نئی دہلی،دنیا کا وہ انوکھا اخبار جسے گلی کے بچے چلاتے ہیں

نئی دہلی،دنیا کا وہ انوکھا اخبار جسے گلی کے بچے چلاتے ہیں
نئی دہلی،دنیا کا وہ انوکھا اخبار جسے گلی کے بچے چلاتے ہیں

  

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) دنیا کے دیگر شہروں کی طرح دہلی میں بھی کچی آبادیوں اور جگیوں پر مشتمل بستیوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور اسی آبادی کو ترقی کے منصوبوں اور بجٹ کی تقسیم بری طرح نظر انداز بھی کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں کے بچوں کو جنسی تشدد، منشیات سے مقابلہ اور پولیس کی زیادتی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ’چیتنا‘ کی کوششوں سے اب یہ بچے صحافی اور فیچر رائٹر بن چکے ہیں جو سہہ نامے ”بالک نامہ“ میں اپنی مشکلات اور درپیش چیلنجز کو مضامین کی شکل میں بیان کرتے ہیں، ان میں سے اکثر بچے روزی کمانے کے لئے گاڑیاں دھوتے ہیں، ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں، کوڑا اٹھاتے ہیں یا اس طرح کے دیگر کام کرتے ہیں۔’بالک نامہ‘ کی چیف ایڈیٹر 16 سالہ لڑکی چاندنی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ان بچوں کی آواز ہے جن کی اس سے قبل معاشرے میں کوئی نہیں سنتا تھا۔ اب جھگیوں میں مقیم بچوں کو اخباری تحریر لکھنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور ”بالک نامہ“ کے ذریعے یہ اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچاسکتے ہیں۔ اس اخبار کی قیمت ایک بھارتی روپیہ ہے، کہا گیا ہے کہ 2017ئ تک بھارت میں 10 کروڑ سے زائد افراد جھگیوں میں رہ رہے ہوں گے۔

مزید : صفحہ آخر