امن کی پیامبر پاک فوج

امن کی پیامبر پاک فوج
امن کی پیامبر پاک فوج

  

یہ پانچ جون 1993ء کی بات ہے جب افریقی ملک صومالیہ بری طرح خانہ جنگ کی لپیٹ میں تھا امن عامہ کی حالت بدترین ہوچکی تھی۔ قتل وغارت، لوٹ مار،معصوم شہریوں کا قتل روزمرہ کا معمول تھا۔ صومالیہ کے وارلارڈ فرح عدید کے باغی دستے پورے ملک اور خصوصا درالحکومت موغادیشو پر قابض تھے تو اقوام متحدہ نے اپنے امن دستے صومالیہ بھیجے جو مختلف ملکوں کی افواج پر مشتمل تھے۔ اس میں اقوام متحدہ کی درخواست پر پاکستانی فوج پر مشتمل امن دستہ بھی شامل تھا۔ جب باقی ملکوں کے فوجی دستے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے تو پاکستانی فوجیوں پر مشتمل امن دستے نے اپنی شجاعت، جوانمردی، دلیری اور پیشہ وارانہ مہارت کے لازوال جوہر دکھائے اور صومالیہ میں امن قائم کیا اور اب ہر سال 5جون کو پاکستانی فوجی دستے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے وہاں یوم افواج پاکستان منایا جاتا ہے۔ صرف صومالیہ ہی نہیں پاکستانی فوجی دستے جنگی طور پر متاثر ہونے والے 28 ممالک میں اقوام متحدہ کے تحت امن بحال کرانے میں شاندار خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ پاک فوج کے امن دستوں کی خدمات 1960ء سے جاری ہیں جو کانگو سے شروع ہوئیں اوراب تک دنیا کے پانچوں براعظموں میں 46امن مشنوں میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوا چکے ہیں ان دستوں میں دولاکھ سے زیادہ پاک فوج کے جوان اور آفیسرز شریک رہے۔ یورپ سے لے کر افریقہ اور مشرق وسطی میں خانہ جنگی کے باعث تباہ حال ملکوں میں ان دستوں نے نہ صرف معصوم اور نہتے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کیا بلکہ ان ممالک میں امن بحال کرایا۔

اس حوالے سے پروفیسر طغرل یامین جو امن دستوں کو لیکچر دیتے ہیں اور اس موضوع پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے موقع پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے فرمایا تھا کہ پاکستان تمام قوموں، ملکوں اور عالمی سطح پر امن کا خواہاں ہے اور پاکستانی افواج نے اپنے قائد کے فرمان کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل ہوکر اس کا واضح ثبوت فراہم کیا ہے کہ افواج پاکستان امن کی خواہاں ہیں اور انہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔ بعینہ پاکستانی فوج کی بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت کے حوالے سے میجر جنرل تھامس منٹگمری جو موغادیشو میں خانہ جنگی کے دوران موجود تھے۔

رقمطراز ہیں کہ 5دسمبر 1992ء کو 1500امریکی فوجی جو باغیوں کے نرغے میں تھے اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق تھا توپاکستانی فوجیوں نے اپنی مہارت اوردلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان امریکی فوجیوں کوبچایا جس پرہالی وڈ میں بلیک ہاکس ڈاؤن (Black Hawks Down)  نامی فلم بھی بنائی گئی مگر تعصب کے باعث پاکستانی دستے کی ہمت، ولولے اور بہترین کارکردگی کو نہیں دکھایا گیا جو صریحاً ناانصافی ہے۔ پروفیسر طغرل یامین اور میجرجنرل تھامس منٹگمری نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔اسی طرح پاکستانی فوج کے میجر جنرل ریٹائرڈ انعام الحق کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام مختلف ملکوں میں امن دستوں میں شریک ہونے والے فوجی اپنا اسلحہ اقوام متحدہ سے طلب کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے زور بازو اور اسلحہ پر بھرپور اعتماد ہے اور ہم نے ہمیشہ اور ہر ملک میں جہاں ہمیں بھیجا گیا اپنا اسلحہ استعمال کیا۔

یہ بات ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ ہماری افواج مہارت کے اعلی ترین معیار کی حامل ہے اور اس پرطرہ یہ کہ ان کے اندر شوق جہاد اورجذبہ ایمانی کی موجودگی انہیں دنیا کی دیگر افواج سے ممتاز کرتی ہے جو دنیا کی دیگر افواج میں مفقود ہے۔ ہمارا فوجی جوان شہادت کے جذبے سے فوج میں شامل ہوتا ہے جبکہ باقی دنیا کی افواج حصول معاش کے لئے۔حال ہی میں جب ملک میں دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا ہماری فوج نے بے مثال قربانیاں دے کر جس طرح دہشت گردوں اور دہشت گردی کا قلع قمع کیا وہ نہ صرف یہ کہ قابل تحسین ہے بلکہ وطن عزیز کی تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے زمانہ امن میں بھی جب  وطن عزیز زلزلوں یا سیلابوں میں گھر جائے تو یہ افواج پاکستان ہی ہیں جو اس کڑے وقت میں جان جوکھوں میں ڈال کر ان سے نبرد آزما ہوئی ہیں۔ پاکستان جواسلام کا ایک قلعہ ہے اس کے خلاف اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتیں تسلسل کے ساتھ سازشوں میں مصروف رہتی ہیں او ر یہ ہماری افواج ہی ہیں جو سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرکے پاکستان اور اہل پاکستان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ہم سکون کی نیند سوتے ہیں اس وقت بھی پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار جاری ہے جس کے لئے ہمار ا دشمن ملک بھارت دیگر پاکستان دشمنوں کے ساتھ مل کر ہماے چند عاقبت نا اندیش لوگوں کو ڈالروں کے عوض خرید کر ہماری بہادر افواج کے ذریعے مذموم اور گھناؤنا پراپیگنڈہ کررہے ہیں لیکن پاکستان کے عوا م باشعور ہیں او ر وہ ا ن سازشوں سے بدرجہ اتم آشنا ہیں اوروہ اس پراپیگنڈہ کو بری طرح مسترد کرتے ہیں اور اپنے جذبہ جہاد اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار افواج کو والہانہ طور پر چاہتے ہیں جس کے باعث دشمنان پاکستان کومنہ کی کھانی پڑتی ہے۔ ہر پاکستانی اس امر کا شاہد ہے کہ جب بھی کوئی جوان وطن عزیز کے لئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرتا ہے تو اس کی قابل فخر والدین بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ ہمارا اگر دوسرا بیٹا بھی ہوتا تو ہم اس کو بھی وطن پر قربان کرنے میں افتخار محسوس کرتے۔ ہماری افواج اور عوام ایک دوسرے سے والہانہ پیار کرتے ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ ہر اس آنکھ کو نکال کر دم لیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -