جواب کی تلاش!

جواب کی تلاش!
جواب کی تلاش!

  

مملکت ِ خدادادِ پاکستان جہنم پرستوں کے لئے ایک جنت ہے۔ ہر طرح کے ظلم اور لوٹ کھسوٹ کا کاروبار پورے عروج پر ہے۔ قانون کی آڑ میں لاقانونیت، انصاف کی چھتری تلے ناانصافی اور دوستی کے پردے میں دشمنی! جملہ شعبوں میں گناہ ہی گناہ اور جرم ہی جرم!! کون ہے جو خدا سے کھلی بغاوت پر نہیں اُتر آیا؟ ہر عام و خاص کثرت کی خواہش میں ہلاک۔ کثرت کا پیٹ بھلا قبر کے سوا کون بھر سکتا ہے؟ قبر اور حشر و نشر لیکن کسے یاد ہے؟……وطن ِ عزیز میں ”بدکار“ دو طرح کا مشرب رکھتے ہیں۔مرکزی مطمح نگاہ، لیکن ایک ہی ٹھہرا، کچھ افراد و خاندان گاہ گاہ حسب ِ ضرورت اسلام کا نام نوک زبان پر لاتے اور احساسِ آخرت کا ڈھونگ بھی سرعام رچاتے ہیں،جبکہ دوسرے اشخاص اور گھرانے مخلوقِ خدا کے حقوق کی مالا جپتے اور روشن خیال ہونے کا دم بھرتے ہیں۔ اولاً: کھاتے تو سؤر ہیں، مگر باقاعدہ تکبیر بجا لاتے اور ظاہراً ذبیحہ کے جملہ تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ ثانیاً: اپنی ترجیح کے مطابق ”حلال“ کا بھی ”جھٹکا“ اپنا فرض سمجھتے ہیں!……دونوں طبقات کی شناخت کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ بس آپ ذرا آنکھ کھولیں اور تھوڑی دیر دائیں بائیں دیکھیں۔ نام محض اضافی ہے۔ انہیں کون نہیں جانتا؟ایک کی پہچان ”مسلم……!“ کی رعایت سے،دوسرے کی  عوامی……“!

چند روز قبل ثانیہ نشتر نے برملا نشاندہی کی تھی کہ ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام“ سے ایک لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازمین بھی وظیفہ وصول پانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ان میں متعدد گزٹیڈ افسر اور ان کی بیویوں کے نام بھی موجود پائے گئے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق منظر عام پر آنے والی رپورٹ مصدقہ ہے، اور اس بارے میں کسی شک و شبہ کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔ قبل ازیں ایک ایسا شریف نام بھی بین الاقوامی سطح پر زیر بحث آیا، جس نے زلزلہ زدگان کے لئے مختص لقموں کو حالت وضو میں بسم اللہ الرحمن الرحیم تلاوت کرتے ہوئے اپنی اور اپنی آل اولاد کی خوراک بنا لیا تھا۔یہ کھاتے پیتے ازلی بھوکے ہیں۔ ان کے پیٹ جیتے جی کبھی نہیں بھر سکتے، بس ایک موت اور پھر قبر ہے، جو ان کے نشہئ ہوس کو اُتار دے۔اس معاشرے میں سب کچھ ہی ممکن ہے۔ دودھ کالا اور شہد کڑوا بھی ہو سکتا ہے،ہر جگہ، ہر وقت اور ہر شے ہڑپ کر جانے والی عجیب النسل مخلوق! ننگ ِ دین، ننگ ِ ملت، ننگ ِ وطن۔ اپنے اپنے دور کے حاکمانِ شہر اور ان کے زیر سرپرستی پلنے اور چلنے والی انسان نما مخلوق!اِس ملک میں عموماً یہ کچھ ہوتا چلا آ رہا ہے،اور جانے مزید کب تک ہونا باقی ہے۔

کل کی بات ہے، یہاں کشمیر، کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن ہوا کرتے تھے۔ جناب آصف علی زرداری صدرِ مملکت اور میاں نواز شریف وزیراعظم رہ چکے ہیں،جبکہ عمران خان آج!آہ، یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق سیاہ و سفید کے مالک رہ چکے ہیں، اور حضرت قبلہ پرویز مشرف! جانے کتنے ہی ”ممنوعہ“  صدور اور ”حلالہ“ وزرائے اعظم! ہمارے ایک ایسے بھی صدرِ محترم تھے،جن کے دادا میر جعفر ہیں۔ نواب سراج الدولہ کے نمک حرام و قومی غدار! کیا ہم تاریخ سے سکندر مرزا کو نکال باہر کر سکتے ہیں؟کیا کیا بتاؤں؟ کس کس کا نام گنواؤں اور سمجھاؤں کہ کون کون سی خاتونِ اول کہاں کہاں سے آئی اور اس کا شجرہئ نصب کیا تھا؟ پاکستان اپنی فطرت میں ایک نظریہ تھا، ارکانِ مقننہ کا مزاج، مگر بلال گنج جیسا۔ آخر مقتدر حلقے نیلام گھر کا منظر نامہ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ یہ کب تک چلے گا؟ کب نہیں چلے گا؟؟حق اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چل رہا ہے، چلایا نہیں جا رہا۔ میرے ملک میں کب سے جینا محال بلکہ عذاب ہے۔لمحہ لمحہ ایک اندیشہ ئ  زوال! سوال لیکن یہی ہے کہ کیوں؟ علاج ”اس کا بھی کوئی چارہ گراں ہے کہ نہیں“۔یہ پہلا اور آخری سوال ہے۔اس کا پہلا اور آخری جواب بھی ایک سوال ہے۔کیا ہم واقعی جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ سوال کا سوال اور  جواب کا جواب!!

مزید :

رائے -کالم -