حکومت کے آخری ایام میں سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہونے لگا

حکومت کے آخری ایام میں سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہونے لگا
حکومت کے آخری ایام میں سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہونے لگا

  

جوں جوں حکومت اپنی مدت پوری کرکے اپنے اقتدار کے آخری ایام کی طرف بڑھ رہی ہے ویسے ویسے سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پرانے ایشوز پر نئی محاذ آرائی سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ پیپلز پارٹی عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کروانے اور جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کے ایشوز چھیڑ کر پاکستان مسلم لیگ ن کو ”کارنر“ کرنا چاہتی ہے اور اس کا مطلب مسلم لیگ ن کی عوام میں اور خصوصاً جنوبی پنجاب میںپذیرائی اور مقبولیت کو کم کرنا ہے جس میں اب تک کی محاذ آرائی سے اسے یہ پرانے شوشوں کو نیا روپ دینے سے کافی حد تک کامیابی بھی ملی ہے۔ چونکہ جب صدر آصف علی زرداری نے جنوبی پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی بات کی اور اب جب انہوں نے عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کروانے کی بات کی ہے تو صدر کے ان دونوں اعلانات سے سب سے زیادہ آگ بگولا مسلم لیگ ن ہی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی سمیت دیگر حلقوں کے قریب صدر مملکت آئندہ انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کا اعلان، نہ عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کروانے کے موڈ میں ہیں۔ البتہ وہ مسلم لیگ ن کو ایسے ایشوز کی سیاست کرکے ”کارنر“ ضرور کرنا چاہتے ہیں جس میں وہ خاصا کامیاب نظر آتے ہیں۔ جہاں تک سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے آرڈیننس کے جاری ہونے کا سوال ہے تو اس کا مطلب قطعی یہ نہیں ہے کہ صدر فوری بلدیاتی انتخابات چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد بھی کچھ اور ہے اگرچہ صدر کو سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے لئے آرڈیننس جاری کرکے ”وقتی“ طور پر اپنی ایک اہم اتحادی ایم کیو ایم کو خوش کرلیا ہے۔ مگر اس میں اسے اپنی اہم دو دیگر اتحادی جماعتوں اے این پی اور مسلم فنکشنل لیگ کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ ان میں ایک اتحاد کی فنکشنل لیگ تو حکومت سے علیحدگی تک چلی گئی ہے مگر لگ یہی رہا ہے کہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ صدر کو انہیں ”رام“ کرنا آتا ہے اور وہ چند دنوں میں انہیں ضرور ”رام“ کرلیں گے۔ انہیں جو سب سے بڑا خطرہ ہوگا وہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے ہوگا چونکہ ان جماعتوں پر اس پارٹی جس کا نام مسلم لیگ ن ہے اور صدر اسے ”کارنر“ کرنے کی نت نئی پلاننگ کرتے رہتے ہیں، ان جماعتوں پر ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی نظر ہے وہ اس مخالفت کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور آئندہ چند دنوں میں میاں نواز شریف سندھ کا دورہ بھی کریں گے اور اظہار یکجہتی کے لئے سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان کے ساتھ مل کر جلسے بھی کریں گے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ نئے صوبے بنانے کے لئے قائم کیا گیا صدر کا پارلیمانی کمیشن وقت سے پہلے ہی دم توڑ رہا ہے۔ اس کمیشن کے دو اجلاسوں کے بعد تیسرا اجلاس نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نئے صوبے بنانے کا الیکشن سے قبل پروگرام رکھتی ہے نہ بلدیاتی انتخابات کیونکہ نئے صوبے بنانے کے لئے اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی جو مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی اور نہ عام انتخابات سے قبل حکومت بلدیاتی انتخابات کروائے گی نہ جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے اپنے اعلان پر عمل کرسکے گی۔ یہ اعلانات گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوں گے جو مسلم لیگ ن کو ڈرانے یا کارنرکرنے کی پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تو ہوسکتی ہے اس میں حقیقت نام کی چیز نظر نہیں آتی۔

مزید :

تجزیہ -