ٹیلی نار کاڈی او ایس ٹی خیبر پختونخوا کے ساتھ شراکت داری

  ٹیلی نار کاڈی او ایس ٹی خیبر پختونخوا کے ساتھ شراکت داری

  

اسلام آباد(پ ر)معاشروں کو بااختیار بنانے اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ٹیلی نار پاکستان خیبر پختونخوا کی مستحق کاروباری خواتین کو عالمی بینک کے گرلز لرن وومن ارن (GLWE) پروگرام کے تحت بااختیار بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ اقدام ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (DoST) خیبر پختونخوا کی جانب سے قائم کئے گئے پلیٹ فارم Creative Innovative Unit (CIU) کے اشتراک سے اٹھایا جا رہا ہے۔پشاور میں CIUکے دفتر میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں ٹیلی نار پاکستان اورCIUکے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ ٹیلی نار پاکستان کی ہیڈ آف کارپوریٹ انوویشن اینڈ ڈیجیٹل ایجوکیشن مدیحہ پرویز اور سی آئی یو کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بلال جبار نے شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کئے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش، سیکریٹری ST&IT اور دونوں اداروں کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔عاہدے کے تحت ٹیلی نار پاکستان CIU کے تعاون سے 500 خواہش مند کاروباری خواتین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیجیٹل کسٹمر چینل،ڈیجیٹل فنانس اور ڈیزائن تھنکنگ اسکلز  ۔ تقریب کے مقررین نے کاروباری خواتین کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا اور بتایا کہ کس طرح GLWE جیسے اقدامات ملک میں خواتین افرادی قوت کی شرکت کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے ممکنہ حل میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں جو اس وقت صرف 26 فیصد ہے۔ GLWE کا مقصد 2020ء تک معیشت میں خواتین کی شرکت کو 45 فیصد تک بڑھانے کے لئے افرادی قوت میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کردار کی حمایت کرنا ہے۔ خرم اشفاق، چیف آپریٹنگ افیسر، ٹیلی نار پاکستان نے کہا  ''  500 کاروباری خواتین کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بناتے ہوئے پاکستان کی افرادی قوت میں صنفی خلاء کو کم کرنے کے لئے ہمیں CIU  کے ساتھ شراکت داری پر خوشی ہے۔

 ٹیلی نار پاکستان ڈیجیٹل صنفی فرق کو ختم کرنے کے لئے پرعزم ہے اور مستقبل کے کاروباری لیڈروں کی ترقی کی جانب دیکھ رہا ہے۔ قومی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں میں مدد کے لئے یہ ضروری ہے کہ مستحق خواتین کو آبادی کے تناسب کے حساب سے مواقع مہیا کیے جائیں۔ '' ضیاء اللہ بنگش،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، نے کہا  '' پاکستان کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے لیکن کام کی جگہوں پر ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ ہم ایک ڈیجیٹل دور میں ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم اور اعلیٰ صلاحیتوں کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے سے نہ صرف ان کی ذاتی زندگیاں بہتر ہوں گی بلکہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال اور ٹیلی نار پاکستان اور CIU  جیسے اداروں کے تعاون سے ہم خواتین کو معلومات تک رسائی اور مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ''رواں سال کے آغاز میں ٹیلی نار پاکستان نے 100 کاروباری خواتین کو تربیت دینے کے عہد، چیمپئن ایڈووکیسی، لڑکیوں کی تعلیم اور افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے اقدامات کے ساتھ گرلز لرن وومن ارن   (GLWE)  کے اقدام کیلئے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری کی۔ ٹیلی نار پاکستان کے پروگرام ACTIVATE نے اب تک ڈیزائن تھنکنگ اور ڈیجیٹل ڈیزائن اسکلز کے بارے میں 200 خواتین کو تربیت فراہم کی اور انہیں تیزی سے اور موثر طریقے سے نئی اور اہم مہارتوں اور قابلیت کو حاصل کرنے کے اہل بنایا۔ 

مزید :

کامرس -