یو ایم ٹی کے زیر اہتمام دو روزہ عالمی الاقوامی ای کانفرنس کا انعقاد

یو ایم ٹی کے زیر اہتمام دو روزہ عالمی الاقوامی ای کانفرنس کا انعقاد

  

لاہور (سٹی رپورٹر)  یو نیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی)کے سکول آف سوشل سائنسسز اینڈ ہیومینٹیز کے ڈیپارٹمنٹ آف ایجو کیشن کے تحت " ریسرچ اینڈ لیڈرشپ  "  پر پہلی دو روزہ بین الاقوامی ای کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا موضوع '' خواندگی او غیر رسمی بنیادی تعلیم '' کے حوالے سے 21ویں صدی میں پڑھے لکھے لوگوں کا داخل ہونا تھا۔کانفرنس کے انعقاد کا بنادی مقصد دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم پرCovid-19 کے مرتب اثرات پر روشنی ڈالنا تھا۔ کانفرنس کے دونوں روز بنیادی تعلیم کے تحت '' وبائی امراض کے دوران اعلیٰ تعلیم '' اور '' خواندگی والی آبادی کے ساتھ 21ویں صدی میں داخل ہونے '' کے حوالے سے پینل ڈسکشنز کا بھی منعقد کی گئیں۔کانفرنس میں قومی و بین الاقوامی سطح کے معروف مفکر، دانشور اور پیشہ ور افراد   صدر یو ایم ٹی ابراہیم حسن مراد،  ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر محمد اسلم (ستارہ امتیاز)،  ڈین سکول آف سوشل سائنسسز اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر ممتاز اختر،  ترکی کے ڈاکڑ ٹیپیو وارث،  رفاہ انٹرنیشنل یو نیورسٹی کے ڈاکٹر غلام حسین رسول سمیت این جی اوز، ای این جی اوز، یونیسکو، ایکڈیمیا کے لوگوں کی بڑی تعداد نے zoom کے ذریعے ای کانفرنس میں شرکت کی اور وبائی امراض کے دوران اعلیٰ تعلیم کے امور پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیا۔ڈین سکول آف سوشل سائنسسز اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر ممتاز اختر نے تمام معززممانوں اور شر کاء کا ای کانفرنس میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انکو خوش آمدیدکہا۔انہوں نے کرونا کی موجودہ صورتحال اور دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم پر اس کے اثرات کے بارے میں اظہار خیال بھی کیا۔ انکا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد وبائی مرض میں عوام کے طرز عمل کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ ان حالات کا سامنا کر سکیں۔

صدر یو ایم ٹی ابراہیم حسن مراد نے  ڈین یو ایم ٹی سکول آف سوشل سائنسسز اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر ممتاز اختر  اور انکی ٹیم کو کامیاب ای کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور بتایا کہ یو ایم ٹی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کا بنیادی کردار نہ صرف پڑھا لکھا معاشرہ قائم کرنا ہے بلکہ افراد مین بہترین انسانی اقدار کو شامل کرنا بھی ہے۔ ابراہیم مراد کا مزید کہنا تھا کہ کرونا سے نہ صرف تعلیم کا شعبہ متاثر ہورہا ہے بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں۔ صدر یو ایم ٹی نے مزید بتایا کہ کوویڈنے ترقی پذیر ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور بحالی کیلیئے عالمی رہنماؤں کی ذمہ داریوں میں خاطرخواہ اضافہ بھی کیا ہے۔ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر محمد اسلم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  معزز مہمانوں و مقررین کا شمولیت ختیار کرنے اور دنیا بھر میں کرونا کے اعلیٰ تعلم پر مرتب اثرات پر روشنی ڈالنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز کے انعقاد سے ہم وبائی امراض کے حوالے سے درپیش مسائل اور چیلنجز کا بخوبی حل تلاش کر سکتے ہیں۔تمام مہمانوں اور مقرر ین نے یو ایم ٹی انتطامیہ کی تعریف کی اور کہا کہ یو ایم ٹی ہمیشہ اپنے شاندار کام اور تحقیق کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ شرکا سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تمام ماہرین نے اس نقطہ پر اتفاق کیا کہ کرونا وائرس ورلڈ آرڈر کو نئی تشکیل دے کر سسٹمیٹک چیلنجز کا حل تلاش کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ آن لائن دنیا کے بارے میں اپنے علم، تجر بے اور صلاحیتوں کواپڈیٹ کرنا ہوگا۔ کیونکہ آنلائن دنیا کے نئے ٹولز سیکھنے کے عمل کو بڑھا سکتے ہیں۔100 سے زائد طلباء، اساتذہ،اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے zoomکے ذریعے یو ایم ٹی کے تحت ہونے والی اس ای کانفرنس میں شرکت کی۔

مزید :

کامرس -