پاکستانی زائرین عمرہ کی بکنگ میں جلدی نہ کریں، سعودی عرب کی پالیسی کا انتظار کیا جائے، ٹور آپریٹرز

    پاکستانی زائرین عمرہ کی بکنگ میں جلدی نہ کریں، سعودی عرب کی پالیسی کا ...

  

  لاہور (ڈویلپمنٹ سیل) سعودی عرب کی جانب سے سات ماہ بعد عمرے کی اجازت دئیے جانے کے بعد پاکستانی عمرہ زائرین کی بڑی تعداد جلد سے جلد عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں لوگ عمرہ ٹور آپریٹرز سے رابطے بھی کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ٹور آپریٹرز کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کچھ ٹور آپریٹرز یا ایجنٹس عمرہ کے خواہش مندوں سے بکنگ کی مد میں پیسے بھی پکڑ لیں گے لیکن انہیں فوری طور پر بھجوا نہیں پائیں گے جس کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ افراد کی ساکھ کو متاثر ہوگی۔ حج و عمرہ ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی عمرہ زائرین عمرہ کی بکنگ میں جلدی نہ کریں۔ سعودی حکومت نے بیرون ملک سے عمرہ زائرین کے لیے پالیسی مقامی عمرہ زائرین کے انتظامات کی کامیابی سے مشروط کر رکھی ہے۔ الوصام گروپ کے حاجی محمد اسلم نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ’فی الحال عمرہ کی بکنگ نہیں ہو رہی۔ ابھی تک سعودی حکومت کی جانب سے کچھ بھی واضح پالیسی نہیں دی گئی۔ ابھی معاہدے نہیں ہوئے، کوئی گارنٹی نہیں گئی۔ ہم لوگ معاہدہ کریں گے، گارنٹی جائے گی اور پھر پاکستان میں سعودی سفارت خانہ ہمارے معاہدوں کی تصدیق کرے گا۔ اس کے بعد ہی بکنگ کا سلسلہ شروع ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ کورونا کے بعد صورت حال بدل چکی ہے۔ پرانے معاہدے ختم ہو چکے ہیں۔یکم نومبر کو بیرونی ممالک سے عمرہ سے متعلق سعودی حکومت کی پالیسی آئے گی۔ اس پالیسی میں نیا کیا ہوگا؟ ایس او پیز کیا ہوں گے؟ فیسیں کیا ہوں گی؟ یہ سب واضح ہوگا تو نئے معاہدے ہوں گے۔ اسی انتظار میں بیٹھے ہیں۔ حاجی اسلم کے مطابق ’پالیسی آنے کے باوجود 15 سے 20 دن لگیں گے۔ ابھی جو لوگ پیسے پکڑیں گے وہ غلط کریں گے۔ جو جلد معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگا وہ نومبر کے آخر تک عمرہ زائرین کو بھیجنے میں کامیاب ہوگا۔‘ صفہ انٹرنیشنل حج و عمرہ گروپ کے احسان اللہ نے کہا کہ ’اس وقت مقامی لوگوں کے لیے عمرہ شروع کیا گیا ہے۔ اگر وہ کامیاب رہتا ہے، بیماری نہیں پھیلتی اور زائرین ایس او پیز پر عمل در آمد کرتے ہیں تو ایسی صورت میں غیر ملکیوں کو اجازت مل سکتی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’کئی لوگ تو عمرہ کے ویزے لگنے کے باوجود نہیں جاسکے تھے۔ سات ماہ کی پابندی کے بعد اب لوگ جلدی میں ہیں تاہم ہم ان سے پاسپورٹ یا پیسے نہیں لے رہے کیونکہ جب تک صورت واضح نہیں۔

پاکستانی زائرین عمرہ

مزید :

صفحہ آخر -