دھرنا سیاست ختم کریں !

دھرنا سیاست ختم کریں !
دھرنا سیاست ختم کریں !

  

پاکستان میں یوم آزادی والے روز سے شروع ہونے والا احتجاج ابھی تک جاری ہے۔ ملک کی دو جماعتوں اور دو لیڈروں نے اسلام آباد میں دھرنے دے کر پوری قوم کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک کے تمام طبقات دھرنے والوں کے قریباً تمام مطالبات کی حمایت کرچکے اور حکمرانوں نے بھی یہ سب تسلیم کرلئے ہیں لیکن دھرنے والے مانتے نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، تاجر، صنعتکار اور عوام بیوقوف اور یہ دونوں رہنما عقل مند ہیں جو ملک میں بحران پیدا کئے ہوئے ہیں، اور اپنی ضد نہیں چھوڑ رہے۔ ان کو قریباً دو ہفتے ہوگئے، اسلام آباد میں دھرنا دیئے ہوئے۔ انہوں نے اپنے ساتھ بوڑھوں کے علاوہ، عورتوں، جوان لڑکیوں اور بچوں کو بھی رکھا ہوا ہے۔ ان حضرات نے سچائی اور اخلاق وادب کے دعوے تو بہت کئے ہیں، لیکن جو زبان دھرنوں میں استعمال کی جاتی اور جس طرح خون بہانے اور مرنے مارنے کی باتیں کی جاتی ہیں، وہ کہاں کا اخلاق ہے اور کہاں کی سیاست ہے؟

ہم تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ملک میں سکون ہوتو کاروبار بھی چلتے ہیں، اس وقت بدسکونی ہے، تو کاروبار ٹھپ ہے اور تو اور بچوں کی تعلیم کا حرج بھی ہورہا ہے۔ ابھی تک تعلیمی سرگرمیاں معمول پر نہیں آسکیں۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ اس وقت کاروباری برادری تو پریشانی سے دوچار ہے ہی ، لیکن روزانہ اجرت والے مزدور فاقوں پر مجبور ہونے لگے ہیں،اگر یہ ساری سیاست عوام کے نام پر ہورہی ہے تو پھر عوام کو بھوکا کیوں مارا جارہا ہے۔ اس حوالے سے ایک گزارش الیکٹرانک میڈیا سے بھی ہے۔ کہتے تو یہ ہیں کہ میڈیاکو غیر جانبدار ہونا چاہئے لیکن یہاں کیفیت بہت ہی مختلف ہے۔ میڈیا کا غیر جانب دار ہونا تو درکنار بحران پیداکرنے اور اسے بڑھانے پر تلا ہوا ہے۔ یہ جو حضرات اینکر پرسن ہیں، یہ یک طرفہ بات کرتے ہیں ، اس کے علاوہ مہمانوں کے طورپر مخصوص لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو ان کی مرضی کے مطابق تجزیہ کرتے ہیں ، یہی چہرے مختلف چینلوں پر نظرآتے ہیں۔

میڈیا والے دھرنوں کو سارا سارا دن لائیو دکھاتے اور لیڈروں کی اشتعال انگیز تقریروں کو براہ راست نشرکرتے ہیں ، ان میں ایسے فقرے بھی ہوتے ہیں جو گھروں میں نہ کہے نہ سنے جاسکتے ہیں، اگر یہ کوریج روک دی جائے تو ان کے غبارے سے خود بخود ہوا نکل جائے گی۔ میڈیا والوں سے یہ گزارش غلط تو نہیں ہوگی کہ یہ دیانت داری سے کاروبار کی صورت حال، تاجروں کے مسائل، مزدوروں کی پریشانی اور عام آدمی کی حالت کا احوال خود ان کی زبانی بھی سنائیں تاکہ تصویر کا اصل رخ سامنے آسکے۔ میڈیا والے مارکیٹوں میں جاکر یہ کیوں نہیں پوچھتے اور لائیو دکھاتے کہ عمران خان نے سول نافرمانی کا کہہ کر، بیرونی ممالک کے پاکستانیوں کو ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھیجنے کو کہا، بنکوں سے رقوم نکلوانے کی ہدایت کی اور ٹیکس نہ دینے کا اعلان کیا تو یہ کہاں کی حب الوطنی ہے ؟ میڈیا والے اس بارے میں کاروباری طبقات اور متاثرہ عوام کی آراءکا ذکر کیوں نہیں کرتے؟

جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کا تعلق ہے تو وہ ایک دینی سکالر کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے، لیکن دھرنا اور انقلاب کے حوالے سے جس انداز سے وہ تقریر کرکے لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں، وہ کس زمرے میں شمار کیا جائے گا؟ ڈاکٹر صاحب تو نعشوں کا کاروبار کرنا چاہتے ہیں، پہلے ہی بے گناہ مارے گئے، زخمی ہوئے، ان کو انصاف ملنا چاہئے، مَیں پوچھتا ہوںاس انداز سے یہ ممکن ہوگا؟ اس سے ملک کے اندر فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) والوں نے بھی مظاہرے شروع کردیئے ہیں۔ اگر مظاہرین آمنے سامنے آجائیں۔ اشتعال پیدا ہو اور فساد شروع ہوجائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اور نتیجہ کیا نکلے گا؟ مَیں اپنی بات ختم کرنے سے پہلے گزارش کردوں کہ عام لوگوں کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ سب جو بھی ہورہا ہے، غیرملکی ایجنڈے کے تحت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ہورہا ہے۔ اس وقت بھارت نے ازلی خباثت کا مظاہرہ شروع کررکھا ہے۔ ملکی افواج دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہیں، ایسے میں ہمیں مکمل اتحاد کی ضرورت ہے، اس افراتفری سے فوج کے حوصلے بھی پست ہوں گے اور توجہ بٹے گی۔ بہتر ہے کہ دھرنے فوراً ختم کریں، کاروبار زندگی معمول پر آنے دیں اور تنازعات میز پر بیٹھ کر طے کرلیں ۔

مزید : کالم