ضم شدہ اضلاع کی تمام محرومیوں کا ازالہ کیا جارہاہے: کامران خان بنگش 

ضم شدہ اضلاع کی تمام محرومیوں کا ازالہ کیا جارہاہے: کامران خان بنگش 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)فاٹا انضمام کی وجہ سے گزشتہ دو سال محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختون خوا کے لئے انتہائی کھٹن تھے مگر موثرحکمت عملی کی بدولت تمام چیلنجز کا احسن طریقے سے مقابلہ کرکے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا گیا ہے قبائلی اضلاع کے 95000 ملازمین کو کامیابی کیساتھ ضم کرکے ملازمین کو کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچائیں گے۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختون خوا ملک کا پہلا ادارہ ہے جس نے پلاننگ کمیشن فارم منیجمنٹ سسٹم کا اجراء کرکے پورا نظام اٹومیٹک بنایا ہے جس سے دیگر محکموں میں ڈیجٹلائزیشن کا فروغ، وقت کی بچت اور منصوبوں کی بہتر انداز میں مانیٹرنگ ہوسکے گی۔ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش اورمحکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختون خوا کے سیکرٹری ہمایوں خان نے محکمہ کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔سیکرٹری ہمایوں خان نے کہا اس مہینے چار صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اجلاس کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ منصوبے جلد منظور ہوکر شروع کئے جاسکیں اور مالی سال کے ختم ہونے سے پہلے مکمل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا صورتحال میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقی نے صوبائی حکومت کو معیشت کی اصل تصویر اور اس کے اثرات پر کل وقتی رپورٹس پیش کیں اور مشکل حالات کے سدباب کے لیے تجاویز پیش کیں جن میں کورونا کوپنگ اسٹریٹیجی اور عزم نو شامل ہیں۔عزم نو کے تحت 29 ارب روپے کی لاگت سے 9 شعبوں میں 43 ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے معیشت کو سہارا ملے گا۔ سیکرٹری نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی پر تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت سال 20-2019 میں 24 ارب روپے خرچ ہوئے۔ 10 سالہ حکمت عملی کے تحت پہلے تین سال کے لیے تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت کام کیا جائیگا محکمے نے ترقیاتی منصوبوں کی اصل پوزیشن جانچنے کے لیے جی آئی ایس سسٹم کا اجراء کیا ہے جس سے منصوبوں کی جغرافیائی پوزیشن دیکھنے میں مدد ملتی ہے اور فیصلہ سازی میں مدد ملتی ہے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی موثر پلاننگ کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی نے جامع فریم ورک تشکیل دیا ہے محکمے کے مانیٹرنگ اینڈ ایولویشن ڈائریکٹوریٹ نے پچھلے دو سال میں ترقیاتی منصوبوں کے جانچ پڑتال اور مانیٹرنگ کے حوالے سے 2666 رپورٹس تشکیل دی ہیں۔ سیکرٹری ہمایوں خان نے مزید بتایا کہ ضم آضلاع میں بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شمالی وزیرستان میں 3.3بلین کی لاگت سے 16 ہزار ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنایا جارہا ہے اسی طرح ٹل میر علی روڈ پر 8 بلین روپے اور لائیو سٹاک کے ایک مربوط نظام پر 3.2 بلین روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر 24/7 تجارت کے لئے کھولنے سے 42 بلین روپے کی بچت وفاقی حکومت کو ہوئی۔ معاون خصوصی اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن اور وزیراعلی محمود خان کی مخلص قیادت میں ضم اضلاع کی تمام محرومیوں کا ازالہ کیا جارہا ہے۔ وزیراعلی محمود خان ضم اضلاع کا ترقیاتی عمل خود مانیٹر کررہا ہے اور روزانہ کے حساب سے متعلقہ حکام سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ منصوبہ بندی وترقی خیبر پختون خوا بہتر حکمت عملی کیساتھ ضم آضلاع میں کامیابی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ کامران بنگش نے کہا کہ وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں بہت جلد ضم اضلاع کو صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لایا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ منصوبہ بندی صوبے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے قبائلی اضلاع کے انضمام میں پی اینڈ ڈی کا کردار مثالی رہا ہے اور انضمام کا دس سالہ کام اس محکمے نے ایک سال میں مکمل کرکے دکھایا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -