منشیات فروشی کے نیٹ ورک چلانیوالوں کیخلاف کارروائیوں کا آغاز 

منشیات فروشی کے نیٹ ورک چلانیوالوں کیخلاف کارروائیوں کا آغاز 

  

ایبٹ آباد(بیورورپورٹ)ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن قاضی جمیل الرحمن کی خصوصی ہدایات پر ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی سربراہی میں ہزارہ پولیس نے منشیات فروشوں، مجرمان اشتہاری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف خصوصی کارروائیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ہزارہ پولیس نے گذشتہ دو ماہ میں ان کارروائیوں کے دوران قتل اقدام قتل اور دیگر مقدمات میں مطلوب 389مجرمان اشتہاری کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا جبکہ معاشرے سے منشیات جیسی لعنت کے خاتمہ اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کیلئے منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیوں کے دوران 473کلو گرام چرس، 38کلو گرام ہیروئن اور 0.798کلو گرام آئس برآمد کرکے منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے منشیات فروشوں کو پابند سلاسل کیا جبکہ ہوائی فائرنگ کرنیوالے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور اسلحہ کی نمود و نمائش کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائیاں کی جن میں 1091غیر قانونی اسلحہ اور 76199ایمونیشن قبضہ پولیس کرکے انکے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے۔ڈی آئی جی ہزارہ نے ہزارہ کے پولیس افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشی کے بڑے نیٹ ورک چلانے والوں کیخلاف منظم کارروائیوں کا آغاز کریں تاکہ منشیات فروشی کی سپلائی چین کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جاسکے تاکہ معاشرہ منشیات جیسی لعنت سے ہمیشہ کیلئے پاک ہو، ہزارہ میں منشیات فروشوں کی کوئی جگہ نہیں ہے ہم اپنی نوجوان نسل کو اس زہر کے زریعے تباہ و برباد نہیں ہونے دیں گے اورقانون کی خلاف ورزیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہزارہ پولیس اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کوبھی بھرپور انداز سے جاری رکھے ہوئے ہے اور جرائم و مجرمان کیخلاف بلاتفریق کارروئیاں کررہی ہے اور کرتی رہے گی، ہمارے لئے قانون سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے جہاں بھی قانون شکنی ہو رہی ہووہاں بلاتفریق کاروائی عمل میں لائیں اور کسی مجرم کے ساتھ نرمی برتنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ سیکیورٹی برانچ کے زریعے شیڈول فور میں شامل لوگوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رمحفوظ کیا جائے،لینڈ و قبضہ مافیا،منشیات ڈیلروں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروئیاں کی جائیں ہرممکن کوشش کی جائے کہ امن و امان کی صورتحال قابو میں رہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -