محکمہ صحت کی جانب سے انسداد ڈینگی پر اقدامات جاری

محکمہ صحت کی جانب سے انسداد ڈینگی پر اقدامات جاری

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی انسداد ڈینگی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر انسداد ڈینگی سرگرمیاں سر انجام دی جا رہی ہیں۔ محکمہ صحت نے رواں سال فروری میں ہی ڈینگی ایکشن پلان (ڈی اے پی) ترتیب دے دیا تھا جس پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔ محکمہ صحت کے انٹیگریٹڈ وکٹر کنٹرول/ملیریا کنٹرول پروگرام نے انسداد ڈینگی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ڈینگی ایکشن پلان بنانے کا مقصد صوبے میں ڈینگی بخار کے واقعات کو کم کرنے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز سے مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صوبائی، ڈویژنل اور اضلاع کی سطح پر ٹیکنیکل سپورٹ، محکمانہ میکنزم، منصوبہ بندی اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے اوور سائٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز ازخود اس معاملے پر متحرک ہیں اور صوبائی اوور سائٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے آ رہے ہیں۔ اسی طرح ڈویژنل سطح پر کمشنرز اور اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اوور سائٹ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس کے مطابق ایکشن لے رہے ہیں۔ پیش رفت رپورٹ کے مطابق اضلاع کو انسداد ڈینگی کے لئے کیڑے مار اور ڈینگی لاروا کے خاتمے کے ادویات، مچھروں سے محفوظ رکھنے والی جالیاں، سپرے کرنے والے پمپس اور تشخیصی کٹس مہیا کی گئیں ہیں۔ ڈینگی کی افزائش کو روکنے اور لاروا کے خاتمے کے لیے ان جگہوں کی گھروں کے اندر اور باہر اینٹامالوجیکل سرویلینس اور منیجمنٹ کی جا رہی ہے۔ ڈینگی لاروا کی افزائش کی جگہوں کو مکینیکل اور کیمیکل طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔ صوبے بھر میں اب تک 66 لاکھ سے زائد گھروں کی انسپکشن کی گئی جہاں دو کروڑ 20 لاکھ سے زائد پانی ذخیرہ کرنے والی ٹینکیوں اور کنٹینروں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 13 ہزار سے زائد ڈینگی لاورا کے حوالے سے مثبت آئے جنہوں فوری طور پر مکینیکل اور کیمیائی طریقے سے ختم کر دیا گیا۔ انسداد ڈینگی پیش رفت رپورٹ کے مطابق یہ سرگرمیاں پورے صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ ڈینگی بخار کے کیسز کی بہتر رپورٹنگ اور اس تناظر میں فوری ایکشن اور کوآرڈینیشن کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ دفاتر، میڈیکل ٹیچنگ ہسپتالوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ڈینگی فوکل پرسنز نامزد کیے گئے۔ ڈینگی بخار کے کیسز سامنے آنے یا لاروا کی نشاندہی ہونے پر اس علاقے اور گھروں میں سپرے کیا جا رہا ہے۔ اب تک 40 ہزار سے زائد گھروں میں اینٹی ڈینگی سپرے کیا جا چکا ہے۔ شہریوں کو ڈینگی بخار سے بچاؤ کے لیے آگہی فراہم کرنے کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز، ملیریا سپروائزر اور دیگر فیلڈ سٹاف وقتاً فوقتاً آگاہی سیمینارز منعقد کرتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -