اعتزازاحسن کی ”شرارت“

اعتزازاحسن کی ”شرارت“
اعتزازاحسن کی ”شرارت“

  

چودھری نثار علی خان نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتزاز احسن کے ”اخلاقی بت“ کو پاش پاش کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ھے کہ چودھری نثار علی خان نے اپنے قائد اور وزیراعظم میاں نوازشریف کے حکم پر اعتزازاحسن پر ہاتھ ”ہولا“ رکھا ہے اور اگر چودھری نثار علی خان اپنے مزاج اور انداز میں زبان چلاتے تو اعتزاز احسن کئی دنوں تک ”بستر علالت“ پر گزارتے، اب بھی اخلاقی طور پر وہ پارلیمنٹ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اور پھر ابھی تو محمود خان اچکزئی نے بھی ان سے اپنا ”حساب“ لینا ہے وہ پٹھان آدمی ہیں اگر ان کی ”سوئی“ اٹک گئی ،جیسی کہ عمران خان کی سوئی استعفیٰ پر اٹک گئی ہے تو پھر وہ زبان سے ہی نہیں ہاتھ پاﺅں سے بھی حساب برابر کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن پارلیمنٹ میں ایسی نوبت نہ ہی آئے تو اچھا ہے، کیونکہ اس سے جہاں پارلیمنٹ کی بدنامی ہوگی وہاں دونوں میں سے کسی ایک کی ہڈی پسلی بھی ٹوٹ سکتی ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ اعتزازاحسن کے مقابلے میں محمود خان اچکزئی زیادہ سمجھدار اور باوقار آدمی ہیں، ویسے چودھری نثار علی خان کے خلاف تقریر کرکے اعتزازاحسن کے ساتھ وہی ہوا ہے ، بقول شاعر:

اس عاشقی میں ”عزت سادات“ بھی گئی

سید خورشید شاہ نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جناب وزیراعظم آپ کے دائیں بائیں سانپ اور غدار موجود ہیں،سید بادشاہ نے بالواسطہ طور یہ خطابات چودھری نثار علی خان کے لئے استعمال کئے تھے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت اناپرست اور اپنی ڈھب کے آدمی ہیں۔مسلم لیگ (ن) میں کئی لوگ ان کے رویئے کو پسند نہیں کرتے، بلکہ کئی لوگ تو ان کے ساتھ سلام دعا سے بھی گریز کرتے ہیں۔اچانک آمنا سامنا ہو جائے تو اپنا راستہ بدل لیتے ہیں ان کے اس رویئے کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر چودھری نثار علی خان کا ایک ”دھڑہ“ بھی موجود ہے اور پھر بات یہاں تک بڑھا دی جاتی ہے کہ چودھری نثار علی کسی بھی وقت بغاوت کرکے وزیراعظم کے لئے مشکل پیدا کر سکتے ہیں اور شائد خورشید شاہ انہی ”افواہوں“ کی بنیاد پر وزیراعظم کو اپنی صفوں کو درست کرنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں، مگر چودھری نثار علی خان نے وزیراعظم نوازشریف کے حکم پر اعتزازاحسن پر ہاتھ ہولا رکھ کے ثابت کیا ہے کہ وہ پارتی قائد کے ساتھ مخلص ہیں اور وہ پارٹی کے لئے اپنی ذات کی قربانی دے سکتے ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کے مخالفین اور خاص طور پر سید خورشید شاہ کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور مسلم لیگ(ن) اندرونی طور پر پیپلزپارٹی سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور پیپلزپارٹی اس وقت عملاً ”دودھڑوں“ میں تقسیم ہو چکی ہے۔پیپلزپارٹی سندھ کا موقف مختلف ہے اور پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنماﺅں کی سوچ مختلف ہے۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنمانوازشریف کے خلاف کھڑے ہیں خود آصف علی زرداری کہاں کھڑے ہیں اس کی تو ابھی تک شیخ رشید جیسے ”کاریگر“ آدمی کو سمجھ نہیں آ رہی، ہم جیسے لوگوں کو کیسے سمجھ آئے، ویسے میاں نوازشریف کو آصف علی زرداری پر گہری نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ ان کے لئے جو نعرہ تخلیق کیا گیا ہے .... اک زرداری سب پر بھاری.... اس میں لفظ ”بھاری“ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی کو ”مصیبت“ میں ڈال سکتے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ میاں نوازشریف کسی ”انہونی‘ کے بعد گاتے پھریں:

سانوں نہر والے پل تے بلا کے تے

خورے ”زرداری“ کتھے رہ گیا

چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنس کے بعد اعتزازاحسن نے جہاں یہ کہا ہے کہ انہوں نے چودھری نثار علی خان کے ”درگزر“ کو قبول کیا ہے، وہاں انہوں نے ایک نئی ”شرارت“ بھی کی ہے، انہوں نے فرمایا ہے کہ دھرنے والوں کا پلان اے بی سی اور اب ڈی بھی ناکام ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر اعتزازاحسن کے علم میں یہ بات تھی کہ دھرنے والے یا ان کے ”سرپرست“ اب ڈی پلان کے تحت چودھری نثار علی خان اور اعتزازاحسن کے درمیان کوئی ”پھڈا“ کروانا چاہتے ہیں اور اس پلان کے تحت حکومت گرانے کی کوشش کریں گے تو پھر اعتزازاحسن کو چاہیے تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں اس پلان کے حوالے سے بات کرتے اور ایوان کو بتاتے کہ چودھری نثار علی خان ”پلان ڈی“ کے ذریعے استعمال ہو رہے ہیں اور اس پلان کے تحت پارلیمنٹ کے اتحاد اور اتفاق کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ ہے، لہٰذا مَیں چودھری نثار علی خان کے بیان کو رد کرتے ہوئے اس ایوان کو ”پلان ڈی“ کے منصوبے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، مگر اعتزازاحسن نے پارلیمنٹ میں صرف اپنی جمہوریت پسندی، اپنے اعلیٰ سیاسی کردار، اپنے خاندان کے سیاسی کردار اور اپنی نیک نامی کی بات کی اور ”پلان ڈی“ کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ”لندن پلان“ لاہور سے گوجرانوالہ تک کا تھا ، اس پلان کے تحت ان دونوں ”دھرنوں“ نے ، لاہور سے دس دس لاکھ لوگ لانے تھے اور اگر یہ لوگ اپنے وعدے کے مطابق دس دس لاکھ لوگ لے کے نکلتے تو گوجرانوالہ تو کیا شاہدرہ تک ان کے مطالبات مان لئے جاتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زمان پارک سے یہ صرف پانچ سے آٹھ ہزار کے قریب لوگ لے کر نکلے۔مال روڈ پر انہیں کچھ کچھ تسلی ہوئی کہ لوگ بہت ہیں، مگر شاہدرہ پہنچنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نکلا

اپنی اس ناکامی کے بعد بھی یہ لوگ گوجرانوالہ پہنچ گئے، وہاں رات بھر قیام کا مطلب صرف یہی تھا کہ اب فون آیا کہ اب فون آیا، مگر فون نہ آیا، بلکہ انہیں پیغام ملا کہ اب جو کرنا ہے،آپ نے کرنا ہے، ہماری طرف سے ناں سمجھو، یہ لوگ جب اسلام آباد پہنچے تو وہاں بھی انہیں مایوسی ہوئی، دونوں دھرنے ملا کے بھی لوگوں کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ نہ بڑھا سکے۔اس کے بعد یہ لوگ، ریڈ زون تک پہنچ گئے اور پھر انہوں نے ایک فیصلہ یہ کیا کہ اب پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر چڑھائی کی جائے،تاکہ حکومت پولیس کے ذریعے کارروائی کرے اور پھر تشدد کے نتیجے میں اللہ نہ کرے آٹھ ،دس لاشیں مل جائیں ، کیونکہ اس حوالے سے طاہر القادری ، عمران خان سے آگے ہیں، وہ صرف اپنے مطالبات کے ساتھ ہی نہیں چودہ لاشوں کے ساتھ بھی سیاست کررہے ہیں اورلاشوں کے حوالے سے عمران خان کا پلڑا خالی ہے، بہرحال یہ وہ حقیقت ہے جو ان دھرنے والوں کے لندن پلان کی ہے ،اعتزازاحسن کا ”پلان ڈی“ کا انکشاف........”دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ بیان اچھا ہے“کے سوا کچھ نہیں۔

”دھرنے“ والے اس وقت دوبارہ ڈی چوک کی طرف آ گئے ہیں، طاہر القادری اور عمران خان کی اب تک کی تقریریں لوگوں کو زبانی یاد ہو گئی ہیں۔عمران خان گزشتہ کئی روز سے اپنے بچپن کی کہانیاں سنا رہے تھے، وہ ان کہانیوں کے ذریعے اپنے کارکنوں کے سیاسی علم میں کیا اضافہ کر رہے ہیں، یہ تو ان کے کارکن جانتے ہوں گے، مگر اب انہیں بڑا بھی ہونا چاہیے، وہ لندن میں پڑھتے بھی رہے ہیں، وہاں کرکٹ بھی کھیلتے رہے ہیں، لندن میں نائٹ کلب بھی ہوتے ہیں، ان نائٹ کلبوں کا ایک ماحول بھی ہوتا ہے۔وہ اس ماحول کے مزے بھی اُڑا چکے ہیں، اب انہیں لندن کے نائٹ کلبوں اور جواءخانوں کے ماحول پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے، اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر نوجوان نسل کو ان جوا خانوں اور نائٹ کلبوں کے اچھے اور بُرے دونوں قسم کے اثرات سے بھی آگاہ کرنا چاہیے اور اب انہیں طاہر القادری کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کوچ کی ذمہ داری بھی سنبھالنی چاہیے، بلکہ طاہرالقادری کے ساتھ مل کر آئی ڈی پیز کے لئے ڈی چوک میں ایک ایک امدادی میچ کھیلنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اس طرح کے مثبت فیصلے کریں تو عوام ان کے ساتھ ہوں گے اور عوام میں ان کی پسندیدگی بڑھے گی، مگر طاہرالقادری کو بھی خدا کا خوف کرنا چاہیے، وہ اب ڈی چوک میں ادارہ منہاج القرآن قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں ”قبضہ گروپ“ بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ یہاں سرکاری زمین پر قبضہ کریں گے تو پھر حکومت ایکشن میں آئے گی.... اور ایک اور ”ماڈل ٹاﺅن“ واقعہ ہو جائے گا، انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا وہ دنیا میں صرف اس لئے آئے ہیں کہ لوگوں کے بچوں کو ”مرواتے“ پھریں۔

مزید : کالم