حکومت نے کورونا کے بہانے اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کر لیا 

      حکومت نے کورونا کے بہانے اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کر ...

  

 لاہور(جاوید اقبال) حکومت  نے متحدہ اپوزیشن کے جلسے جلوس اور احتجاجی تحریک کا توڑ ڈھونڈ لیا ہے جس کے لیے کرونا وائرس کو اپوزیشن کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا حتمی  فیصلہ کر لیا گیا ہے ایسے میں پنجاب حکومت کے اعلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت 16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے پہلے جلسے کی اجازت نہیں دے گی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت میں گجرانوالہ انتظامیہ پر واضح کردیا ہے  اپوزیشن کا جلسہ کرونا وائرس میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے لہٰذہ انہیں جلسے کی کسی صورت اجازت نہ دی جائے اس کے لیے گوجرانوالہ کی حدود میں دفعہ 144 فوری پر نافذ کر دی جائے اور چار سے زائد لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کی جائے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے بڑوں نے اپوزیشن کی تحریک روکنے کے لیے کرونا وائرس کا یار استعمال کرنے پر اتفاق کرلیا ہے اس سلسلے میں ماہرین صحت کو بھی سامنے لایا جائے گا جو اپنی تجاویز حکومت کو دیں گے کے جس میں ماہرین حکومت کو سفارشات پیش کریں گے کے کرونا وائرس لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے پھیلے گا اور اس میں شدت آئے گی لہذا ایسے پیز کے تحت لوگوں کو ایک جگہ جمع نہ ہونے دیا جائے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب میں کسی جگہ بھی اپوزیشن کو جلسے جلوسوں اور ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دے گی حکومت واضح ہدایات جاری کرے گی کہ اپوزیشن عوام کے وسیع تر مفاد میں اجتماعات کرنے سے گریز کرے۔ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد نے جلسوں کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ حکومت  بہانے کرکے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کو نہیں روک سکتی ہماری احتجاجی تحریک عوام کی ترجمان ہے حکومت نے زبردستی جلسے اور احتجاجی تحریک روکنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانا پڑے گی ہمارے جلسوں میں عوام کرونا ایس او پیز پر  سختی سے عمل کریں گے حکومت کے پاؤں تلے سے زمیننکلتی جارہی ہے  اس حوالے سے مسلم لیگ نون پنجاب کے جوائنٹ سیکرٹری رانا محمد ارشد سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ حکومت کروناوائرس کو ٹول کے طور پر استعمال نہ کرے   عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

حکومت فیصلہ

مزید :

صفحہ اول -