ڈاکٹر وزیر آغا کی یاد میں

ڈاکٹر وزیر آغا کی یاد میں

  

ڈاکٹر وزیر آغا پاکستان کے ان چند مفکر ادیبوں میں سے تھے، جن کی اوریجنل سوچ نے فکر و نظر کی متعدد نئی قندیلیں روشن کیں اور اپنی زندگی میں ادب کے وسیلے سے راستہ دکھانے والے قطبی ستارے کا کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے انہیں اپنی زندگی میں خراج تحسین ادا کیا تو لکھا: ” ڈاکٹر وزیر آغا کی ہر تحریر میں ادب و فن کے ماخذ کی تلاش اور کائنات و زندگی کی جستجو ہے۔ وہ ہر حقیقت کا تجزیہ کرتا اور اسباب و علل سے بحث کرتا ہے۔ وہ مصور کم ہے، تجزیہ نگار زیادہ ہے.... تجزیہ نگاری ایک مزاج بھی ہے اور ایک اسلوب بھی، لیکن اگر اس کے ساتھ علم بھی شریک ہو جائے تو اسے شعبہ ¿ کمال خاص کہنے میں کسے تردّد ہو سکتا ہے“۔

ڈاکٹر وزیر آغا کی تخلیقی اور تنقیدی کتابوں نے، جن میں....” اردو شاعری کا مزاج“....”تخلیقی عمل“ اردو ادب میں طنزو مزاح....” تصورات عشق و فرد“.... تنقید اور جدید اُردو تنقید وغیرہ شامل ہیں، ثابت کر دیا کہ وہ اس”شعبہ ¿ کمال خاص“ تک پہنچ گئے تھے، جس کی طرف ڈاکٹر سید عبداللہ نے اشارہ کیا ہے اور اس کامیابی کی ایک مثال یہ ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا کو سویڈن کی سب سے بڑی ادبی تنظیم ”سویڈش رائٹرز یونین“ کے پریذیڈنٹ پیٹر کرین نے نومبر1994ءمیں سٹاک ہوم میں رائٹرز یونین کے ایک خصوصی اجلاس میں جنوبی ایشیا کے نمائندے کے طور پر اس خطے کے ادیبوں کے مسائل کے موضوع پر مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی۔

یکم نومبر 1994ءکو ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنا مقالہ پڑھا اور سامعین کے سوالات کے جواب دیئے اور یہ اتنے مدلل اور خیال افروز تھے کہ سویڈش اکیڈمی نے ڈاکٹر وزیر آغا کو ”نوبیل لائبریری“وزٹ کرنے کی دعوت دی اور ایک گوشہ دکھایا جس میں وزیر آغا کی کتابیں رکھی گئی تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انہیں نہ صرف سویڈن رائٹرز یونین کے سالانہ اجلاس میں شریک کیا گیا، بلکہ وہ کمرہ بھی دکھایا گیا، جہاںنوبل پرائز کمیٹی کے اراکین نوبل پرائز کا آخری فیصلہ کرتے ہیں۔ نوبل لائبریری کے مہتمم اعلیٰ مسٹر ایرلانڈسن نے انہیں بتایا کہ اس کمرے میں سویڈن کا بادشاہ بھی بغیر اجازت داخل نہیںہو سکتا۔ آج سے تین سال پہلے یہ کمرہ ایک ادیب کو دکھایا گیا تھا یا پھر آج دکھایا جا رہا ہے.... (بحوالہ تین سفر۔ ص121).... سویڈن میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر پرویز پروازی نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر وزیر آغا کے اس لیکچر کے بعد تین بار اُن کا نام نوبل ایوارڈ کے لئے ”شارٹ لسٹ“ میں لیا گیا تھا، لیکن ہر بار اس کمیٹی کی سیاست آڑے آ جاتی رہی۔

وزیر آغا سرگودھا کے ایک معمولی سے گاﺅں میں 18مئی 1912ءکو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دیہاتی مدرسوں میں حاصل کی، لیکن ایم اے معاشیات کے موضوع میں گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ اُن کے والد انہیں فوج میں بھیجنا چاہتے تھے، لیکن والدہ نے مخالفت کی۔ اُن کے والد آغا وسعت علی خان کو تصوف میں گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے وزیر آغا کا ذہن بھی فلسفیانہ سوچ کی طرف لگا دیا۔ ان کی مزید تربیت ماہنامہ ادبی دُنیا کے مدیر مولانا صلاح الدین احمد نے کی۔ مسرت کے موضوع پر ان کے فلسفیانہ مضامین اور جدید نظمیں”ادبی دُنیا“ میں شائع کیں اور پانچویں دور میں اپنا شریک بھی بنا لیا۔ وزیر آغا نے ”اُردو ادب میں طنزو مزاح“ کے عنوان سے بے مثال تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، تاہم ان کی زیادہ توجہ ادب کی طرف رہی۔

ان کی کتاب ”اردو شاعری کا مزاج“ سے اردو تنقید میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ اس کتاب میں اردو اب کی تین اصناف گیت، غزل اور نظم کا تجزیہ ثقافتی پس منظر میں کیا گیا ہے اور اسے بیک وقت مارکسی، عمرانی اور ساختیاتی تنقید کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے۔ اُن کی شاعری کی سترہ اور تنقید کی دو درجن کتابیں چھپ چکی ہیں۔ انہوں نے ادب کو امتزاج تنقید سے متعارف کرایا اور اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوںکو اعتماد اظہار عطا کیا۔ ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے ہیں۔ راقم نے ان کے فن پر ایک کتاب ”وزیر آغا: ایک مطالعہ“ ان کی 60ویں برسی پر پیش کی تھی۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ ¿ امتیاز سے نوازا۔ فکرو خیال کی انوکھی پگڈنڈیوں پر سفر کرنے والا یہ مفکر ادیب 7ستمبر 2010ءکو اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد متعد رسائل نے وزیر آغا نمبر شائع کئے اور شاہد شیدائی، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم اور رفیق سندیلوی نے کتابیں لکھیں۔ بلاشبہ وزیر آغا وجود کے طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن وہ اپنی کتابوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔     ٭

مزید :

کالم -