچہ۔۔۔! (2)

  

 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں جو مسلمانوں پر حملے کیے گئے اُن کی تعداد تقریباََ 154 کے قریب بنتی ہے۔ ایک بہت بڑا سوال جو دنیا میں بسنے والے ہر مسلمان کے ذہن میں آتا ہے کہ وجہ کیا ہے کبھی تو وہ Norway میں قرآن پاک کے جلانے کی جسارت کرتے ہیں تو کبھی وہ کارٹون اور فلموں کے ذریعے مسلمانوں کو رنج والم میں مبتلا کرتے ہیں؟ اگر ہم اس کی کڑی کو تلاش کریں تو اس کا بنیادی جوڑ Connection آپ کو صلیبی جنگوں Crusades سے ملتا ہوا نظر آئے گا۔ صلیبی جنگیں وہ ہیں جن کی دعوت نصرانیوں کے مذہبی پیشوا اور علما دیتے ہیں اور یہ جنگیں صلیب کے نام پر صلیبی پرچم تلے لڑی جاتی ہیں“۔ یہ جنگیں باقاعدہ طور پر سن 489 ھ میں شروع ہوئیں اور تقریباََ 690 ھ تک جاری رہیں۔ یورپی لیڈروں کے ذہنوں میں اس جنگ کے تین بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا ایشیائی مسلم ممالک پر قبضہ کرنا، دوسرا بیت المقدس کی بازیابی اور تیسرا مسلمانوں سے گزشتہ صدیوں کی شکستوں کا انتقام لینا۔ اُس وقت راہب پیٹر (پطرس) نے جب بیت المقدس کی زیارت کی تو واپس جا کر اس نے اپنے لوگوں کو اشتعال دلایا کہ مسلمان ہمارے مقدس مقامات کی توہین اور یورپی زائرین پر ظلم کر رہے ہیں۔

اس کے بعد  15 اگست  1085پوپ اربن نے وینس (venice) کے مقام پر پہلی صلیبی جنگ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد دس لاکھ صلیبوں نے فرانس کے حاکم گاڈ فرے کی قیادت میں جولائی 1099 کو ستر ہزار مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں شہید کیا حتیٰ کہ اُن کے گھوڑوں کے گھٹنے تک مسلمانوں کے خون سے ڈوب گئے۔ اس واقعہ کے 26برس بعد دوسری صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا اور 1124 میں عماد الدین زنگی نے صلیبیوں سے جہاد کیا اور اُن کو شکست دی۔ اس طرح اُس کے بیٹے سلطاں نورالدین زنگی نے بھی اپنے باپ کے نقش ِقدم پر چلتے ہوئے جرمن اور فرانسیسی عیسائیوں کو دوسری صلیبی جنگ میں شکست دی۔ تیسری صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے شام اور مصر کو متحد کر کے عیسائیوں کی طاقت کو فنا کر دیا اور یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔

ستمبر 1187 کو بیت المقدس مسلمانوں نے فتح کر لیا اور صلیبی شکست کھا کر ناکام لوٹ گئے۔ چوتھی صلیبی جنگ میں جرمن حکمران ہنری ششم شام پر حملہ آور ہوا مگر وہ بھی عکا کے مقام پر پہنچ کر مر گیا۔ پانچویں صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے بھتیجے الملک الکامل اور اس کے بھائیوں نے زبردست معرکوں کے بعد صلیبیوں کو عبرتناک شکست دی۔ چھٹی صلیبی جنگ جو 1228 میں ہوئی جس میں شاہِ جرمنی فریڈرک دوئم کی قیادت میں عیسائیوں نے فوج کشی کی اور اس بار مسلمانوں کو مغلوب کرلیا اور بیت المقدس ایک معاہدے کے تحت خاص مدت کے لئے جرمن کے حوالے کر دیا گیا۔ مگر اٹھارہ برس بعد 1244 میں مصر کے ایوبی حکمران الملک الصالح ایوب نے خوارزمی سپاہیوں کے ساتھ مل کر بیت المقدس کو صلیبیوں سے چھین کر ان کو شکست دے دی۔ ساتویں صلیبی جنگ فرانس کے بادشاہ سینٹ لوئیس نے روم کے کہنے پر جنگ کا آغاز کیا وہ مسلمانوں سے شکست کھاکر منصورہ کے مقام پر قیدی بنا لیا گیا اور چار سال بعداس کو آزاد کردیا گیا۔

آٹھویں صلیبی جنگ کا آغاز اٹھارہ برس بعد پھر ہوا جب جولائی 1270 میں سینٹ لوئیس نے ایک بار پھر حملہ کیا اور وہ اس دفعہ مارا گیا۔ اس کے بعد شاہِ مصر الملک الخلیل نے پورے شام سے عیسائی ریاستوں کا خاتمہ کردیا۔ اصل بات سینٹ لوئیس کی وہ نصیحتیں تھیں جو اُس نے تقریباََ 200 سال شکست کھانے کے بعد اپنے لوگوں کو مسلمانوں کے بارے میں کیں۔ اُس نے یورپ کے لوگوں کو کہا کہ آپ لوگ مسلمانوں کے ساتھ جنگ و جدل میں کبھی نہیں جیت سکتے مگر ان لوگوں کو اگر نظریاتی طور پر کمزور کردو تو آسانی سے اِن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ مسلمان حکام میں پھوٹ ڈالی جائے، دوسرا ان میں پختہ عقیدے اور مضبوط ایمان والے کسی گروہ کو ثابت قدم نہ رہنے دیا جائے، تیسرا مسلم معاشرے کو فحاشی، بداخلاقی اور مالی بدعنوانی کے ذریعے کمزور بنایا جائے، چوتھا ہمیشہ ان کے ایمان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش جاری رکھی جائے اور ایک وسیع متحدہ یورپی حکومت قائم کی جائے۔۔۔! اگر ہم ان تمام نکات پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یورپ آج اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے، جبکہ مسلمان ممالک آج ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے ہیں۔ مسلم اُمہ کو دوبارہ سے عروج اُس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک کہ تمام مسلم ممالک مل کر اتحاد و اجتہاد اور جہاد کے ساتھ ان تمام طاغوتی قوتوں کا مقابلہ نہ کریں،ورنہ مدینے کا بچہ یتیم،مسکین اور غریب ہو نے کے باوجود قیامت کے دن ہم سے کئی ہزارسال پہلے جنت میں مزے لوٹ چکاہو گا۔  (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -