مردم شماری کا عمل جیسا بھی تھا اب مکمل ہو چکا، نیب بد عنوانی کا ختم، امتیازی سلوک بند کرے: سپریم کورٹ 

  مردم شماری کا عمل جیسا بھی تھا اب مکمل ہو چکا، نیب بد عنوانی کا ختم، ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ قومی احتساب بیورو (نیب) بدعنوانی کو ختم کرے، بہت زیادہ کرپشن ہورہی ہے۔ جمعرات کو نندی پور پاور پلانٹ آئل ٹینکرز گمشدگی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔جسٹس مشیر عالم نے نیب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نیب امتیازی سلوک نہ کرے، مجموعی طور پر 134 ٹینکر گم ہوئے لیکن نیب نے اس ملزم کو پکڑ رکھا ہے جس پر 6 ٹینکرز غائب کرنے کا الزام ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ نیب کرپشن کو ختم کرے، کرپشن بہت زیادہ ہورہی ہے، اس کیس میں نیب نے سب ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کیا، برابری کا سلوک نہ ہو تو ساتھ نہیں چل سکتا۔ نیب وکیل نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے منصوبہ ساز پر ہاتھ ڈالا ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایک ملزم نے 12، دوسرے نے 17، تیسرے نے 13 آئل ٹینکر غائب کئے، نیب نے ان سب کو چھوڑ کر 6 ٹینکرز غائب کرنے والے کو گرفتار کرلیا۔عدالت نے کہاکہ اس کیس میں نیب نے سب ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کیا، نیب سب ملزمان کو پکڑے۔ عدالت نے کہاکہ کریمنل چھاتیاں نکال کر باہر پھر رہے ہیں۔ دور ا ن سماعت وکیل درخواست گزار نے کہاکہ میرا موکل ایک سال دس ماہ سے قید میں ہے۔وکیل نے کہاکہ کیس کے دیگر ملزمان کو نیب نے گرفتارنہیں کیا۔ وکیل نیب نے کہاکہ ملزم نے کراچی سے آئل ٹینکر پلانٹ پرنہیں پہنچائے، کیس میں 9 ملزمان کے وارنٹ جاری کئے جا چکے ہیں، اس کیس میں سیکڑوں ٹینکرزپلانٹ پرنہیں پہنچائے گا۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ اس کیس میں جرم کی نوعیت ایک جیسی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ باقی ملزمان کوگرفتارنہیں کیا، صرف ایک ملزم کوگرفتارکیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم محمد اسلم کی ضمانت منظورکرلی۔دوسری کیس میں سپریم کورٹ میں مردم شماری سے متعلق درخواست کی سماعت میں جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ مردم شماری کا عمل جیسا بھی تھا اب مکمل ہوچکا ہے۔سپریم کورٹ میں مردم شماری سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایم کیو ایم کے وکیل صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹرار ا?فس نے ایم کیو ایم کی درخواست پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد مردم شماری کے اعداد و شمار سے متعلق درخواست میں ترمیم کردی ہے۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ مردم شماری کے بعد اب کافی وقت گزرچکا لہٰذا بہتر ہوگا نئی درخواست دائر کریں۔عدالت نے کہا کہ نئی درخواست دائر کریں جو واضح ہو، مردم شماری پراعتراضات نئی درخواست میں اٹھائے جائیں، مسئلہ صرف آپ کا نہیں دیگر صوبوں کا بھی ہے۔  جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ مردم شماری کا عمل جیسا بھی تھا اب مکمل ہوچکا ہے، عدالت نے درخواست خارج کر دی۔ سپریم کورٹ نے نیویارک حملہ منصوبے کے ملزم طلحہ ہارون کی امریکہ حوالگی روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کردی۔ سپریم کورٹ میں نیویارک ٹائمز اسکوائر حملہ کیس کے ملزم طلحہ ہارون کی امریکہ حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ملزم کو امریکا کے حوالے کرنے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کیا امریکہ کا رویہ بھی ہمارے ساتھ ویسا ہی ہے، جیسا ہمارا ان کے ساتھ ہے؟۔  ایڈیشنل اٹارنی جنرل  نے جواب دیا کہ امریکہ نے 2008 میں دو ملزمان فرید توکل اور فاروق توکل پاکستان کے حوالے کیے۔ طلحہ ہارون کے اہل خانہ کے وکیل نے کہا کہ  سپریم کورٹ حسین حقانی کو حوالے کرنے کا حکم دے چکی ہے لیکن امریکہ نے حسین حقانی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ  عدالت نے دیکھنا ہے کیا ملزم کی امریکہ حوالگی کے لیے قانونی جواز موجود ہے، عملی طور پر امریکہ کیساتھ ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں، جس معاہدے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ تقسیم سے قبل کا ہے جو پاکستان پر لازم کیسے ہو سکتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ طلحہ پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں رہتے ہوئے حملوں کی سازش کی، وہ امریکی شہریت کا حامل بھی ہے، اسے 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دستاویزات سے واضح نہیں کہ حملے کے وقت طلحہ امریکہ میں موجود تھا، جو معاہدہ آپ دکھا رہے ہیں اس میں دہشتگردی کا جرم شامل نہیں۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اب تو بات کرنے پر بھی دہشتگردی لگ جاتی ہے، طلحہ ہارون نے آخر کونسی دہشتگردی کردی، حکومت کہہ رہی ہے کہ امریکہ نے بندا مانگا ہے تو حوالہ کردو۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پاکستان کو بنانا ری پبلک نہ بنائیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پاکستان ڈمی ریاست نہیں۔ سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی خود پیش ہونے کی ہدایت کی۔ عدالت نے سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے طلحہ ہارون کی امریکہ حوالگی روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کردی۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -