ہائیکورٹ کا سیکرٹری اورڈی جی صحت کی جانب سے کمنٹس جمع نہ کرنے پر برہمی کا اظہار

ہائیکورٹ کا سیکرٹری اورڈی جی صحت کی جانب سے کمنٹس جمع نہ کرنے پر برہمی کا ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ کیجانب سے کیس میں کمنٹس جمع نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری محکمے کیسز میں جواب جمع نہیں کرتے جو عدالتوں کیلئے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمنٹس جمع نہیں کرتے توسیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ کی تنخواہ قرق کی جائیگی۔ دورکنی بنچ نے گزشتہ روز فرنٹیئرڈیکس ٹروز(frontier dextrose) کی رٹ پر سماعت کی۔ دوران سماعت انکے وکلاء حبیب الرحمان اور رانا شہزاد عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں ڈریپس کی سپلائی کیلئے ٹینڈر جاری کیا جس کیلئے انکی کمپنی نے بھی تمام لوازمات کے بعد ٹینڈر دیا اورسب سے کم بولی دی جسکے تحت وہ اہل قراردے دیئے گئے تاہم ایک اور کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا۔ اس حوالے سے کیپرا رولز کے تحت درخواست دائر کی گئی اور ڈی جی کیپرا نے اپنے فیصلے میں قراردیاکہ یہ خریدار ی غیرقانونی طور پر کی گئی ہے لہذاا س حوالے سے تمام کارروائی مکمل کرکے اس میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی جائے۔ تاہم جب سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ کو اس حوالے سے درخواست دی گئی تو اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہاہے جو کہ خود صوبائی حکومت کی شفافیت پر ایک سوال ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ گزشتہ چار ماہ سے یہ رٹ پٹیشن زیرسماعت ہے مگرابھی تک اس میں جواب جمع نہیں کیاجارہاہے اور مختلف طریقوں سے اس کیس کو طوالت دی جارہی ہے۔ جس پر جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ جب سرکاری محکموں کا یہ حال ہے تو پھر دوسروں کا کیا حال ہوگا۔ فاضل جسٹس نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ جلد ازجلد اس کیس میں جواب جمع کریں بصورت دیگر سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ کی تنخواہ قرق کی جائیگی۔ 

مزید :

صفحہ اول -