مستحکم خارجہ پالیسی کیلئے ملکی معیشت کا استحکام ناگزیر ہے: شاہ محمود قریشی 

  مستحکم خارجہ پالیسی کیلئے ملکی معیشت کا استحکام ناگزیر ہے: شاہ محمود ...

  

 اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر،آ ئی این پی)و زیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے  وزارت خارجہ میں معاشی سفارت کاری کے حوالے سے دوسرے اعلی سطحی اجلاس  سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستحکم خارجہ پالیسی کیلئے ملکی معیشت کا استحکام ناگزیر ہے ، ہمارے سفارت خانے معاشی سفارت کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے  معاشی تعاون اور دو طرفہ تجارت کے فروغ کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،کرونا عالمی وبا کے معاشی مضمرات کو کم کرنے اور معاشی استحکام کے حصول کیلئے ہمیں مزید محنت درکار ہوگی۔جمعرات کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں معاشی سفارت کاری کے حوالے سے دوسرے اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا،اجلاس میں مختلف ممالک میں قائم تیرہ پاکستانی سفارتخانوں کے سفیروں نے  بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی،اجلاس میں شریک سفیروں نے معاشی سفارت کاری کے طے کردہ اہداف کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں پر وزیر خارجہ کو بریفنگ دی،مخدوم شاہ محمود قریشی  نے کہاکہ ایک مستحکم خارجہ پالیسی کیلئے ملکی معیشت کا استحکام ناگزیر ہے،ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے دیگر ممالک کے ساتھ  اپنی تجارت اور ایکسپورٹ کے حجم کو بڑھانا ہو گا، ہم نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کے معاشی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے "معاشی سفارت کاری" کا عملی طور پر آغاز کیا،معاشی سفارت کاری کی ضرورت اور اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ہم نے وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکرٹری نبیل منیر کی سربراہی میں معاشی سفارت کاری ڈویڑن قائم کر دی ہے،مجھے خوشی ہے کہ ہمارے سفارت خانے معاشی سفارت کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی تعاون اور دو طرفہ تجارت کے فروغ کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،پاکستان اور افریقہ کے مابین معاشی و تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے ہم نے گذشتہ سال،وزارتِ تجارت کے ساتھ ملکر، وزارتِ خارجہ میں "انگیج افریقہ" کانفرنس کا انعقاد کیا،اسی ضمن میں ہم نے وزارت تجارت کے تعاون سے 30 اور 31 جنوری 2020 کو نیروبی میں "پہلی پاک افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس" کا کامیابی سے انعقاد کیا،کرونا عالمی وبا کے معاشی مضمرات کو کم کرنے اور معاشی استحکام کے حصول کیلئے ہمیں مزید محنت درکار ہوگی دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یو اے ای کے ہم منصب عبداللہ بن زاید النہیان سے رابطہ کیا، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی اور یو اے ای کے ہم منصب نے اقتصادی و تجارتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر بھی اتفاق کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کورونا وبا میں پاکستانی کمیونٹی کا خصوصی خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریتنو مَارسودی کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دو طرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دو طرفہ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات پر اظہار اطمینان کیا گیا۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -