بنام ڈسٹرکٹ و سیشن جج محمد ابراہیم اصغر 

 بنام ڈسٹرکٹ و سیشن جج محمد ابراہیم اصغر 
 بنام ڈسٹرکٹ و سیشن جج محمد ابراہیم اصغر 

  

ہجرت کے پندرہویں سال کی بات ہے حضرت عمر بن خطاب نے اسلامی لشکر کے قائدین حضرت عمرو بن العاص، حضرت شرجیلؓ بن حسنہ، اور ابو عبیدہ کو مقدس سرزمین کے حکمرانوں کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ اس شہر کی کنجیاں ان قائدین کے حوالے کردیں یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب یہودیوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں تاریخ ساز شکست ہوئی تھی لیکن حکمران پادری جعفر وینوس نے شہر کی کنجیاں ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا ہم نے اپنی مقدس مذہبی کتابوں میں اس شہر کی کنجیوں کا مالک بننے والے شخص کے جو اوصاف پڑے ہیں وہ آپ لوگوں کے اندر نہیں ہیں اس لیے ہم مقدس شہر کی کنجیاں تمہارے حوالے نہیں کریں گے یہ جواب سن کر عمائدین اسلام نے حضرت عمرؓ بن خطاب الفاروق کو پیغام بھیجا کہ امیر المومنین آپ خود اس مقدس شہر تشریف لائیں کیونکہ انہوں نے شہر کی کنجیاں ہمارے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حضرت عمر نے اپنے ایک غلام کو ساتھ لیا اور مقدس شہر کی طرف محو سفر ہوگئے راستہ طویل تھا کبھی حضرت عمرؓ سوار ہو جاتے غلام مہار پکڑ کر چلنے لگتا اور کبھی غلام سوار ہوجاتا اور حضرت عمرؓ مہار پکڑ لیتے اور کبھی دونوں پیدل چلنے لگتے ہیں تاکہ سواری بھی سانس لے لے سفر گزرتا گیا  مقدس شہر کے قریب پہنچے

تو اس وقت سوار ہونے کی باری غلام کی تھی جب مقدس شہر میں داخل ہوئے تو مہار حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں تھی اور غلام سواری پر سوار تھا جب یہ قافلہ مقدس فلسطین کے حاکم کے دربار میں  جلوہ افروز ہوا تو اس نے حضرت عمرؓ کے کپڑوں کو بڑے غور سے دیکھا اور شہر کی گنجیان ان کے حوالے کردیں اور کہا ہاں تمہی وہ شخص ہو جس کے اوصاف ہم نے اپنی مقدس کتاب میں پڑھ رکھے ہیں ہماری کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ وہ شخص جو مقدس سرزمین کی کنجیو ں کا مالک ہوگا اس ملک میں پیدل داخل ہو گا اور اس کے کپڑوں پر سترہ پیوند لگے ہوں گے(اس اسلامی واقعہ کی ترتیب اور تحقیق کے لیے میں مفتی احسن عالم کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے میری مدد فرمائی، جس طرح مسلمانوں نے یہودیوں کو نیست و نبود کیا یہ واقعہ پیش کرنا میرے آج کے کالم کا عنوان نہیں تھا۔دراصل ڈیرے دار آپ کی توجہ دلوانا چاہتا تھا حضرت عمرؓ اور غلام کے سفر پر یعنی اگر حضرت عمرؓ سارا  راستہ سواری پر سوار رہتے اور غلام چلتا رہتا تو بھی کوئی قباحت نہیں تھی لیکن احساس ایک ایسی دولت ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔

حضرت عمرؓ کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی جب میں نے سوشل میڈیا پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجن پور جناب محمد ابراھیم اصغر صاحب کو اپنے مالی عبدالخالق کو ریٹائرمنٹ پر کے موقع پر گلے میں پھولوں کا ہار پہنا کر سیشن جج کے پروٹوکول  کے ساتھ رخصت کیا ابھی کل ہی میری جج صاحب سے اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی پہلے پہل تو ذہن میں خیال آیا کہ شاید جج صاحب نے شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا لیکن نہیں جج صاحب درحقیقت ایک درویش انسان ہیں انہوں نے بتایا کہ میں عام زندگی میں بھی حضرت عمر ؓ کا پیروکار ہوں میں اپنے تمام تر فیصلوں میں حضرت عمرؓ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں دعا گو ہوں کہ اللہ کریم محترم ابراہیم صاحب کے قلم کو حق پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں محشر میں بھی حضرت عمرؓ کا ساتھ نصیب فرمائے۔

کیا فرق پڑتا ہے اگر جج صاحب کے اس عمل کو ایک رواج بنا دیا جائے ویسے بھی تو ہم نے بہت سے رسم و رواج قائم کر رکھے ہیں تو ایک اور سہی اگر تمام بڑے آفیسر اپنے مالیوں ' نائب قاصدوں ' چوکیداروں ' ٹیلی فون آپریٹروں ڈرائیوروں ’کلرکوں‘ کو اسی انداز میں عزت و وقار دے دیا کریں تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن بہت سے مالی عبدالخالق اپنی باقی زندگی اس ایک خوشگوار دن کو یاد کرتے کرتے گزار دیں گے عزت دے دیا کریں رب کی مخلوق کو کیوں کہ جو رب کی مخلوق کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -