ایل آر ایچ کے انسٹی ٹیوشن ملازم کی گریڈ 9 سے 17 میں ترقی کا لعدم قرار

ایل آر ایچ کے انسٹی ٹیوشن ملازم کی گریڈ 9 سے 17 میں ترقی کا لعدم قرار

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے انسٹی ٹیوشن ملازم کو گریڈ 9سے گریڈ 17میں ترقی کے احکامات کالعدم قراردے دیئے اور اس حوالے سے ایف آئی اے کیجانب سے سنیارٹی میں ردوبدل سے متعلق انکوائری بھی جاری رکھنے کے احکامات دیئے۔ دورکنی بنچ نے حبیب انورایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر غلام فاروق کی رٹ پر سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ گریڈ 12میں کلینکل ٹیکنیشن کی پوسٹ پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مستقل ملازم ہے جسے انسٹی ٹیوشنل ملازمین کہاجاتا ہے کیونکہ انہوں نے ایم ٹی آئی میں ضم ہونے کی درخواست نہیں دی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2016میں فلک نیازنے ایک رٹ دائر کی جس میں انہوں نے سنیارٹی کو چیلنج کیا بعدازاں عدالت نے انکا کیس متعلقہ محکمے کو بھیج دیا اورمحکمے نے بغیر لوازمات پورے کئے اسے گریڈ 9سے گریڈ 17میں ترقی دی تاہم جو سنیارٹی لسٹ پیش کی گئی ہے اس میں تضاد ہے جس میں ایف آئی اے نے بھی انکوائری شرو ع کی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ غلام فاروق اور فلک نیاز کی تقرری ایک ہی دن ہوئی ہے تاہم عمر کے لحاظ سے اسکا موکل سینئر ہے، کس طرح 12گریڈ کے ملازم کو چھوڑ کر دوسرے کو گریڈ 17میں ترقی دی گئی ہے جو کہ غیرقانونی ہے۔ دوران سماعت ترقی پانے والے ملازم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تمام لوازمات کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے انکی ترقی کی ہے اس میں سنیارٹی کے لحاظ سے کوئی ردوبدل نہیں کیاگیا۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر گریڈ 17میں ترقی کو کالعدم قراردے دیا اورمتعلقہ ادارے کو سنیارٹی کی بنیاد پر ضروری کارروائی کا حکم جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو بھی سنیارٹی سے متعلق جاری انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -