مردان‘ متحدہ طلباء کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

مردان‘ متحدہ طلباء کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

  

مردان (بیورورپورٹ) متحدہ طلباء محاذ کے زیر اہتمام گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان کو اپنی بلڈنگ واپس کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین کی قیادت طلباء محاذ کے صدر عباس خان،پی ایس پی کے ساجد اکبر،نظر محمد،وسیم خان،شہزاد خان،شبیر خان اورعدنان خان کررہے تھے۔مظاہرین نے  ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کالج کی عمارت کو خالی کرو کے نعرے درج تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا  طلباء رہنماوں عباس خان،ساجد اکبر،نظر محمد اور وسیم خان نے کہاکہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نے دس سالہ معاہدے کے تحت عبد الولی خان یونیورسٹی کو اپنی بلڈنگ دی تھی۔حکومت نے طورو کے قریب عبد الولی خان یونیورسٹی کے مین کیمپس کی تعمیر کے لئے دو ہزار ایکڑ زمین خریدی تھی اور اس میں تعمیراتی کام بھی مکمل ہو چکی ہے اور مزید تعمیراتی کام کیلئے جگہ بھی موجود ہیں لیکن یونیورسٹی حکام مردان کالج کی عمارت واپس نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ کالج کو اپنی عمارت واپس کرنے کے لئے مردان سیشن کورٹ اور ہایئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے بھی یونیورسٹی کو عمارت خالی کرانے کی ہدایت کی ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ نئے سیشن کے لئے آنے والے طلباء کھیل کے میدانوں اور مساجد میں کلاس لینے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھی عمارت کی واپسی کے حوالے سے اجلاس ہوئے لیکن اس پر بھی عملدر آمد نہیں ہوا۔طلباء نے کہا ہے کہ کالج میں جگہ کی کمی کی وجہ سے بی ایس کے لئے صرف40سیٹوں پر داخلے کئے گئے ہیں جو کہ انتہائی کام ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت طلباء پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتی ہے۔طلباء تنظیموں کے نمائندوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر یونیورسٹی حکام نے عمارت خالی نہیں کرائی تو کالج اور یونیورسٹی کے مابین دیوار کو خود گرادیں گے اور حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -