حکومت اور اس کا احتساب دونوں سلیکٹڈ، سرکاری چور کسی کی پکڑ میں نہیں آرہے: سراج الحق 

حکومت اور اس کا احتساب دونوں سلیکٹڈ، سرکاری چور کسی کی پکڑ میں نہیں آرہے: ...

  

 لاہور(خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی ملک و قوم کی بہتری یا عوام کی فلاح کے لیے نہیں، بلکہ اس فیڈر کے لیے ہے جو اسٹیبلشمنٹ ہر حکومت کے منہ میں دیتی رہی ہے۔ حکومت اور اس کا احتساب، دونوں سلیکٹڈ ہیں۔ حکومت احتساب نہیں، مذاق کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اپنی کرپشن چھپا رہی ہے۔ سرکاری چور کسی کی پکڑ میں نہیں آرہے۔ سٹیٹ بنک نے گیارہ سو ارب روپے صنعتکاروں میں تقسیم کیے لیکن کرونا کے متاثرین، غریب عوام کو کچھ نہیں ملا۔ کرونا متاثرین کے لیے باہر سے آنے والی اربوں روپے کی امداد میں سے 87 فیصد حکومت خود ہڑپ کر گئی اور صرف 13 فیصد عوام پر خرچ ہوا جبکہ حکومت نے بجٹ میں سے بھی کرونا متاثرین کی امداد کے نام پر کٹوتی کی۔ اس لوٹ کھسوٹ اور خورد برد کا آڈٹ کرنے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ کسی حکومتی کمیٹی پر کوئی اعتبار نہیں۔ غداری اور بغاوت کے مقدمات مخالفین کو دبانے کی بھونڈی کوشش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ حکومت نے مظلوم کشمیریوں کی 73 سالہ جدوجہد آزادی کی پیٹھ میں چھراگھونپ دیاہے۔ جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ عوام کے حقوق، شفاف انتخابات اور میڈیا کی آزادی کے لیے تحریک چلانے کا فیصلہ کیاہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ کے دو روزہ اجلاس کے بعد منصورہ میں نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم، وسطی پنجاب کے امیر جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ جماعت اسلامی ملک میں نا قابل برداشت مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر تحریک چلائے گی اور ملک بھر میں جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ تحریک کو منظم اور فعال کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم، سینیٹر مشتاق احمد خان، حافظ نعیم الرحمن اورمرکزی و صوبائی امراء شامل ہیں۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -