دھرنوں سے ملکی معیشت کو لاحق خطرات

دھرنوں سے ملکی معیشت کو لاحق خطرات

مکرمی! گزشتہ چار ہفتوں سے پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام اور دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں، مظاہروں اور پولیس جھڑپوں سے جہاں ایک طرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچ رہا ہے، وہاں اس صورت حال نے معیشت کو بھی بحران سے دوچار کردیا ہے اور معیشت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ سیاسی بحران کے باعث روپے کی قدر چار فیصد تک گر چکی ہے۔ پاکستان پر واجب الادا قرضوں میں 180ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ موجودہ دھرنوں اور مظاہروں کے باعث ملکی معیشت کو اب تک 7کھرب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ معاملہ سیاسی ہے اور بالآخر اسے سیاستدانوں کی باہمی گفت وشنید سے ہی حل ہونا ہے۔ ہٹ دھرمی مسائل کا حل نہیں اور سیاسی معاملات میں پاک فوج کو گھسیٹنا بھی اچھی بات نہیں۔ سیاست دانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور غیر یقینی صورت حال کا جلداز جلد باہمی مشاورت سے خاتمہ کرنا چاہئے تاکہ معیشت میں بہتری آئے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ صورت حال مزید طول پکڑتی ہے تو پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا شدیداندےشہ ہے۔

  (محمد ضیاءآفتاب ....نیوگارڈن ٹاﺅن، لاہور)

مزید : اداریہ