قادیانیوں کی اسلام مخالف سرگرمیاں

قادیانیوں کی اسلام مخالف سرگرمیاں

اسلام کے خلاف بہت سے فتنے پیدا ہوئے، جن میں سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت ہے۔ قادیانی مرزائی دن رات مسلمانوں کا ایمان لوٹنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی اور نظم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں دھوکہ دہی ، دجل و فریب سے کام لے کر مسلمانوں کو مرتد بنا رہے ہیں۔ ان کی ارتدادی سرگرمیاں اس خطے کے علاوہ یورپ ، امریکہ ، کینیڈا، افریقہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ قادیانیوں نے بعض شہروں کو ہدف بنا کر غیر ملکی سرمائے سے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کی آڑ میں جارحانہ انداز میں تبلیغ اور ارتدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ ان میںپنجاب کے مختلف شہروں سمیت گوجرانوالہ خاص ہدف ہے۔ ان این جی اوز کو لندن مرکز سے ڈیل کیا جاتا ہے اور وہاں سے کلیئرنس کے بعد چناب نگر میں رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔

 برطانوی پارلیمنٹ میں 2011ء میں بھی قادیانیوں کی ایک مہم کے نتیجے میں پاکستان میں قادیانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ایک گرما گرم بحث ہو چکی ہے،لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ قادیانیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجودان کی مہم ناکامی کا شکار ہوئی تھی،تاہم اب 2014ء میں ایک بار پھر قادیانیوں نے پاکستان میں قانون توہینِ رسالت اور قادیانی مخالف دیگر قوانین ختم کرانے کے لیے نئی کوششوں کا آغاز برطانیہ اور امریکا میں ایک ساتھ کیا ہے، لیکن ابتدا میں ہی قادیانیوں کو عوامی حمایت کے حوالے سے ناکامی کا سامنا ہے۔

مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانیوں مرزا ئیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے، مگر افسوس !مسلمان اس فیصلے کی خلاف ورزی کر کے قادیانیوں مرزائیوں سے رابطے اور تعلقات استوار کر لیتے ہیں اور بہت سے سادہ لوح مسلمان ان کے پھیلائیے ہوئیے ارتدادی جال میں پھنس کر اپنا ایمان کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ ہماری سستی ہے کہ اکثر مساجد ، مدارس ، دینی رسائل اور دینی اجتماعات میں مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے واضح دلائل سے عقیدہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوعات پر آگاہ نہیں کیا جاتا، جس وجہ سے دینی حلقوں کے لوگ بھی قادیانیوں کے ہاتھوں ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

قادیانی بیرون ممالک میں مسلمانوں کے روپ میں جا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ افریقی ممالک میں قادیانیوں نے مسلمانوں کو اس دلیل سے دھوکہ دیا کہ ربوہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے جائے پیدائش کے لئے استعمال ہوا ہے اور ہم ربوہ سے آئیے ہیں، مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کی دعوت لے کر۔ دیکھو پاکستان کے نقشے پر ربوہ شہر موجود ہے اور اسی سے کئی لا علم مسلمانوں کو فریب سے قادیانی بنا لیا۔ مغربی افریقہ میں ”مالی “کے نامور مذہبی رہنما شیخ عمر کانتے کا بیان وہاں کے احوال سمجھنے کے لئے کافی ہے۔شیخ عمر کانتے فرماتے ہیں: ”ہمیں یہی باور کروایا گیا کہ دین محمدی اور دین احمدی (قادیانیت ) ایک ہی ہے۔ قادیانی تنظیم کے لوگوں نے یہاں آ کر ہم کو دھوکہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں اور احمدی نام تعارف کے لئے ہے۔ ہم سڑکیں بنائیں گے، گھر بنائیں گے ، تمام سہولتیں دیں گے۔ اس وجہ سے لوگوں نے قبول کیا کہ ایمان بھی محفوظ اور سہولتیں بھی مل رہی ہیں۔ اب ہم پر واضح ہوا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اہم عقیدہ ہے۔اور مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا، اپنے آپ کو رسالت کے منصب پر فائز کیا، اس کے پیرو کار اس کو نبی اور پیغمبر کی حیثیت سے جانتے اور تسلیم کرتے ہیں، جبکہ قادیانیت کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور دین احمدی کا نام ایک کھلا دھوکہ ہے۔

قادیانی اپنے اداروں ، فیکٹریوں میں غریب مسلمانوں کو ملازمت دے کر تبلیغ کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کا ایمان لوٹ لیا جاتا ہے۔قادیانی اپنی فری ڈسپنسریوں، کلینک اور ہسپتال میں علاج معالجہ کے چکر میں بہت سے مسلمانوں کو مرتد کر لیتے ہیں۔ خون دینے کے بہانے قادیانی نوجوان مریض کے گھر والوں سے رابطہ بڑھاتے ہیں اور محبت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔ پھر مریض کے گھر آنا جانا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس خاندان کے قریب ہو کر مسیحا کا روپ دھار کر قادیانیت کی تبلیغ شروع کر تے ہیں۔یونیورسٹیوں ، کالجوں، سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی تبلیغی سرگرمیاں مسلمان لڑکے لڑکیوں کے لئے انتہائی مضر ہیں۔ بہت سے واقعات ایسے سامنے آئے ہیں کہ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے طالب علم قادیانی کلاس فیلوز سے دوستی کے نتیجے میں ربوہ کی سیر کو چل پڑے اور پھر انہی کے ہاتھوں شکار ہو گئے اور اپنا ایمان لٹا بیٹھے۔

بالا کوٹ میں آنے والے زلزلے میں جہاں تمام مسلمان ان کی امداد کے لئے سر گرم تھے وہاں قادیانی بھی ارتدادی سرگرمیوں کو پھیلانے کے لئے بھرپور کام کر رہے تھے اور ایمان لٹانے والوں کو مراعات کی پیشکش کر کے ورغلایا جاتا رہا اور متعدد مسلمانوں کو قادیانی بنایا گیا۔آج ربوہ میں پٹھان مربّی بننے کی تربیت لیتے نظر آتے ہیں اور پٹھانوں کے علاقوں میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش ناک ہے۔ اس وقت سوات اور گردو نواح کے مصیبت زدگان مسلمان بھائیوں میں تبلیغ اور بیعت فارم بھروانے کے لئے قادیانی بھرپور سر گرم عمل ہیں اور ان کی بہت سی ”این جی اوز“ وہاں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کام کررہی ہیں۔

یہ انکشاف یقینی طور پر وطن کی محبت میں سرشار ہر پاکستانی کے لیے فرسان روح ہے کہ اسرائیل میں 600 سے زائد پاکستانی نڑاد قادیانی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی خفیہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ممبئی حملوں اور پاک بھارت تناو¿ بڑھانے میں قادیانیوں نے کلیدی کردار ادا کیا، امریکی و چینی مداخلت پر بھارت مہم جوئی سے باز رہا، جبکہ قادیانیوں کا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں امن کا قیام چاہیے تو قادیانیوں کو تحفظ دیا جائے۔ اسرائیلی پروفیسر آئی ٹی نامانی نے اپنی کتاب اسرائیل ایک تعارف میں انکشاف کیا ہے کہ کارگل کی جنگ کے دوران ہزاروں بھارتی قادیانیوں نے پاکستانی فوج کے خلاف اسلحہ کی خریداری اور دیگر دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے لئے کروڑوں کے فنڈز بھارتی آرمی کو فراہم کئے، جبکہ پاکستان میں بھارتی فوج کے لئے باقاعدہ جاسوسی کرتے رہے۔

مزید : کالم