وزیرستان، جیوانی میں پارلیمانی بالادستی کا پہلا دن 

 وزیرستان، جیوانی میں پارلیمانی بالادستی کا پہلا دن 
 وزیرستان، جیوانی میں پارلیمانی بالادستی کا پہلا دن 

  

حاجی صاحب نے بڑا زور لگایا کہ میں اگلے دن گوادر سے پشوکان موٹر بوٹ پران کے ساتھ چلوں، پر میں مچل گیا: "صحرا کی رات دیکھنے کا موقع حاجی صاحب، شاید زندگی میں دوبارہ نہ ملے".حاجی صاحب نے پشو کان میں برف کا کارخانہ لگایا تھا جس کا اگلے دن افتتاح تھا.ایک گائے اور پکانے کے لوازم وہیں پشوکان  سے لیے گئے۔ یہ ضیافت گردونواح کی مقامی آبادی کے لیے تھی۔اپنے لوگوں  کے لیے گوادر سے بکرا خریدا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ ملازمین مع خانساماں ایک رات قبل صحرا کے راستے پشوکان جائیں گے۔ بکرے کو ڈالے میں سوار کیا گیا۔قریب تھا کہ حسن گاڑی گیر میں ڈالتا، میں آگے کھڑا ہو گیا کہ میں بھی گاڑی ہی میں جاؤں گا۔ مطالبہ نہ صرف انوکھا بلکہ میرے منصب، حیثیت اور پروفیسری وغیرہ کے ساتھ مناسبت بھی نہیں رکھتا تھا۔اب کیا کروں، زندگی کا بڑا حجم تو کتابیں پڑھ کر دماغ میں انڈیلا لیکن خود اپنے حواس خمسہ سے جو زندگی سمیٹ پایا، وہ لکھی کتابوں میں ملفوف زندگی سے الگ اور انوکھی ہی پائی۔کچھ مہمان کا احترام، کچھ میرا مستحکم لہجہ اور کچھ حاجی صاحب کی مرنجان مرنج  شخصیت، مسکرا کر انہوں نے حسن کو اذن سفر دے دیا۔ حسن نے ڈالے کا اگلا دروازہ کھولا۔ میرے بیٹھتے ہی گاڑی چل پڑی۔ اس نے میری نشست پیچھے کر دی کہ میں سو سکوں، لمبا سفر ہے۔ تو میں یہاں سونے آیا ہوں؟ ہونہہ, پگلا کہیں کا!

شاہراہِ، گلی، پگڈنڈی، کچا پکا راستہ، نشان راہ، سنگ میل, یہ کچھ تو بستیوں اور کتابوں میں ملتا ہے.ہہاں تو صحرا اور ہر طرف صحرا, صحرا اور مزید صحرا۔ نہ کوئی منزل نہ نشان منزل۔ سناٹا، ریت، صر صر، سرسراہٹ، لوریاں دیتی مسکن ہوا، گاڑی کی تیز روشنی سے چندھیائی آنکھوں والے رینگتے سانپ اور ڈالے کے پچھلے حصے میں دیگچے اور کڑ چھے کے سر تال سے صحرائی گیتوں کی نغمگی۔ کاش! اس جاپانی ڈھانچے کی بجائے اونٹ پر بیٹھے میں بھی گنگنا ہوتا: بول بلوچا موڑ مہاراں /موڑ مہاراں تے آ گھر باراں۔ "ارے ارے، حسن وہ دیکھو، بھوت"! پہلے تو وہ جھنجھلایا. پھر قہقہہ لگا کر کچھ سمجھے بغیر میری دلجوئی کرنے لگا:" صاحب! یہ صحرا ہمیں کو راس آتا ہے، آپ کل بوٹ پر آجاتے". ادھر میں بقائمی ہوش و حواس, بلا جبر و اکراہ بھوتوں کی قطار پھٹی پھٹی آنکھوں سے بٹر بٹر دیکھے جا رہا تھا۔"حسن میں کہہ رہا ہوں، گاڑی روکو". میں نے چیخ کر کہا. گاڑی رک گئی. بانیں جانب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مکرر دیکھا تو واقعتا آٹھ دس یا شاید زیادہ، کہ قطار لمبی اور اندھیرا تھا، کالے بھجنگ بھوت ھی بھوت۔

حسن نے میری انگلی کی پیروی کی۔ معاملہ سمجھتے ہی اس نے گاڑی کو گیر ڈالا اور اسے بھوتوں کے ذرا قریب لے گیا۔ "یہ لیں صاحب! کر لیں, دیدار اپنے بھوتوں کا"! لہجے میں پیار تھا کہ میں ڈرنے کی بجائے خود اسے بھوتوں کی تک لے گیا تھا. دیکھے, لیکن قدرے دور تھے. میرے جیسے اجنبی کو بھوت نہ دکھائی دیتے پڑتے تو اور کیا ہوتا؟ کالے آئل ٹینکر تھے۔میں کچھ سمجھ گیا, کچھ نہ سمجھ پایا۔"صاحب! یہ ٹینکر شام ڈھلے ایران سے چلتے ہیں۔ نصف شب کو یہاں پہنچتے ہیں۔ کچھ کھا پی کر یہاں سے یہ مختلف سمتوں میں آدھے سے زیادہ بلوچستان کو ارزاں نرخوں پر پٹرول,ڈیزل مہیا کریں گے۔ ایک تہائی کم قیمت پر تو قرب و جوار میں, کوئٹہ کے آس پاس اس سے ذرا زیادہ قیمت پر لیکن ملکی قیمت سے پھر بھی کم۔ یہ ان کا ایک قافلہ ہے ایسے سینکڑوں قافلے مختلف سمتوں میں جا رہے ہوں گے"! (یہ کافی عرصہ قبل کا قصہ ہے, ذرائع بتاتے ہیں کہ اب ان دور مار میزائلوں کا حیطہ عمل مظفرگڑھ اور ڈیرہ بگتی تک بڑھا دیا گیا ہے) "تو حسن کوئی پولیس, اسمگلنگ روکنے والا کوئی محکمہ, کوئی کچھ "؟  میرا مبہوت اور حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر وہ مسکرایا: "یہاں ان محکموں کا کیا کام صاحب؟" اور پھر بات کا رخ بدل دیا گیا۔

وہیں آگے ایک فوجی چوکی پر ہمیں روک لیا گیا۔ شناختی کارڈ والا "اجنبی" ایک میں ہی تھا۔ باقی آدھے بنگالی اور وہ بھی بغیر پاسپورٹ کے۔اب یہاں اس "اعلی حفاظتی" زون میں ہندوستان کلبوشن نہ بھیجے تو کیا گنگاجل بھیجے؟ دیگر کی شناخت ستے ہوئے مدقوق چہروں سے ممکن تھی۔ خیر گزری کہ میرا شناختی کارڈ دیکھتے ہی صوبیدار صاحب پذیرائی کو خود آپہنچے کہ ہم دونوں گاؤں کے ایک ہی اسکول اور مشترکہ اساتذہ سے پڑھے ہوئے تھے۔ منصب دار اعلیٰ یہاں تین سال کے لیے آتا ہے۔ ایک آدھ سال توسیع ہونا عام سی بات ہے کہ اس سے اوپر والا اکیلا وجود اپنی تین سالہ توسیع کے لیے پورے نظام، پورے ملک اور پورے ریاستی ڈھانچے کو بھونچال زدہ کرکے اسے تلپٹ کرکے رکھ دیتا ہے۔تین چار سالوں میں یہاں کا منصب دار اگر اربوں کا کاروبار تین چار براعظموں میں نہ پھیلا سکے تو ہم چشموں میں اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قارئین کرام!جس دن ہماری قومی اسمبلی، ہماری پارلیمنٹ اسلام آباد سے دور وزیرستان اور جیوانی جیسے خطوں میں اپنے دو تین طویل اجلاس کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ 342 ارکان اسمبلی دس بارہ دن صحرائے بلوچستان میں خود بھٹکتے رہے، وزیرستان کی ڈرون ذدہ بستیوں کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے میں کامیاب ہوگئے، تو پتا ہے اس دن کیا ہوگا؟ جیوانی سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک تیل کی قیمت وہی ہو جائے گی جو میں آپ ادا کرتے ہیں لیکن سرکاری محاصل میں یک لخت اضافہ ہو جائے گا۔ منظور پشتین اور محسن داوڑ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ رہا منصب دار اعلی تو وہ توسیع تو کیا مانگے گا، ممکن ہے، وہ اپنی تین سالہ معین مدت سے قبل انسانی بنیادوں پر،بچوں کی تعلیم، الم غلم اور انسانی حقوق وغیرہ کے سہارے کسی اور اسٹیشن پر تبدیلی کی درخواست دے دے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے نعرہ زن ارکان پارلیمان سے درخواست ہے کہ پارلیمانی بالادستی کے پیچیدہ فکر و فلاسفہ اور نظریات کا پرچار چھوڑ کر ان دور دراز علاقوں میں قومی اسمبلی کا صرف ایک  اجلاس کر دکھائیں۔ جس دن ارکان اسمبلی مل کر خود اپنی آنکھوں سے ان علاقوں کو دیکھنے میں کامیاب ہوگئے تو ملک کے کسی حصے میں نہ تو علیحدگی کی کوئی تحریک دیکھنے سننے کو ملے گی اور نہ ہر ہفتے ہماری ماؤں بہنوں  کو اپنے خوبصورت، ہنستے مسکراتے کپتانوں، میجروں کی میتیں چومنا پڑیں گی۔ ہر عمل کا ایک نہ ایک رد عمل تو ہوتا ہے۔ تہہ در تہہ پرتیں کھل رہی ہیں۔ حجاب میں ملفوف نازنینانِ وطن بے حجاب ہو رہے ہیں: 

ان حسینوں نے اجاڑیں بستیاں 

بو م سالا مفت میں بد نام ہے

مشکل الفاظ کے معانی: پیارے بچو! بوم ویسے تو الو کو کہتے ہیں لیکن یہاں میری مراد نالائق سیاستدان ہیں جو ہمیشہ بدعنوان ہوتے ہیں (صرف وہی بد عنوان ہوتے ہیں)۔ نازنینان وطن البتہ محبان وطن کا قائم مقام ہے جس میں غدار شامل نہیں ہیں۔ مزید کوئی لفظ مشکل لگے تو فرہنگ آصفیہ سے رجوع کریں، خاص طور پر بستیاں اجاڑنے والے "حسینوں " کا معنی وہ بتائے جو جاڑے کے موسم میں شمالی علاقوں کی سیر کو جانے کے لیے اپنی کھال کے نیچے چربی کی موٹی سے رکھتا ہو۔ جس دن جیوانی، وزیرستان وغیرہ میں ارکان اسمبلی اپنا اجلاس کرنے یا اجتماعی طور پر دس بارہ دن کے لیے صرف جانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ دن پارلیمانی بالادستی کا پہلا دن ہوگا، ورنہ برفیلی ہواؤں اور چلچلاتی دھوپ کا سیاپا ہی سننا پڑے گا.ہاں جی!

مزید :

رائے -کالم -