ڈیم بنا کر سیلاب سے تحفظ اور توانائی کی کمی کو پورا کیا جا سکتاہے

ڈیم بنا کر سیلاب سے تحفظ اور توانائی کی کمی کو پورا کیا جا سکتاہے

                                  لاہور (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے سیلاب سے بچنے کےلئے ملک میں نیے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ اس سے ایک طرف تو ملک کو بڑے نقصان سے بچاےا جا سکتا ہے جبکہ دوسری طرف اس پانی کو توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ فصلوں کے لئے استعمال کیاجاسکتاہے، کچھ صوبوںکو ڈیمز کی تعمیر پر تحفظات ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر ڈیمز کی تعمیر کےلئے قومی سوچ کو اولین ترجیح دی جائے ۔ وہ پیرکے روز مقامی ہوٹل میں 48ویں سالانہ کنونشن آف پاکستان سوسائٹی آف شوگر ٹیکنالوجسٹس کی افتتاحی تقریب سے خطاب اورمیڈیا سے گفتگو کررہے تھے اس موقع پر پاکستان سوسائٹی آف شوگر ٹیکنالوجسٹس کے صدر انجینئر مراد اے بھٹی بھی موجود تھے ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ سیلاب ختم ہونے کے بعد فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایاجاسکتاہے۔انہوںنے کہاکہ حالیہ سیلاب سے گنے کی فصل کو کم نقصان پہنچاہے اگر سیلاب کارخ جنوبی پنجاب کی طرف ہوگیاتو کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچ سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پانی اور بجلی کی کمی کسان کے لئے نقصان دہ ہے، ملک میںسیلاب کا پانی ذخیرہ کرکے ڈیمز بناکر توانائی کی کمی کو پوراکیاجاسکتاہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہی پانی فصلوں کے لئے استعمال کیاجاسکتاہے۔انہوںنے کہاکہ ڈیم نہ ہونے کی وجہ سیلاب کا پانی سمندر کی نذر ہوجاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ ہماری شوگر انڈسٹری ایک روشن تاریخ کی حامل ہے۔1947ءمیں ملک میں شوگر ملوں کی تعداد 2تھی جو کہ اب 84ہوگئی ہے اور ملک میں 99.08فیصد چینی گنے کی فصل سے پیداکی جاتی ہے ۔انہوںنے کہ وزرات فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ گنے کی فی ایکٹر پیداوار بڑھانے کےلئے اقدامات کررہی ہے اور گذشتہ عشروں کے دوران کئی ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں جس کی بدولت پاکستان میں اوسط پیداوار 57ٹن فی ہیکٹر تک جاپہنچی ہے۔وفاقی وزیر نے گنے کی تحقیق کے اداروں کے سائنسدانوں اور شوگر انڈسٹری کے ورکرزکو اس کاوش پرمبارک باد پیش کی اور اس بات پر زور دیاکہ سائنسدانوںکو بین الااقوامی اہداف کے حصول کےلئے اپنی کوششیںجاری رکھنی چاہیئں۔انہوںنے کہاکہ ہر سال 200ارب روپے سے زائد کی گنے کی فصل پیداہوتی جو شوگر ملوںکو سپلائی کی جاتی ہے۔

ملک میں گنے کی بمپر فصل ہونے کی وجہ سے پاکستان میں چینی کی پیداوار سرپلس ہوچکی ہے اور ہمارا ملک چینی برآمد کرنے والا ملک بن چکاہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ گنے کے کاشتکاروں اور شوگرملوںکے درمیان روابط کا فقدان ہے جبکہ کسان ادائیگیوںمیں تاخیر اور گنے کی کٹوتی کی وجہ سے مسائل کا شکارہوتے ہیں ایسی صورتحال میں مڈل مین دونوں سٹیک ہولڈرزسے فائدہ اٹھاتاہے جس سے نہ صرف شوگر انڈسٹر ی کو نقصان پہنچتاہے بلکہ پوری معیشت متاثرپر اثرات مرتب ہوتے ہیں، شوگرانڈسٹری سے مڈل مین کے کردار کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوںنے اس بات پربھی زور دیاکہ پاکستان سوسائٹی آف شوگر ٹیکنالوجسٹس اور شوگر انڈسٹری کو اکٹھے بیٹھ کر اس بات کا حل نکالنا چاہیے کہ گنے کی قیمتوں کو ریکوری کے ساتھ منسلک کیا جائے یا اس سلسلہ میں دیگر آپشن استعمال کئے جائیں ۔گنے کی قیمتیں مقرر کئے جانے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ وفاقی حکومت کی طرف سے گنے کی قیمتیں مقررکرنے کا اختیار صوبائی حکومت کو دے دیاگیاہے۔انہوںنے کہاکہ گنے کی فی ایکٹر پیداوار بڑھانے کےلئے ماضی میں شوگر کین بریڈنگ سٹیشن کے قیام کی ضرورت پر زور دیاگیاہے اور ہمارا موقف اب بھی وہی ہے ۔   

مزید : کامرس