نوازشریف کی وطن واپسی کا امکان ، لیکن حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس کونسے آپشن ہیں؟ عمران خان کے کزن حفیظ اللہ نیازی واضح کردیا

نوازشریف کی وطن واپسی کا امکان ، لیکن حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس کونسے آپشن ...
نوازشریف کی وطن واپسی کا امکان ، لیکن حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس کونسے آپشن ہیں؟ عمران خان کے کزن حفیظ اللہ نیازی واضح کردیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر تجزیہ نگا ر اور وزیراعظم عمران خان کزن حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک نے پورے پاکستان میں تہلکہ برپا کردینا ہے ، نوازشریف کی جلد وطن واپسی کا امکان ہے جبکہ اپوزیشن کی اس تحریک کے مقابلے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس تین آپشن ہیں، انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ مریم نوازکو پنجاب ، سندھ میں بلاول ، خیبرپختونخوا میں مولانا فضل الرحمان کو قیادت سونپی جانی چاہیے ۔

یوٹیوب چینل پر اپنی ویڈیو میں حفیظ اللہ خان نیازی نے کہاکہ سیاسی منصوبہ بندی ٹھیک کی گئی تو تحریک موثر بنے گی ، لوگوں کو بروقت اطلاعات دیں، ایسے نہ ہوں کہ جیسے کراچی میں کو ئی جلوس نکل رہا ہے تو شام کوجلوس کے بعد پتہ چلتا ہے، لاہور میں ن لیگ کا احتجاج ہوا تو میڈیا کو ہی خبر نہ ہوئی، کئی دفعہ ہماری نااہلی، ہماری نالائقی اور ہماری سستی کی وجہ سے کوئی چیز متاثر ہوسکتی ہے، اس میں سے کوئی بھی کاہلی اپوزیشن کو نہیں کرنی چاہیے۔ ان کاکہناتھاکہ میں مریم نواز کے جلسے دیکھ چکا ہوں، مجھے پتہ ہے پبلک کس طریقے سے باہر نکلی تھی، اور پھر ان کے لیے کوئی چوائس نہیں چھوڑی تھی کہ وہ مریم نواز کو جیل میں ڈال دیں، اب بھی ڈالیں گے ، ہوسکتا ہے درجنوں لوگوں کو ڈال دیں لیکن تحریکیں کبھی نہیں رکتیں، پی این اے کی تحریک میں ساری لیڈر شپ گرفتار کرلی گئی تھی، چنانچہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ گرفتاریوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اپوزیشن کوسوشل میڈیا کی سہولت بھی حاصل ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مریم نوازکوقیادت کرنے دیں، سندھ کے اندر بلاول اور کے پی کے و بلوچستان میں فضل الرحمن کو قیادت کرنے دی جائے، کہیں اچکزئی صاحب بھی آسکتے ہیں، پنجاب کے اندر بھی کئی ایسی جگہیں ہیں کہ ساﺅتھ پنجاب یا چھوٹے شہروں میں فضل الرحمن صاحب بھی موثر ہوسکتے ہیں، مریم نواز کا باہر نکلنا آگ لگا سکتا ہے ،بلاول تقریب کرکے چلے گئے تو سندھ میں کراﺅڈ ساتھ لے جائے گا، اگر مریم تقریر کرکے چلی گئیں تو کراﺅڈ نکل جائے گا، ہر بندہ کسی ایک لیڈر کے ساتھ ہے، پنجاب وہ صوبہ ہے جس کی نفسیات ہے، جوا سٹیبلشمنٹ کے خلاف ہمیشہ سیاسی تحریکوں کو پذیرائی بخشتا ہے،بھٹو صاحب ایک عام آدمی تھے، پنجاب میں کسی نے ان کا نام نہیں سنا تھا، وہ سندھ کے لیڈر تھے، ،ایک صوبے نے پذیرائی بخشی تھی اور وہ پورے ملک کے لیڈر بن گئے اور وہ پنجاب تھا۔

ان کا مزید کہناتھاکہ اعجاز الحق کہتے ہیں کہ نوازشریف کو ان کے باپ نے بتایا،اپنے ہاتھ سے پودا لگایا اور اپنی زندگی ان کو دے کر گئے، اور وہ بالکل سٹیبلشمنٹ آدمی تھے، لیکن 1993ء میں انہوں نے اسٹیبشلمنٹ کو آنکھیں دکھائیں اور ان کو پبلک پذیرائی ملی، 2007ءمیں افتخار چودھری صاحب نکلتے ہیں، جیسے وہ سامنے آتے ہیں لوگ ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیتے ہیں اور وہ گاڑی کے اندر سے صرف ہاتھ ہلاتے ہیں، سیاست کے اوپر پنجاب کا ایسا مزاج ہے، جب آپ آنکھیں دکھاتے ہیں تو عام پبلک میں پاپولر ہوجاتے ہیں، عمران خان بھی یہی سپیس چاہتا تھا۔ 

ان کا کہناتھاکہ اپوزیشن کی تحریک کے بعد اب تین آپشن ہوسکتے ہیں، پہلی آپشن تو یہ ہے کہ طاقت کے بڑے سنٹرل اپوزیشن کو کرش کردیں، اور اپنا اقتدار قائم کرجائیں گے،دوسری آپشن یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان اور اپوزیشن کو ایک پیج پر لائے۔اٹیبلشمنٹ کا یہ رول ہو کہ ان دونوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں اور انصاف پر مبنی کامیاب ہو ں ، انصاف ہوتا نظر آئے ، یہ پاکستان کے بچنے کا دوسرا طریقہ ہے۔تیسری آپشن یہ ہے کہ مارشل لاءلگ جائے ۔

حفیظ اللہ نیازی کا کہناتھاکہ اگر دسمبر کے پہلے عشرے میں تبدیلی نہ آئی تو غالب امکان ہے کہ نوازشریف وطن واپس آجائیں گے ، اب شاید ایسا نہ ہو کہ آپ انہیں لاہور سے گرفتار کرکے اڈیالہ لے جائیں، اس وقت بھی کسی وجہ سے لوگ نہ پہنچ سکے، یہ الگ بحث ہے لیکن اب ان کیساتھ پورا پاکستان ہی اسلام آباد پہنچے گا، ایسے حالات میں عوام ساتھ چل پڑتے ہیں۔ 

مزید :

قومی -