زرعی یونیورسٹی، نیا ڈگری پروگرام علاقے کی تقدیر  بدل دیگا، ڈاکٹر آصف علی

        زرعی یونیورسٹی، نیا ڈگری پروگرام علاقے کی تقدیر  بدل دیگا، ڈاکٹر آصف ...

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر) ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہاکہ  انشا اللہ اگلے 15سالوں میں یہ زرعی یونیورسٹی ورلڈ کلاس ایگریکلچر یونیورسٹی بن جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے ورلڈ کلاس بننے کیلئے ضروری ہے کہ اس تعلیمی ادارے میں پڑھنے والے طلباء کا دوسرے تعلیمی اداروں کی نسبت لیول مختلف ہو۔انڈو نیشیا میں پوری دنیا کی 1200جامعات پر ہونے والے ایک سروے کے مطابق (بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

ہماری جامعہ کا نمبر پورے پاکستان میں تحفظ ماحولیات کے حوالے سے  چوتھے نمبر پرہے جبکہ پوری دنیا میں 311ویں نمبر پرآیا ہے جو کہ ہمارے لیے انتہائی خوش آئند بات ہے۔ سماجی بہتری کیلئے بہت سے اقدامات ہم نے کئے ہیں، شجر کاری مہم ہو، سوشل ایکشن پلان ہو، مذہبی ہم آھنگی ہو یا معاشرے کی بہتری کیلئے کوئی اور کاوش ہو ان تمام میں ہماری یونیورسٹی مستند کردار ادا کر رہی ہے۔ ہم زرعی جامعہ کے کورس میں پاکستان کے آئین کے بنیادی حقوق کی دفعات شامل کر رہے ہیں تاکہ طلبہء کو پتہ چلے کہ آئین پاکستان کے تحت ان کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں اور حقوق کیا ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی بیسڈ سسٹم کو ادارے میں عام کیا جا رہاہے کیونکہ آنے والا دور ٹیکنالوجی کا ہے۔ آن لائن کلاسز کے نظریے کو عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے ادارے میں ریسرچ پر فوکس کیا ہوا ہے جامعات ڈگریاں دینے کیلئے نہیں بنائی جاتی بلکہ طلبہء کو علم اور تربیت دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ ہم نے کاروبار کے فروغ کے آئیڈیا کو ادارے میں عام کیا ہے جس کا نتیجہ یہ کہ حال ہی میں ایک سروے کے مطابق زرعی جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے 86فیصد طلبہء نے اپنا کاروبار، کاشتکاری اور پرائیویٹ کمپنیوں میں نوکری کو ترجیح دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان نے پرائیوٹ اداروں و انڈسٹری کے ساتھ مل کر بے شمار پراجیکٹ شروع کئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں،کاشتکاروں اور طلباء و طالبات کو فائدہ حاصل ہوا ہے۔ مختلف اداروں کے ساتھ تحقیقی اور مالی معاونت کے MoUبھی دستخط کئے گئے ہیں۔ان طے شدہ معائدوں کی وجہ سے زرعی جامعہ میں تحقیق، انٹرنشپس،انٹر پری نیورشپ کا معیار بلند ہوا ہے۔ زرعی جامعہ ملتان کی اہم کامیابیوں میں سے ایک کامیابی شہریوں کیلئے کام کرنا بھی۔ زرعی جامعہ نے گرین پاکستان کے نظریے کو مد نظر رکھتے ہوئے سکول،کالجز،یونیورسٹیوں،پبلک اداروں اور گھروں میں پودے تقسیم کئے اور ملتان شہر میں مختلف مقامات پر شجر کاری کی جس کام مقصد شہر کو صاف ستھرا اور شہرویوں میں شجر کاری کی دلچسپی کو بڑھانا تھا۔ ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان خطے کے کسانوں اور کاشتکاروں کو جدید طریقہ کاشتکاری سے روشناس کروانے کیلئے وقتاً فوقتاً  ٹریننگز، ورکشاپس و سیمینار، علمی تحقیقی اور سماجی سرگرمیاں کرتی رہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی جامعہ میں جامع مسجد بنانا پہلی ترجیح ہے۔اس حوالے سے ترکی سے پی ایچ ڈی کر کے آنے والے آرکیٹیکچر سے مسجد کا ڈیزائن تیار کروایا گیا ہے جو کہ ماڈرن اسلامک لرننگ سنٹر ہو گا جس میں ہر طرح کی سہو لیات میسر ہونگی اور پاکستان کی ماڈل مسجد ہو گی۔ 2000لوگوں کیلئے سیمینار ہال اور کئی نئے اکیڈمک بلاکس کا قیام عمل میں لایا جا ئے گا تاکہ زرعی جامعہ میں سٹیٹ آف دی آرٹ عمارتوں کا جال بچھایا جائے۔یہ خطہ چونکہ آم کی پیداوار کے لحاظ سے مشہور ہے اور یہاں آم پیدا کرنے کی تاریخی حیثیت ہے اس لیے آم کی اقسام اورآم کی تاریخ کو محفوظ بنانے کیلئے مستقبل میں مینگو میوزیم بنانے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ایک نیا ڈگری پروگرام بی ایس سی ایگرو انڈسٹریل انجنئیرنگ شروع کیا گیا ہے جو کہ اس علاقے کی تقدیر تبدیل کر دے گا۔ یہ ڈگری پروگرام یہاں کی انڈسٹری کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر شروع کیا گیا ہے تاکہ اس ڈگری پروگرام کو مکمل کرنے والے طلبہ کو فوراً روز گار مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ  فکیلٹی کسی بھی جامعہ کی پہچان ہے۔ فکیلٹی کی ٹریننگ کیلئے بہترین اقدامات کئے جاتے ہیں۔ جامعہ کی فکیلٹی کی بہتر ٹریننگ کے لئے کئی انٹرنیشنل اور نیشنل ٹریننگز منعقد کروائی جا چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ  سی پیک معاہدوں کی وجہ سے چائنیز زبان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے جامعہ میں سب سے پہلے چاینیز لینگیجز شارٹ کورس شروع کروائے گئے ہیں جو کہ اس وقت بھی جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ فصلوں میں استعمال کئے جانے والے پانی کی مقدار کو کم کرنے کیلئے فوگ کیپچرنگ ویٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے اوراگر اس پراجیکٹ میں کامیابی حاصل کر کے فصلوں کو دیے جانے والا ایک پانی بچا لیا جائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ زرعی جامہ کے سائنسدانوں کی جانب سے ہائبرڈ گندم متعارف کروائی گئے ہے جس کے مثبت نتائج برآمدہوئے ہیں۔ جبکہ ٹڈی دل کے موئثر کنٹرول کیلئے زرعی جامعہ کے سائنسدانوں نے سپرے تیار کیا ہے جس سے ٹڈی دل کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کی کامیابی پر حکومتی سطح پر زرعی جامعہ کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی جامعہ نے مختلف اداروں کی معاونت کے ساتھ مل کر ڈیورم ویٹ کا سیڈ تیار کیا ہے پاکستان میں اس گند م کی کاشت نہیں کی جاتی لیکن پاکستان میں فروخت ہونے والے اجناس میں اس کا استعما ل بہت زیادہ ہے مثلاً پاستا اور سیویا ں وغیرہ اس لیے زرعی جامعہ نے ڈیورم ویٹ کا بیج تیار کر کے کسانوں تک پہنچایا ہے تاکہ کسان یہ گندم خود اگا کر پرائیوٹ فیکٹریوں کو اچھے منافع پر فروخت کر سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ خطہ آم کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن رہائشی کالونیاں کے بننے اور زرعی رقبہ کم ہونے کی وجہ سے آم کی متاثر ہوتی پیداوار کو مد نظرر رکھتے ہوئے زرعی جامعہ نے آم کے کاشتکاروں کیلئے سمال ٹری سسٹم (STS) متعارف کروایا ہے۔اس طریقہ کاشتکاری میں ایک ایکڑ زمین پر 1300تک آم کے پودے لگائے جا سکتے ہیں جس سے پیداوار اور آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے اور اسی سلسلے میں زرعی جامعہ نے پاکستان بھر کے کاشتکاروں کو (STS) سسٹم کے بارے میں کئی ٹریننگزبھی کروائی ہیں۔

آصف علی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -