نیشنل ڈیزاسڑڈ ے، ملتان سمیت مختلف شہروں میں آگاہی واک، فلیگ مارچ

  نیشنل ڈیزاسڑڈ ے، ملتان سمیت مختلف شہروں میں آگاہی واک، فلیگ مارچ

  

 ملتان، صادق آباد، لیہ، ڈیرہ، خانیوال، راجن پور(وقائع نگار، نمائندہ خصوصی، نمائندہ پاکستان، نامہ نگار)   ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122) ڈاکٹر رضوان نصیر کی ہدایت پر ملتان میں ریسکیو 1122 نے 8 اکتوبر 2005 میں زلزلے میں زخمی اور ہلاک ہونے والے لوگوں کی یاد میں منایا۔کہ سانحات سے نبرد آزما ہونے کے لیے قبل (بقیہ نمبر31صفحہ6پر)

از وقت تیاری ضروری ہے۔آگاہی واک کے شرکاء  نے زلزلے میں وفات پانے والے لوگوں کے لیے دعا کی اور پسماندگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جن کو اس قدرتی آفت میں جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔اس سلسلے میں چوک کمہاراں سے سبزی منڈی تک آگاہی واک اور فلیگ مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹرکلیم اللہ نے واک کی قیادت کی۔ واک میں ڈسٹرکٹ ملتان کے ریسکیورز،  انچارج ایمرجنسی آفیسر ایڈمن محمدارشد خان،  انچارج ایمرجنسی آفیسر آپریشن محمد مدثر ضیاء  کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں ریسکیو والنٹیرنے بھی شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسر ڈاکٹرکلیم  اللہ نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے آگاہی کے قومی دن کے موقع پر آگاہی ریلی کی قیادت کی۔ اس موقع پر  انھوں  نے کہا کہ لوگوں کو ایمرجنسی کی صورت میں بلا امتیاز رنگ و نسل 24گھنٹے ریسکیو سروس دستیاب ہے۔الحمداللہ ریسکیو 1122 نے 5,36913  ایمرجنسی کے شکار لوگوں کو مدد فراہم کر چکی ہے مگر محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے عوام الناس میں آگاہی اور حادثات سے روک تھام کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔  ریسکیو 1122صادق آباد کے زیر اہتمام ملکی سطح پر8اکتوبر کو زلزہ سے متاثرین کی یاد میں منایا گیا اس سلسے میں مختلف ریسکیو 1122 آفس سکول اور کالجز میں کرونا ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوے  قدرتی آفات سے بچاو و آگہی کے لیے عنوان سے  سیمنار کا انعقاد بھی کیا گیا شرکاور ا طلبا کو اس دن سے،متعلق بتایا گیا کہ کس طرح کشمیر اس کے مضافات اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ایک بڑے سانحہ کی صورت میں  قسمتی جانوں کا ضیاع و املا ک کا بہت نقصان ہو اگوریمنٹ پاکستان کے محتاط اندازے کے  مطابق صرف سکولو ں کی عمارتیں مہند م ہونے پر  19000بچے اس زلز لہ کی نظر ہو گئے تھے جبکہ قیمتی جانو ں کا ضیاع ہزاروں میں اس کے علاوہ تھا طلبا کوکسی بھی سانحہ کی صورت میں  زندگی بچانے کے بنیادی اقدامات کے تحت تربیت بھی فراہم کی گئی  لوگوں میں سیفٹی بروشربھی تقسیم کیے گیے اور بصورت زلزہ حفاظتی وزندگی بچانے کے  بنیادی اقدامات کے تحت بھی بریفنگ دی گئی  جبکہ سانحہ متاثرین و شہدا کے لیے ریسکیو آفس دعا بھی کی گئی۔  ریسکیو 1122لیہ کے زیر اہتمام سانحات وآفات سے بچاو کے متعلق آگاہی کا دن منایا گیا۔اس حوالے سے واک اورسیمینار کا اہتمام کیا گیا۔واک میں ریسکیو آفیسرز،محکمہ سول ڈیفنس کے اہلکار، ریسکیو جوانوں کے علاوہ ریسکیو سکاؤٹس نے شرکت کی۔منعقدہ سیمینار سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122ڈاکٹرسجاد احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصدآنے والے کسی بھی سانحہ یا قدرتی آفات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ ڈاکٹر سجاد احمد نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا مگر موثر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر مالی اور جانی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستا ن میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہ کاریوں سے متعلق آگاہی دی اور ریسکیو جوانوں کی جانب سے اس بات کا عہد کیا گیا کہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں اپنا کرادر ادا کریں گے اور ریسکیورز کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہمہ وقت تیاررہیں۔سیمینار میں  قدرتی سانحات و آفات سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی گئی۔اس موقع پر کنٹرول روم انچارج اسٹیشن کوآرڈینیٹرز محمد کاشف اور میڈیا کووارڈینیٹر وسیم حیات موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو 1122ڈیرہ غازیخان ڈاکٹر حسین میاں نے کہا ہے کہ قدرتی آفات اور سانحات سے نمٹنے کیلئے پہلے سے تیار رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے لیکن بہترین تیاری اور حکمت عملی سے ان کی شدت اور نقصانات میں کمی لائی جاسکتی ہے. انہوں نے یہ بات قدرتی آفات اور سانحات کی ٓگاہی  کے دن کے موقع پرسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی. بانی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر ستارہ امتیاز کی ہدایت پر سیمینارز اور مختلف تعلیمی اداروں میں تقاریب کابھی انعقاد کیاگیا.اس موقع پر  پودے بھی لگا ئے گئے اور آگاہی کے لیے   فرضی مشق کے ذریعے  زخمیوں کو  طبی امداد دینے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ بعدازں ٓگاہی  واک کا انعقاد کیاگیا جس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرڈاکٹر حسین میاں، ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسر محمد اختر بھٹہ، ریسکیورز اور طلباء نے شرکت کی۔  ریسکیو 1122خانیوال کے زیر اہتمام سانحات وآفات سے بچاو کے متعلق  آگاہی کا قومی دن منایا گیا۔اس حوالے سے واک اورسیمینار کا اہتمام کیا گیا۔سیمینار کے شرکاء سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122ڈاکٹر خالد محمود  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصدآنیوالے کسی بھی سانحہ یا قدرتی آفات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122ڈاکٹرخالد محمودکی قیادت میں واک کا اہتمام کیا گیا جو ریسکیو آفس سے شروع ہو کر لاہور موڑ سے ہوتی ہوئی واپس ریسکیو اسٹیشن پر اختتام پذیر ہوئی۔ واک میں ریسکیو آفیسرز، ریسکیو جوانوں اور  بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ریسکیوسیفٹی آفیسر محمد یاسر رضا نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا مگر موثر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر مالی اور جانی  نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے انہوں نے پاکستا ن میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہ کاریوں سے مطلق آگاہی دی اور ریسکیو جوانوں کی جانب سے اس بات کا عہد کیا گیا کہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں اپنا کرادر ادا کریں گے۔بعد ازاں ریسکیو 1122  کی طرف سے مختلف جگہوں پر سٹال لگا کر پمفلٹ تقسیم کیے اور قدرتی  سانحات و آفات سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی گئی۔اس موقع پ  اسٹیشن کوآرڈینیٹرز  محمد سیلم، سمیع اللہ، ریسکیوکمیونٹی انسٹرکٹر بشیر احمد طاہر اور میڈیا کووارڈینیٹر راشد چوہدری موجود تھے۔    ریسکیو 1122 اسٹیشن پر نیشنل ڈیزاسٹر ڈے کے حوالے سے سیمینار اور واک کا اہتمام کیا گیا جس میں ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نیکہا کہ آفات قدرت کی طرف سے آتی ہیں لیکن ان کے لیے پہلے سے تیار رہنا ہم سب کا فرض ہے جس کے لئے ہر گھر میں کم از کم ایک فرد کو فرسٹ ایڈر ہونا ضروری ہے تاکہ خدانخواستہ اگر کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے گھر والوں اور اردگرد بسنے والے لوگوں کی مدد کر سکے تاکہ کم سے کم انسانی جانوں کا ضیاع ہو۔سیمینار کے شرکاء نے 8 اکتوبر 2005میں آنے والے ہولناک زلزلہ میں شہید ہونے والوں کے بلند درجات اور متاثرین کے لئے دعا کی اور آخر میں آفات کی آگاہی کے سلسلے میں واک کی گئی جس میں شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آفات سے آگاہی کے بارے ہدایات درج تھیں۔ سیمینار میں ایمرجنسی آفیسر R&M چوہدری راحت علی،سینئر اکاؤنٹینٹ شہزاد قریشی،محد قربان TMIاور محمد عابد SCنے شرکت کی۔

ڈیزائسٹر ڈے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -