سیلاب زدہ علاقوں میں ڈاکٹروں سمیت میڈیکل کے طلبہ کی خدمات لینے کا فیصلہ

سیلاب زدہ علاقوں میں ڈاکٹروں سمیت میڈیکل کے طلبہ کی خدمات لینے کا فیصلہ

                               لاہور(محمد نواز سنگرا//انویسٹی گیشن سیل)محکمہ صحت نے سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریوں سے نمٹنے کےلئے میڈیکل کالجوں کے ڈاکٹروں اور طلباﺅ طالبات کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔کالجوں سے لئے جانیوالے ڈاکٹرز اور سٹوڈنٹس موبائل وین میں مختلف مقامات پر جا کر مریضوں کے علاج معالجہ اور حفاظتی ویکسین لگائیں گے جبکہ پنجاب بھر میں انتظامیہ کیطرف سے ریلیف کیمپ میں بھی مریضوں کی دیکھ بھال کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔پنجاب بھر میں بارشوں اور سیلاب کی پیش نظر مہلک بیماریوں کے پھیلنے کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کےلئے محکمہ صحت نے سنئیر ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ میڈکل کالجوں کے طلباءو طالبات کی خدمات بھی لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا بروقت علاج کیا جا سکے۔محکمہ ہیلتھ نے میڈیکل کالجوں کے پرنسپلز کا خط لکھ دیا ہے کہ وہ قریب ترین علاقوں میں سیلاب اور بارشوں کے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کےلئے ڈاکٹروں اور طلباءکی خدمات پیش کریں تاکہ مہلک بیماریوں کیوجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کو کنٹرول اور لوگ کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔میڈیکل کالجوں سے لیا جانیوالے عملہ کسی مخصوص مقام کی بجائے موبائل وین پر مختلف مقامات پر جا کر لوگوں کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کریں گے ۔ موبائل وینز پر محکمہ ہیلتھ کا عملہ دور دراز کے مقامات پر جا کر لوگوں کو حفاظتی ویکسین لگانے کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی انتظامات بھی کریں گے ۔میڈیکل کالجز کے ڈاکٹرز قریب ترین علاقوں میں خدمات فراہم کریں گے جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی چھٹیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔حکومت پنجاب نے پہلے بھی سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو ریلیف دینے کےلئے کیمپ لگا رکھے ہیں جہاں پر لوگوں کو خوراک ،علاج معالجہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ ہر ضلعے میں 30سے 40ریلیف کیمپ لگائے جا رہے ہیں جس کا کنٹرول ای ڈی ہیلتھ کے ذمہ ہے جو ڈی جی ہیلتھ پنجاب کو بھی رپورٹ کر رہے ہیں اور مختلف ادویات لے رہے ہیں تاکہ لوگوں کو بہتر سے بہتر علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

طلبہ خدمات

مزید : صفحہ آخر