کرسمس تک افغانستان سے امریکی فوج واپس، ہمارے دلیر جوانوں کی جلد گھروں کو واپسی ضروری ہے: ٹرمپ 

      کرسمس تک افغانستان سے امریکی فوج واپس، ہمارے دلیر جوانوں کی جلد گھروں ...

  

 نیو یارک  (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر نے کہا ہے کہ رواں برس کرسمس تک افغانستان سے اپنی افواج کا مکمل انخلاء  چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں امریکا نے 2021 کے وسط تک اپنی تمام فوجیں افغانستان سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا جب کہ طالبان نے اس کے بدلے مستقل جنگ بندی اور افغان حکومت کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی.غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان میں فرائض پر مامور ہمارے دلیر جوانوں کا جلد اپنے گھروں میں ہونا ضروری ہے۔ ہمیں افغانستان میں تھوڑی تعداد میں خدمات انجام دینے والے اپنے بہادر مرد اور خواتین کو کرسمس تک واپس اپنے گھر بلا لینا چاہیے۔خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ٹویٹ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل فرینک میکنزی نے اپنے پلان بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ستمبر میں عراق سے اپنی فوج کی تعداد 5200 سے کم کر کے 3000 کر دی جائے گی۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنرل فرینک میکنزی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اکتوبر میں اپنی آرمی کی تعداد بھی کم کی جائے گی۔ یہ تعداد 8600 سے کم کر کے 4500 کر دی جائے گی۔ یاد رہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے لاس ویگاس میں یونیورسٹی ا?ف نیواڈا میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان میں امریکی پانچ ہزار سے کم فوجی تعینات ہیں جنہیں اگلے برس کے اوائل میں گھٹا کر 2500 سے کم کر دیا جائے گا۔دریں اثنا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی اصرکے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے درمیان ملاقات جنرل ہیڈ کوارٹر(جی ایچ کیو) میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران پاکستان کے لیے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق اور کمانڈر ریزولوٹ سپورٹ مشن جنرل آسٹن بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاک افغان سرحدی انتظامات اور افغان امن عمل میں حالیہ پیش رفت پر غورکیا گیا۔میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے ٹویٹر پر مزید لکھا گیا کہ دونوں امریکی حکام نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کرادار کو سراہا۔ دوسری طرف امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوے کہا ہے کہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ سائیڈ ڈیل کر سکتی ہے۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد پاکستان کیلئے اقتصادی مراعات دیکھ رہے ہیں۔ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے یہ بات یونیورسٹی آف شکاگو میں ویڈیو لنک سے خطاب میں کی۔ انہوں نے اس اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک دوحہ سے شرکت کی۔زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اقدام داخلی امن کے حوالے سے اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر کابل اور طالبان معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کیلئے اقتصادی مراعات دیکھ رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کیلئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سفارتکاری اور مدد کا شکریہ ادا کیا۔ 

صدرر ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -