سانحہ روالپنڈی ،جسٹس مامون پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی انکوائری تاخیر کا شکار ہو گئی

سانحہ روالپنڈی ،جسٹس مامون پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی انکوائری تاخیر کا شکار ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سانحہ روالپنڈی کی تحقیقات کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس مامون رشید شیخ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی انکوائری تاخیر کا شکار ہو گئی، جوڈیشل کمیشن نے ساڑھے 9 ماہ میں ڈی سی او، سی پی او اور وزیر اعلیٰ کے سٹاف افسر سمیت 142افراد کے بیانات قلمبند کر لئے حکومت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے نومبر 2013ءمیں روالپنڈی میں مذہبی فسادات کی تحقیقات کیلئے جسٹس مامون رشید کی سربراہی میں 18نومبر کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا جو ساڑھے <9 ماہ گزرنے کے باوجود بھی اپنی انکوائری مکمل نہیں کر سکا، کمیشن کے ذرائع کے مطابق اب تک روالپنڈی کے ڈی سی او ساجد ظفر، سی پی او بلال صدیق کمیانہ اور وزیر اعلی پنجاب کے سٹاف افسر محمد علی سمیت 142سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کئے جا چکے ہیں ، ذرائع کے مطابق مسٹرجسٹس مامون رشید شیخ کی عدالتی امور میں مصروفیت اور ناساز طبیعت کے باعث جوڈیشل کمیشن کی انکوائری تاخیر کا شکار ہو رہی ہے ، ذرائع نے دعوی کیا کہ آئندہ 2 ماہ میں سانحہ راولپنڈی کی جوڈیشل انکوائری مکمل کر لی جائیگی۔

مزید : علاقائی