پاک چین دوستی۔۔۔ مضبوط رشتہ!

پاک چین دوستی۔۔۔ مضبوط رشتہ!

چینی سفارت کار کی یہ وضاحت پاک چین دوستی کی مثال ہے کہ جونہی حالات بہتر ہوئے چین کے صدر ژی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کے دفاتر خارجہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور چین کے صدر ژی کے دورہ پاکستان کی نئی تاریخوں کا تعین کر لیا جائے گا۔

صدر چین کے دورہ پاکستان کے حوالے سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ اس ماہ کے وسط میں 15-16 ستمبر کے لئے دو روزہ دورہ پر پاکستان آئیں گے۔ اور یہاں 33 ارب ڈالر کے ان معاہدوں پر دستخط ہوں گے جو توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے علاوہ بعض دوسرے منصوبوں کے حوالے سے پہلے ہی طے پا چکے ہوئے ہیں ان میں توانائی کے علاوہ لاہور میں اورنج ٹرین اور بعض دوسرے ترقیاتی امور ہیں اس کے ساتھ ہی سندھ کے بعض منصوبے بھی شامل ہیں اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سرگرم رہے توسابق صدر آصف علی زرداری نے بھی کوشش کی اور اپنے دورہ چین کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے معاہدوں پر دستخطوں کے ساتھ ہی کام شروع کرنے کی درخواست کی تھی۔بدقسمتی سے یہ دورہ جس کی حتمی تاریخوں کا اعلان ہونا تھا موخر کر دیا گیا کہ چین کی طرف سے آنے والی سیکیورٹی ٹیم نے کلیرنس نہ دی اور سفارش کی کہ فی الحال دورہ نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا سرکاری ذرائع نے الزام لگایا کہ یہ رپورٹ دھرنوں کے پس منظر میں دی گئی حالانکہ حکومت نے صدر چین کی زیادہ تر سرگرمیوں کو لاہورمنتقل کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن دوست مطمئن نہ ہوئے۔

اس دورے کے موخر ہونے کے ساتھ ہی ملک کے اندر ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہا گیا کہ دھرنوں کی وجہ سے اچھا تاثر نہیں ملا، جس کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی۔ دھرنوں کا عذر بڑی وجہ بنا، اس پر ملک کے اندر ایک نئی اعصابی لڑائی شروع ہو گئی تھی۔

چین پاکستان کا آزمودہ دوست نے اس لئے یہ توقع تو بالکل نہیں تھی کہ ادھر سے دورہ منسوخ ہی کر دیا جائے گا لیکن خدشات موجود تھے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی تھی، نئی نئی تنقیحات نکالی جا رہی تھیں۔ ایسے میں وضاحت فرض ہو گئی تھی پاکستان کے دفتر خارجہ اور پھر مشیر خارجہ سر تاج عزیز نے بتایا کہ نئی تاریخوں کے لئے رابطے موجود ہیں اب چینی سفارت خانے کی ایک اہم شخصیت نے واضح کر دیا ہے کہ دورہ چین ملتوی نہیں موخر ہوا جواب پھر ہوگا اس کے لئے نئی تاریخوں کے تعین کے لئے کہا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان اپنے معاملات کو دیکھنے کے ساتھ ہی اس کو بھی دیکھ لے گی اور یقیناًنئی تاریخوں کے لئے فضا ساز گار ہونے یعنی اسلام آباد سے دھرنے ختم کئے جانے کا انتظار کیا جائے گا۔ یہ اچھا اقدام ہے جو چین ہی کی طرف سے کیا گیا کہ ایک اہم سفارتی شخصیت سے وضاحت کی توقع کی جا رہی تھی۔

مزید : اداریہ